191

نظریہ پاکستا ن کی حفاظت اسلامی و خوشحال پاکستان بنانے کے لیے دینی جماعتوں کا اتحاد ناگزیرہے،سینیٹر سراج الحق

کراچی(پاکستان اپ ڈیٹس )امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق نے کہا ہے کہ نظریہ پاکستا ن کی حفاظت اور اسلامی و خوشحال پاکستان بنانے کے لیے دینی جماعتوں کا اتحاد ناگزیر ہے،ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کی دینی جماعتوں کو اکٹھا کیا جائے،وارثین منبر و محراب کو یکجا کیا جائے دینی جماعتیں حقیقی سیاسی قیادت بن کر سامنے آئے ،سیکولر جماعتوں نے پاکستان میں بد امنی و بے روزگاری ، عریانی و فحاشی کو عام کیا ، سیکولر قیادت کی وجہ سے ہی پاکستان بین الاقوامی ایجنسیوں کا اصطبل بن گیا ہے ، یہ سیکولر قیادت بکنے والے ہیں ، سینٹ الیکشن میں پورا پوا اصطبل فروخت ہوگیا لیکن اللہ کا شکر ہے کہ جس نے جماعت اسلامی کے کارکنان کواس بدنما داغ سے محفوظ رکھا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ دارالسلام گزری میں سالانہ تقریب ختم بخاری شریف سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبد الحق ہاشمی، امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی ، امیر کراچی حافظ نعیم الرحمن ، مہتمم جامعہ حاجی ولی محمد اور دیگرنے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اسد اللہ بھٹو ،نائب امیر صوبہ سندھ محمد حسین محنتی ، سکریٹری کراچی عبد الوہاب ، شیخ الحدیث مولانا امین اللہ ، نائب اشیخ الحدیث مولانا سمیع اللہ ، ناظم اعلیٰ جمعیت اتحاد العماءکراچی مولانا عبد الوحید ،نائب صدر جمعیت اتحاد العلماءکراچی مفتی ضیاءالرحمن فاروقی ، ناظم جامعہ داراسلام گزری مولانامحمد عالم اور دیگر بھی موجود تھے ۔سراج الحق نے کہا کہ میرے لیے میری زندگی کا سب سے زیادہ خوشی کا موقع ہے کہ میں نے اپنے ہاتھوں سے طلبای کی دستار بندی کی۔یہ وہ طلباءہے جنہوں نے درس نظامی کا کورس مکمل کیا اور اس ذمہ داری کو پورا کیاجو اللہ کی طرف سے ہے اور انہیں علماءکرام نے ظلم کے خلاف جہاد کرنا ہے ، منکرات کے خلاف جہاد کرنا ہے ، بدعات کے خلاف جہاد کرنا ہے ، دجال اور دجالی تہذیب کے خلاف جہاد کرنا ہے ، یہ آزمائشوں م امتحانات ، فکر وقاقہ اور جیل اور قید خانوں کا راستی ہے ، یہ وہ راستہ ہے بدر م حنین کے معرکے بھی ہیں ، زمانے کے اس چیلنج کو قبول کرنا ہے ان کا نعرہ یہ ہے کہ یہاں صرف اور صرف اللہ کا حکم چلے گا ۔ یہ توحید کا نعرہ ہے ، یہ عشق و جدون کا نعرہ ہے اور اس راستہ میں جب کوئی مرتا ہے تو شہید کہلاتا ہے ۔ یہ عزیمتوں کا راستہ جنت اور کامیابی کا راستہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں باطل سیاست کا خاتمہ کرنا ہے، بین الاقوامی دجالوں کے نمائندوں کا مقابلہ کرنا ہے اس لیے مشکل راستہ کا انتخام اللہ کی مرضی سے آپ نے خود کیا ہے اور اب اس راستے میں ڈٹ جانا ہوگا جب تک اللہ کا دین غالب نہ ہوجائے ۔انہوں نے کہا کہ آج کے مفضلین خوش نصیب ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے لاکھوں کروڑوں لوگوں میں سے آپ کو منتخب کیا ہے اور اس سے بھی زیادہ خوش نصیب ہیں جن کے بچوں نے درس نطامی کا کورس مکمل کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا تعلق چاہے کسی بھی صوبے سے ہوں ہمیں پورے پاکستان میں اسلامی حکومت قائم کرنا ہے ، اللہ کے دین کو غالب کرنا ہے ، آ ج دنیا کفر مدارس ، علماے کرام ، ممبر و مدارس سے ڈرتے ہیں ، انگریزوں نے سب سے پہلے مدارس حملہ کیا ۔نائن الیون کا واقعہ کے 15منٹ بعد ہی اسلامی مدارس کے نصاب کی تبدیلی کی بات شروع کی گئی ہے اور ڈکٹیٹر نے ہمارے نصاب سے سورہ توبہ اور سورہ انفال کو نکالا اور یہ ایسی نسل تیار کرنا چاہتے ہیںکہ جو صرف برائے نام مسلمان ہوں،وہ محمد بن قاسم بننے کے بجائے فن کاربننے پر خوشی کا اظہار کرے لیکن میں مبارکباد پیش کرتا ہوں ان مہتمین کو جنہوں نے مدارس قائم کیے اور لاکھوں افراد کے لیے دین کو عام کیا اور کفار کی سازش کو ناکام کیا ۔انہوں نے کہا کہ آج سب سے بڑی طاقت علماءکرام ، دینی مدارس کے طلباءہیں ، مساجد مین روزاہن کروروں لوگ نماز پڑھتے ہیں لیکن ان سب کے باوجود عریانی و فحاشی میں اضافہ ہورہا ہے ۔8سال کی بچی بھی درندوں سے محفوظ نہیں رہی ، اسکول کے طلباءطالبات بھی ظلم و وحشت بربریت کا نشانہ بنے جارہے ہیں اس کی بنیادی وجہ ہم دینی لوگ تقسیم در تقسیم ہیں ، دشمن نے پاکستان کو رنگ ونسل کی بنیاد پر تقسیم کیا اسی طرح دجالی قوتوں نے دینی مدارس کے لوگوں کو تقسیم کیا ہے ۔ سب سے بڑا ظلم اس ملک میں یہ ہوا ہے کہ اس امت کو تفرقات میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ غرناطہ میں دینی مدارس تقسیم ہونے کہ وجہ سے تباہ وبرباد ہوگیا تھا آج بھی وہی صورتحال ہے دینی مدارس کو تقسیم کیا جارہا ہے اور مسلمانوں کو آپس میں لڑوایا جارہا ہے تاکہ پاکستان کی صورتحال بھی غرناطہ جیسی ہوجائے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ سوسائٹی کے بڑوں نے ہمیشہ کفار کا ساتھ دیا ہے لیکن سوسائٹی کے مولویوں نے ہمیشہ دین کا ساتھ دیا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں