143

کراچی میں قومی ٹیم اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلا ٹی ٹوئنٹی آج ہوگا

کراچی(پاکستان اپ ڈیٹس) پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز کا پہلا میچ آج نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں رات 8 بجے شروع ہوگا۔گرین شرٹس کو طویل عرصے بعد زمبابوے کیخلاف 2015میں لاہور میں محدود اوورز کی سیریز کے دوران اپنی سرزمین پر انٹرنیشنل میچز کھیلنے کا موقع ملا تھا، بعد ازاں سری لنکا کیخلاف واحد ٹی ٹوئنٹی میچ بھی گذشتہ سال لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہی کھیلا گیا۔اب ویسٹ انڈیز کی میزبانی کا اعزاز کراچی کو حاصل ہورہا ہے جہاں 9سال بعد انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہوگی، یہاں آخری بار آنے والی غیرملکی ٹیم سری لنکا تھی،آئی لینڈرز نیشنل اسٹیڈیم میں پہلا ٹیسٹ کھیلنے کے بعد ہی لاہور گئے تھے جہاں دہشت گردوں کے حملے نے پاکستان کے میدان ویران کردیے، پی ایس ایل میں صلاحیتوں کے جوہر دکھانے والے پاکستانی کرکٹرز کو اب انٹرنیشنل کرکٹ میں کیریبیئن اسٹارزکا سامنا کرنا ہے۔گرین شرٹس اس وقت ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں نمبر ون ہیں تو ویسٹ انڈیز اس فارمیٹ میں عالمی چیمپئن ہے،سیکیورٹی اور دیگر وجوہات کی بناپر مہمان اسکواڈ کمزور پڑجانے کے باوجود مختلف لیگز میں تہلکہ خیز کارکردگی پیش کرنے والے کرکٹرز کسی موقع پر بھی پاکستان کو حیران و پریشان کرسکتے ہیں۔پہلے میچ کیلیے پاکستان کی جس 12 رکنی ٹیم کا اعلان کیا گیا ان میں احمد شہزاد، فخر زمان، بابر اعظم، شعیب ملک، آصف علی، سرفراز احمد(کپتان)، حسین طلعت، فہیم اشرف،محمد نواز،شاداب خان، محمد عامر اور حسن علی شامل ہیں، ان میں سے حتمی پلیئنگ الیون کا اعلان بعد میں کیا جائے گا،احمد شہزاد کمزور کڑی نظر آرہے ہیں،پی ایس ایل میں صرف19.22کی اوسط سے 173رنز بنانے کے باوجود اسکواڈ میں شامل کیے جانے والے اوپنر کیلیے یہ سیریز ایک لائف لائن سمجھی جا رہی ہے۔بابر اعظم نے لیگ میں رنز تو بنائے لیکن موقع کے مطابق پاور ہٹنگ کی کمی نظر آئی،شعیب ملک بھی ایونٹ میں اپنے تجربے کا صحیح استعمال نہیں کرسکے،اب وہ بیٹ اور بال دونوں سے بہتر کارکردگی کا عزم لیے میدان میں اتریں گے،کپتان سرفراز احمد بھی میچ کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں۔ڈیبیو کے منتظر آصف علی اور حسین طلعت کی انٹرنیشنل کرکٹ میں انٹری پر سب کی نظریں ہونگی،محمد نواز اور شاداؓب خان بال اور بیٹ دونوں سے اپنی افادیت ثابت کرچکے،دونوں اچھی فارم میں بھی ہیں، پلیئنگ الیون میں دونوں اسپنرز کو شامل کرنے کا فیصلہ اہم ہوگا، شاہین آفریدی کو ابھی نہ آزمانے کا فیصلہ کرتے ہوئے محمد عامر اور حسن علی کے تجربے کو ترجیح دی گئی ہے،فہیم اشرف کو کھلانے کا فیصلہ کیا گیا تو حسین طلعت کی جگہ خطرے میں پڑ جائے گی۔دوسری جانب ویسٹ انڈیز کے اسکواڈ میں جارح مزاج کپتان اور آل راؤنڈر کارلوس بریتھ ویٹ کی کمی محسوس ہوگی، کرس گیل، ایون لیوس جیسے اوپنرز اور جیسن آل راؤنڈر جیسا اسٹار بھی میسر نہیں، جیسن محمد کو قیادت کے ساتھ بیٹنگ کا بوجھ بھی اٹھانا ہوگا، کیریبیئنز کی 2 ورلڈ ٹوئنٹی20 فتوحات کے اہم کردار مارلون سموئلز دونوں میگا ایونٹس کے فائنلز میں مین آف دی میچ تھے،ان کا تجربہ اور اچھی فارم پاکستانی بولرز کیلیے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔دنیش رامدین بھی سینئر کا حق ادا کرنے کیلیے پُرعزم ہونگے، سیموئل بدری کی گھومتی گیندیں بیشتر بیٹسمینوں کو تگنی کا ناچ نچاتی رہی ہیں، ان کی بولنگ فارم ویسٹ انڈیز کیلیے اہم ہوگی، آندرے فلیچر اور کیڈوک والٹن پی ایس ایل میچز کیلیے پاکستان آئے اور کنڈیشنز کا تجربہ حاصل کرچکے ہیں، ریاد ایمرت کا شمار اچھے آل راؤنڈرز میں کیا جاتا ہے، کیمو پاؤل، ویرا سیمی پرمال، رومین پاویل، اوڈین اسمتھ اور خطرناک پیسر کیسرک ولیمز کی صلاحیتوں کااس ٹور میں امتحان ہوگا،آندرے میکارتھی اور اوڈین اسمتھ کو بنچ پر بٹھایا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں