206

متحدہ مجلس عمل بحال، مولانا فضل الرحمان صدر،لیاقت بلوچ سیکرٹری منتخب

کراچی (پاکستان اپ ڈیٹس ) کراچی میں جمعیت العلمائے اسلام کی میزبانی میں متحدہ مجلس عمل کے سربراہی اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کومجلس عمل کا صدر اور جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ کومجلس عمل کا مرکزی سیکریٹری جنرل بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔مجلس عمل میں شامل جماعتوں کے سربراہوں نے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں ان فیصلوں کا اعلان کیا۔ مرکزی سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے فیصلوں سے میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمن متحدہ مجلس عمل کے صدر ، جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ ایم ایم کے سیکرٹری جنرل ، جمعیت علمائے پاکستان کے صدر پیر اعجاز ہاشمی ، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ، اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ ساجد نقوی اور مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر پروفیسر ساجد میر نائب صدور ، جمعیت علمائے پاکستان کے سیکرٹری جنرل شاہ اویس نورانی سیکرٹری اطلاعات ، جمعیت علمائے اسلام کے مولانا عبدالغفور حیدری ، جمعیت علمائے پاکستان کے محمد خان لغاری ، مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے شفیق پسروری اور اسلامی تحریک پاکستان کے علامہ عارف حسین وحیدی ڈپٹی سیکرٹری جنرل جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کے علامہ شبیر میثمی مرکزی سیکرٹری مالیات ہوں گے۔ ان کی سربراہی میں مالیات کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جبکہ پروفیسر علامہ ساجد میر کی سربراہی میں منشور کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ لیاقت بلوچ نے اعلان کیا کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں مرکزی کنونشن ہو گا ، جس میں منشور اور آئندہ کی حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا۔مجلس عمل کے صدر مولانا فضل الرحمن نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ عام انتخابات متحدہ مجلس عمل کے ایک ہی پلیٹ فارم سے ، ایک منشور ، ایک نشان ، ایک جھنڈے اور ایک دستور کے تحت لڑا جائے گا۔ دستور کے مطابق دیگر جماعتوں سے انتخابی مفاہمت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے دروازے کھلے رکھے جائیں گے۔ مجلس عمل اپنی تمام توانائیاں ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ ، قومی مسائل کے حل ، اقلیتی اور محروم طبقوں سمیت تمام کے حقوق کا تحفظ اور ملک میں عوامی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری قوم کو ایم ایم اے کی بحالی پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ قومی سطح پر اس کی طلب اور آرزو محسوس کی جا رہی تھی جو آج پوری ہوئی ہے۔ 2002ءکی طرح تمام جماعتیں آج ایک منشور ، ایک دستور ، ایک نشان ، ایک جھنڈے اور ایک نصب العین کے تحت متحد ہیں۔ ہماری کوشش ہو گی کہ قوم کی آرزوں اور خواہشات پر پورا اتریں۔انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا میں مسلمان مسائل کا شکارہیں۔ ہمیں مظلوموں کی آواز بھی بننا ہے۔ ہم ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے لڑیں گے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ تمام فیصلے باہمی مشاوت سے ہوں گے اور دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں سے انتخابی مفاہمت کے دروازے کھلے ہیں۔ اس کی پالیسی پہلے سے واضح ہے ، جو 2002 میں اختیار کی گئی تھی۔ دیگر مذہبی جماعتیں یا گروپ پہلے بھی موجود تھے۔ ان سے مفاہمت کے لیے رابطہ کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ حکومتوں سے الگ ہونے کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ماضی اور حال ہی میں حکومتوں میں ہوتے ہوئے بھی ہم سب نے قانون سازی سمیت مختلف ایشوز پر نہ صرف ایک حکمت عملی اختیار کی بلکہ حکومتوں کے خلاف بھی گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ طے شدہ بات ہے کہ تمام جماعتیں جلد حکومتوں سے اپنے اپنے راستے الگ کریں گی۔ ہم قومی وحدت اور امت وحدت پر یقین رکھتے ہیں۔ آئندہ عام انتخابات میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں کی تقسیم کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہاکہ ایم ایم اے کے دستور کے مطابق اس کا پورا فارمولا طے ہے اور اسی پر عمل ہو گا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک خوش حال پاکستان چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ قوم اسٹیٹس کو سے باہر نکلے جس سے شدید مایوسی ہے۔ ہم اعلی اداروں میں عام لوگوں کے لیے دروازے کھولنا چاہتے ہیں۔ مدینہ کی ریاست ہمارے لیے رول ماڈل ہے اور نظام خلافت ہمارا مشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ان مشکلات کا بھی اندازہ ہے۔ جس میں ہمارے خلاف ملک کے اندر اور ملک کے باہر بھی سازشیں ہوں گی۔ملکی سیاست پر قابض سازشی قوتیں مذہبی قوتوں کو سامنے آتا ہوا نہیں دیکھ سکتیں۔ انہوں نے اپیل کی ہے کہ تمام امن پسند اور جمہوری لوگ متحدہ مجلس عمل کے ساتھ کھڑے ہوں اور تعاون کریں۔ قوم کو تقسیم در تقسیم کرنے کی ہر سازش کو ناکام اور انتشار کی ہر کوشش کو ناکام بنائیں گے۔ علامہ ساجد میر نے کہا کہ آج متحد ہ مجلس عمل کا نئے سفر کا آغاز کراچی سے ہوا ہے۔ اس سے قبل رسمی اعلان بھی کراچی میں ہوا تھا۔ تمام فیصلے اتفاق رائے سے ہوئے۔ پیر اعجاز ہاشمی نے کہاکہ تمام مسائل کا حل نظام مصطفی ہے۔ متحدہ مجلس عمل ایک قوم کے ساتھ ساتھ ایک امت مسلمہ کے تصور کو بھی آگے لے کر بڑھے گی۔ علامہ عارف حسین وحیدی نے کہاکہ ملک کی خدمت اور فرقہ وارانہ انتشار کے خاتمے کے لیے ہم سب مل بیٹھیں گے۔اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمن ، جماعت اسلامی کے سراج الحق ، لیاقت بلوچ ، پروفیسر ابراہیم ،جے یو آئی کے مولانا امجد خان ، مولانا اکرم درانی ، جمعیت علمائے پاکستان کے پیر اعجاز ہاشمی ، اویس نورانی ، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے علامہ ساجد میر ، ابتسام الٰہی ظہیر ، اسلامی تحریک پاکستان کے علامہ عارف حسین وحیدی ، علامہ شبیر میثمی اور دیگر نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں