191

جو قوم اس بات کو جانتی ہے اسے منقسم سمجھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں: آفاق احمد

کراچی(پاکستان اپ ڈیٹس )چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ پاکستان جناب آفاق احمد نے شاہ فیصل کالونی میں مہاجر مشاورتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہاجر قوم کبھی منقسم نہیں رہی۔ آج اگر یہ کہا جائے کہ متحدہ لندن بن گئی، پی آئی بی بن گئی، بہادرآباد بن گئی یا پی ایس پی بن گئی تو قوم تقسیم ہوگئی تو یہ غلط ہے ، مہاجر قوم نہ پہلے تقسیم تھی نہ آج تقسیم ہے اور نہ ہی کبھی تقسیم ہوگی کیونکہ قوم کوپتہ ہے کہ اکثریت کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیشہ اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے ۔جو قوم اس بات کو جانتی ہے اسے منقسم سمجھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ آفاق احمد نے کہا کہ آج الطاف کو جو لوگ ملک دشمن کہتے ہیں انہیں یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ ہم نے تو اسے 1991میں ملک دشمن کہا تھا اور اسکے خلاف اس وقت علم بغاوت بلند کیا جب وہ اپنے جوبن پر تھا۔ آج جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے الطاف کی ملک دشمنی ثابت کی تو میں ان سے پوچھتا ہوں کہ کیا الطاف نے آج ملک سے دشمنی کی؟ کیا ان لوگوں کو الطاف حسین کی 2008میں بھارت میں کی گئی تقریر یاد نہیں ؟ آج الطاف کو ایکسپوز کرنے کے دعوے کرنے والے 2008سے دو سے پہلے تک اس کے ساتھ کیوں رہے؟۔اپنے خطاب میں آفاق احمد نے کہا کہ آج فاروق ستار جس حب الوطنی کے دعوے کررہے ہیں وہ22اگست 2016میں کہاں تھی کہ جس وقت ARYپر حملہ اور پریس کلب پر پاکستان مردہ باد کے نعرے لگائے جارہے تھے۔آفاق احمد نے کہا کہ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ چاہے کوئی مجھے کتنا ہی ناپسند کرے میں اپنی قوم کے فیصلے اپنی قوم سے مشاور ت سے کرتا ہوں اور ہمیشہ کروں گا ، میں ایسے لوگوں کو کبھی مہاجر لیڈر نہیں سمجھ سکتا جو چند لوگوں اور اداروں کی فرمائش پر اپنی لگامیں انکے سپرد کرچکے ہیں اور چھوٹے چھوٹے فائدے کیلئے ایوان بالا و زیریں میں مہاجروں کی جگ ہنسائی کا سبب بنتے رہے ہیں۔ اپنے خطاب میں آفاق احمد نے کہا کہ جن ماﺅں نے مہاجر تحریک کیلئے اپنے بیٹے قربان کئے میں ان سے پوچھتا ہوں کہ جب کوئی ہمیں نئے سندھی بننے کی تلقین کرتا ہے تو تکلیف نہیں ہوتی؟ آج جو لوگ کہتے ہیں کہ مہاجر کچھ نہیں ہوتا میں اپنی قوم سے پوچھتا ہوں کہ ایسے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے والے مہاجروں کے ہمدرد ہوسکتے ہیں؟۔ ایک منظم سازش کے تحت میری قوم کو دوسرے درجے کے شہرے بنانے کی کوشش کی گئی اور بار بار یہ طعنے دیئے جاتے ہیں کہ ہم نے مہاجروں کو پناہ دی تو میں ان تمام لوگوں کو بتادینا چاہتا ہوں کہ ہم اپنے باپ دادا کے بنائے ملک میں آئے تھے ، ہمیں نہ کسی نے پناہ دی نہ ہمیں سہارا دیا۔ سہارا تو ہم نے سندھ کے لوگوں کو دیا ! کیونکہ یہ مہاجر ہی ہیں جنہوں نے پورے ملک کو پالنے والے وسائل پیدا کئے اور کراچی کو ستر فیصد ریوینیو دینے والا ملک بنا دیا۔ اپنے خطاب میں آفاق احمد نے کہا کہ ہمیں کسی نے پناہ نہیں دی ، ہماری تو جائیدادوں پر سندھ کے لوگوں نے قبضہ کیا اس جائیداد پر جو مروکہ املاک کی صورت مہاجروں کی ملکیت بننی چاہئے تھی جسے سندھ کی وڈیرہ شاہی ہڑپ کئے بیٹھی ہے ۔ خورشید شاہ اگر مہاجر لفظ کو گالی کہتا ہے تو میں کہتا ہوں کہ خورشید شاہ خود کو دھوکہ دے کر سندھیوں کو بے وقوف بناسکتا ہے مہاجروں کو نہیں۔ آفاق احمد نے کہا کہ آنے والے انتخاب آپ کے لئے ایک امتحان ہے ، آج عمران خان کی شکل میں باہر سے لوگوں کو مسلط کرنے کی سازش ہورہی ہے جو میری قوم کیلئے امتحان ہی ہے، اگر مہاجر عوام نے ثابت کرنا ہے کہ وہ منتشر نہیں تو انہیں اس بار اپنا ووٹ صرف اور صرف مہاجر نام پر جدوجہد کرنے اور مہاجر پرچم کو تھامنے والے کو دینا ہوگا اور یہ اعزاز صرف مہاجر قومی موومنٹ کو حاصل ہے کہ اس نے ناصرف تیس برس مہاجر قوم کی جدوجہد کی بلکہ اسمبلیوں میں پہلی بار کوئی نمائندہ مہاجر نام پر پہنچایا تو یہ اعزاز بھی مہاجر قومی موومنٹ ہی کو حاصل ہے اس نے 2002میں مہاجر نمائندوں کو اسمبلیوں میں پہنچایا جبکہ تیس سالوں سے مہاجروں کو بیوقوف بنانے والوں نے ہمیشہ حق پرست کا نام اختیار کیا۔ آفاق احمد نے کہا کہ جو لوگ چند پیسوں کیلئے آپس میں دست و گریبان ہوں اور جو الگ الگ دفاتر بنا کر اپنا ڈھول پیٹ رہے ہیں کیا ایسے لوگوں سے امیدیں وابستہ کرنا غلط نہ ہوگا؟ ۔ میں اپنی قوم سے کہتا ہوں کہ تیس سالوں میں جو ہوا جو ہوا لیکن اس بار ایک بار صرف ایک بار مہاجر نام پر مہاجر قومی موومنٹ کے نمائندوں کو اپنے ووٹ سے کامیاب کرائیں ہم ثابت کریں گے کہ جب ہم تکلیفوں میں قوم کے ساتھ رہتے ہیں تو کامیابی کا جشن بھی قوم ہی کے درمیان رہ کر منائیں گے ۔اپنے خطاب میں آفاق احمد نے کہا کہ آج ہمیں بے وطنی کا طعنہ دے کر کہا جاتا ہے کہ سندھ ہمارا ہے! سندھ کی متروکہ املاک کا ستر فیصد مہاجروں کا ہے جس پر غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے ۔ آفاق احمد نے کہا کہ مہاجر عوام عہد کریں کہ آج کے بعد زندگی میں جب بھی الیکشن ہوگا تو ہم مہاجر نام پر مہاجر نمائندوں کو اسمبلی میں پہنچانا ہے ۔ مہاجر عوام حق پرست، متحدہ یا نئے سندھی کے نام پر نہیں صرف مہاجر نام پر ووٹ دیں تاکہ انکے ووٹوں سے منتخب نمائندہ اسمبلی میں سینہ ٹھوک کر خود کو مہاجر کہہ سکے ۔ ہم دوبارہ سے اس روایت کو زندہ کرنا چاہتے ہیں کہ مہاجر عوام متحد کہلائیں اور ایک بار پھر اس ماضی کو زندہ کریں کہ جس میں صرف جئے مہاجر کی گونج تھی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں