57

بلوچستان میں ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کرپشن ہے ۔سینیٹر سراج الحق

کوئٹہ(پاکستان اپ ڈیٹس )امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ متحدہ مجلس عمل میں دیگر دینی جماعتوں کو بھی شامل کر نے کی کوشش کر رہے ہیں ،دینی جماعتوں کے اتحاد سے عوام کو بڑی امیدیں وابستہ ہیں ،بلوچستان میں ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کرپشن ہے ۔بلوچستان میں کرپشن ملک کے دیگر صوبوں سے زیادہ ہے،ملک میں کرپشن کی روک تھام کا کوئی نظام نہیں ہے،بلوچستان میں سب سے زیادہ غربت ،محرومی اور بے روزگاری ہے اور نوجوان فرسٹریشن کا شکارہیں۔ وڈیروں ،جاگیرداروں اور اشرافیہ نے جمہوریت کو بدنام کیا اور جمہوریت کو یرغمال بنایا ۔جماعت اسلامی نے بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل اور حقوق کے لیے ہر دور میں ہر موقع پر آواز اُٹھائی ہے اور آئندہ بھی اُٹھائیں گے ۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے جامعہ اسلامیہ حب بلوچستان میں دورہ تکمیل بخاری شریف کی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔اس موقع پر جامعہ اسلامیہ دارالعلوم سے فارغ التحصیل طلبہ اور حفاظ اکرام کی دستار بندی کی گئی اور اسناد اور تحائف تقسیم کیے گئے ۔تقریب میں مرکزی نائب امیر اسد اللہ بھٹو ،امیر صوبہ سندھ معراج الہدیٰ صدیقی سمیت صوبہ سندھ اور بلوچستان کے ذمہ داران کی بہت بڑی تعداد نے شر کت کی ۔ اس مو قع پر مختلف قبائل کے نوجوانوں کی بڑی تعداد سمیت مختلف طبقات سے وابستہ افراد نے جماعت اسلامی میں شمولیت کا اعلان کیا ۔امیر جماعت اسلامی پاکستان جب کراچی سے بلوچستان میں حب ریورروڈ پر پہنچے تو بلدیہ ٹاﺅن سے سینکڑوں کارکنان نے ان کا زبردست استقبال کیا اور پُر جوش نعرے لگائے ۔
سینیٹر سراج الحق نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ جو دینی اور مذہبی جماعتیں مجلس عمل سے باہر ہیں انہیں مجلس عمل کا حصہ بنایا جائے اور دینی اور مذہبی جماعتوں کے ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچایا جائے ۔انہوںنے کہا کہ مغرب اور اسلام دشمن قوتوں کی خواہش اور کوشش ہے کہ مذہبی جماعتوں کو آپس میں لڑایا جائے اور حکومت کی جائے ۔ سراج الحق نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ پاکستان کے آئین میں تبدیلی کی جائے اور لفظ ”اقلیت“ کا خاتمہ کر کے انہیں پاکستانی برادری قرار دیا جائے تا کہ پوری دنیا میں یہ (اقلیتی ) برادری پاکستان کا نام روشن کرے اور پاکستان کا صاف ستھرا اور شفاف چہرہ اور کردار واضح کرے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستا ن کی تقدیر پاکستان کے غریب عوام کے ہاتھوں میں ہے اور عوام اپنے ووٹوں سے اپنی تقدیر کو سنوارسکتے ہیں ۔ عوام ہمارے سپورٹر اور ووٹر بنیںاور اسلامی و خوشحال پاکستان کی جدو جہد میں اپنا کردار ادا کریں۔اپنی آنے والی نسلوں کے لیے آج فیصلہ کریں کہ بار بار چہرے ، نام اور پارٹیاں بدل کر آنے والوں کو مسترد کردیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ایک ترقی پسند جماعت ہے جس کے پاس ملک کی تقدیر سنوارنے کے لیے معاشی ،معاشرتی ،تعلیمی اور زراعتی نظام سمیت تمام شعبوں کے لیے ایک متبادل نظام موجود ہے ۔انہو ں نے کہا کہ ہمارے پاس غریب اور مزدوروں کو اسمبلی میں بھیج کر تبدیلی کا پورا نظام موجود ہے۔ عوام 2018کے الیکشن وڈیروں ،جاگیرداروں اور اشرافیہ کے خلاف کھڑے ہو کر ایماندار اور دیانت دار قیادت کو اسمبلیوں میں بھیج کر مسائل حل کرنے کی کوشش کریں ۔انہو ں نے کہا کہ پاکستان کے عدالتی نظام میں غریبوں کی کوئی شنوائی نہیں ہو تی ۔ یہ ایک ایسا عدالتی نظام ہے جو سونے کی چابی سے کھلتا ہے ۔ریاست جس کو ماں کا کردار ادا کر نا چاہیئے تھا وہ اپنا کردار ادا نہیں کر رہی ۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کو مسلکوں اور فرقوں میں تقسیم کر کے ایسا نظام چاہتی ہے کہ انتخابات جیتنے والے اور ہارنے والے دونوں اسی کے آلہ کار بنے رہیں ۔ملک کی خارجہ پالیسی اور بجٹ اور اہم فیصلے اسی کے اشارے پر ہوتے ہیں جس میں عوام کے لیے کچھ نہیں ہو تا ۔ہم اس ملک کے اندر ایسا نظام قائم کر نا چاہتے ہیں جس میں حکمران عوام کے حقیقی طور پر خادم ہوں اور ایک غریب شہری کو بھی اس کی دہلیز پر انصاف مل سکے ۔حکمران مظلوموں اور محرومیوں کا سہارا اور وکیل بنیں ۔اسلام کا عادلانہ اور منصفافہ نظام ہی غریبوں ،مجبوروں ،محروموں اور مظلوموں کو تحفظ اور حقوق دے سکتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں