192

بھارت نے امن داﺅ پر لگا دیا‘ دوستی کی خواہش کو کمزوری سمجھنا غلطی ہو گی.بھارت مسئلہ کشمیر کو پرامن طریقے سے حل کرے : صدر ممنون

اسلام آباد (پاکستان اپ ڈیٹس ) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ امن کیلئے خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ بھارت مسئلہ کشمیر کو پرامن طریقے سے حل کرے۔ طاقت کے زور سے کسی مخصوص ملک کو جھکایا نہیں جا سکتا اور نہ دنیا اب کسی ایک سیاسی طاقت کے تابع ہے۔یہ امرباعث اطمینان ہے کہ ملک کے جمہوری ادارے فعال ہیں اور آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ دو منتخب جمہوری حکومتیں بھی اپنی مدت پوری کرنے میں کامیاب رہی ہیں، کچھ امور میں بعض طبقات کے اگرکچھ تحفظات ہیں تو ضروری ہے کہ ان پر فوری توجہ دی جائے ۔ تخریبی حربوں کے ذریعہ پاکستان کے ہمسائے نے علاقائی امن کو خطرے سے دوچار کردیا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے تحت استصواب رائے کے ذریعے کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی دنیا میں مستقل امن اور عدم مداخلت کے اصولوں پر مبنی ہے۔پاکستانی فوجیوں نے اقوام متحدہ کی چھتری تلے قیام امن کےلئے تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے افغانستان میں بھی امن و استحکام کےلئے اہم کردارادا کیا۔ یوم پاکستان پر خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ 23مارچ1940ءکو ہمارے بزرگوں نے ایک ایسا جدید، مضبوط اور جمہوری ملک بنانے کا عزم کیا تھا جہاں کوئی کسی پر ظلم نہ کر سکے اور نہ ہی کسی کا استحصال کیا جا سکے۔ یہ شاندار پریڈ ہمارے خوابوں ہی کی ایک حسین تعبیر ہے۔ سری لنکا کے صدر میتھری پالا سری سینا بھی خصوصی طور پرپاکستان تشریف لائے ہیں جس پر پوری پاکستانی قوم انہیں خوش آمدید کہتی ہے۔ عالمی امن و سلامتی کے لئے ہماری دوستی اور تعاون آنے والے دنوں میں مزید پھلے پھولے گا اور یہی ہماری خارجہ پالیسی کی بنیاد بھی ہے لہٰذا ہم خطے میں امن اور ترقی کے مخالفین کو خیرسگالی کا پیغام دینا ضروری سمجھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ہماری امن دوستی کی خواہش کو کمزوری سمجھنا خطرناک غلطی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ عہد پر امن بقائے باہمی کے اصولوں کے مطابق ایک دوسرے کے جائز مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کا تقاضا کرتا ہے، اس کے برعکس کسی قوم یا ملک پر اس کی مرضی کے خلاف بالادستی قائم کرنے کی ضد عالمی امن کوتباہ کر سکتی ہے۔صدرمملکت نے کہا کہ مشرق میں ہمارا ہمسایہ بھارت اپنی فوجی قوت میںمسلسل اضافہ کر رہا ہے، لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باﺅنڈری پر جارحیت کے ذریعے بے گناہ شہریوں کے جان و مال کا نقصان کیا جا رہا ہے۔ صدر نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری خالصتاً مقامی تحریک آزادی پر ظلم کے پہاڑ توڑنا بند کرے کیونکہ آزادی کی تحریکوں کو طاقت کے زور سے دبایا نہیںجا سکتا۔ صدر مملکت نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور جنگ وجدل نے علاقے کا امن و استحکام تباہ کر دیا ہے جس سے پاکستان بھی متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم اور افواج پاکستان نے آپریشن ضرب عضب اور رد الفسادجیسی کارروائیوںکے ذریعے اس چیلنج کا مقابلہ پورے عزم و ہمت سے کیا ہے اور قوم اس جدوجہد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ پروقار پریڈ کے شاندار انعقاد پر پریڈکمانڈر، شرکائ، مقامی انتظامیہ اور ضلعی حکومت کو شاباش دی۔ انہوں نے اپنے بہادر افسروں اور جوانوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک و ملت کی حفاظت و سلامتی کے لئے بہادری، نیک نیتی اور ایمان داری کے ساتھ اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں اور اس مقدس فریضے کی ادائیگی میں وہ ہر ہم وطن کو اپنے شانہ بشانہ پائیں گے۔ بھارت کو خبردار کرتے ہیں بھارت کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے کیلئے ظلم بند کرے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے اور افغانستان میں امن کیلئے ٹیک ہولڈرز مل کر کردار ادا کرتے رہیں گے۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پریڈ کے شاندار انعقاد پر میں اس کے کمانڈر‘ شرکاءمقامی انتظامیہ اور ضلعی حکومت کو شاباش دیتا ہوں۔ میں اپنے بہادر افسروں اور جوانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ملک و ملت کی حفاظت و سلامتی کے لئے بہادری‘ نیک نیتی اور ایماندار کے ساتھ اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں۔ اس مقصد فریضہ کی ادائیگی میں وہ ہر ہم وطن کو اپنے شانہ بشانہ پائیں گے۔ پریڈ کے موقع پر سخت سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے تھے۔ اسلام آباد کے کئی علاقوں میں موبائل فون سروس جزوی طور پر معطل رہی۔
صدر ممنون

اسلام آباد (پاکستان اپ ڈیٹس ) 78ویں یوم پاکستان کے موقع پر مسلح افواج کی مشترکہ پریڈ میں پاکستان کی فوجی طاقت، عسکری مہارت اور قومی یکجہتی کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا۔ صدر ممنون حسین مہمان خصوصی تھے۔ سری لنکا کے صدر متھری پالا سری سینا اور مصر کے مفتی اعظم نے خصوصی طور پر پریڈ میں شرکت کی۔ بھارت کی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین کو تہس نہس کرنے والے بیلسٹک ”نصر میزائل سسٹم“ بابر کروز میزائل سسٹم، ٹھوس ایندھن سے چلنے والے شاہین اول، شاہین دوم، بھارت کے ہر کونے کو نشانہ بنانے کی استعداد رکھنے والے شاہین سوم میزائل سسٹم، شہپر اور براق ڈرون طیاروں، آرمی ایوی ایشن اور بحریہ ایوی ایشن کے 15کوبرا، ایم آئی 17، پیونک ہیلی کاپٹروں پر مشتمل دستے پریڈ کا اہم حصہ تھے۔ فضائیہ کے ایف 16‘ جے ایف 17 تھنڈر اور میراج طیاروں کے فلائی پاسٹ اور ہوابازوں کی مہارت اور شیردل فارمیشن نے میلہ لوٹ لیا۔ فوجی پریڈ میں شریک غیر ملکی سفارت کاروں اور دفاعی اتاشیوں نے بغور فوجی مظاہرے کو دیکھا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل مجاہد انور، پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی، وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان، اراکین پارلیمنٹ ‘غیر ملکی مندوبین‘ سفیروں‘ ہائی کمشنروں، ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور فنکاروں کے علاوہ عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پہلی مرتبہ متحدہ عرب امارات کے دستے، اردن کے ملٹری بینڈ، پیرا شوٹرز، ترکی ایئر فورس کے دستے نے اپنے اپنے ممالک کی نمائندگی کی۔ کمانڈوز دستوں ”ایس ایس جی“ کے سربراہ میجر جنرل طاہر مسعود بھٹہ نے فری فال جمپنگ کی قیادت کی۔ صدر کی آمد کا اعلان بگل بجا کر کیا گیا۔ سلامی کے چبوترے پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سری لنکا کے صدر متھری پالا سری سینا، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے صدر مملکت کا استقبال کیا جس کے بعد قومی ترانہ بجایا گیا۔ صدر مملکت نے پریڈ کمانڈر بریگیڈیئر عامر امین کے ہمراہ پریڈ میں شامل فوجی و نیم فوجی دستوں، پاکستان پولیس، ٹرائی سروسز لیڈیز‘ آرمڈ فورسز لیڈز آفیسرز ‘ بوائز سکاﺅٹس، گرلز گائیڈ اور ٹرائی سروسز سپیشل گروپ کے دستوں کا معائنہ کیا جس کے بعد پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے طیاروں کا شاندار فلائی پاسٹ ہوا جس میں جے ایف 17 تھنڈر اور ایف 16 ، میراج، پی تھری سی اورین، ایف سیون، پی جی سیون، قراقرم ایگل، سیپ 2000، کے ای تھری اواکس سمیت مختلف جنگی اور لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا۔ فضائی مارچ پاسٹ کی قیادت پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل مجاہد انور نے کی۔ پاک فضائیہ اور بحریہ کے طیاروں نے صدر کو سلامی دی۔ پاک فوج کے سپیشل سروسز گروپ کے دستے نے بھی اپنے مخصوص انداز میں پریڈ کرتے ہوئے صدر مملکت کو سلامی دی۔ آرمڈکور کا دستہ الخالد ٹینک، ٹی اے ٹی یو ڈی ٹینک، الضرار ٹینکوں پر مشتمل تھا۔ آرٹلری کے بکتر بند، اے پی سیز، آرمی ایئر ڈیفنس، میزائل اور ٹریکنگ رڈار سسٹم سے لیس ایف ایم 90 ، کور آف انجینئرنگ، کور آف سگنلز کے دستوں نے بھی صدر مملکت کو سلامی دی۔ دس ہزار فٹ کی بلندی سے فری فال کا مظاہرہ کیا گیا۔ صدر مملکت نے فرداً فرداً تمام پیرا شوٹرز سے مصافحہ کیا۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں اور وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے خصوصی فلوٹس، پاک بحریہ کے ہوور کرافٹ اور پاکستان رینجرز پنجاب کے اونٹوں پر سوار دستے نے بھی صدر کو سلامی پیش کی۔ تقریب کے اختتام پربچوں نے قومی ملی نغمے پیش کئے۔ بوائز سکاﺅٹس، گرلز گائیڈ، پنجاب اور سندھ رینجرز، ایف سی خیبر پختونخوا، پاکستان آرمی سگنل اور انجنیئرنگ کے دستے بھی پریڈ کا حصہ بنے۔ انفنٹری کی مختلف رجمنٹس کے دستے، میکنائزڈ انفنٹری، آرمڈ کور، ایس پی ڈی کے تحت مختلف رینج کے میزائل بھی پریڈ میں شامل کئے گئے۔ میزائل دستوں میں غزنوی، ابدالی، نصر اور کروز میزائل بھی شامل کئے گئے۔ یوم پاکستان کی مرکزی تقریب میں تمام صوبوں کی ثقافت کے رنگ نظر آئے، پریڈ میں فلوٹس پر علاقائی رقص نے سماں باندھ دیا۔ تقریب میں تمام صوبوں کے فلوٹس نے معزز مہمانوں کو سلامی پیش کی۔ سب سے پہلے آزاد کشمیر کے فلوٹ نے کشمیری ثقافت کو اجاگر کیا گیا۔ بلوچستان کا فلوٹ بھی سب کی توجہ کا مرکز بنا رہا جس پر سی پیک کا خاکہ نمایاں تھا، اس موقع پر بلوچی فنکاروں نے بھی فن کا مظاہرہ کیا۔ خیبر پی کے کے فلوٹ پر فنکاروں نے خٹک ڈانس پیش کیا۔ پنجاب کے فلوٹ پر صوبے کی ثفاقت کی بھرپور ترجمانی کی گئی۔ وادی مہران کا فلوٹ بھی نمایاں تھا۔ گلگت بلتستان کی ثقافت بھی بھرپور طریقے سے پیش کی گئی۔ پہلی بار بھارتی دفاعی اتاشی کو پریڈ میں مدعو کیا گیا تھا۔ انڈین وفد میں فوجی افسر بھی شریک ہوئے اور انہوں نے پوری پریڈ دیکھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں