84

پاکستان کو کرپشن فری ملک بنانے کے لیے سیاست کو کرپشن سے پاک کرناہوگا:سینیٹر سراج الحق

باجوڑ(پاکستان اپ ڈیٹس )امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ پاکستان کو کرپشن فری ملک بنانے کے لیے سیاست کو کرپشن سے پاک کرناہوگا ۔ صرف ایک نوازشریف کے نااہل ہونے سے کرپشن کا ناسور ختم نہیںہو گا اس کے لیے پانامہ لیکس کے دیگر 436 کرداروں ، بنکوں سے قرضے لے کر معاف کروانے اور دبئی اور لندن لیکس والوں ، سب کو احتساب کے کٹہرے میں لانا اور عوام کو اعتماد دینا پڑے گا ۔ ریاست کو مستحکم کرنا ہے تو بے لاگ احتساب کرنا پڑے گا۔ نیب کے پاس کرپشن کے 150 میگا سکینڈلز ہیں انہیں کیوں نہیں کھولا جارہا۔ پوری قوم کا مطالبہ ہے کہ سیاستدان ہو یا غیر سیاستدان ، سب کا احتساب کیا جائے ۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے باجوڑ ایجنسی میں قبائلی سرداروں اور عمائدین سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ عوام نے جن لوگوں کو مینڈیٹ دیا ، انہوںنے عوام کو دھوکا دیا اور عوام کے ٹیکسوں اور خون پسینے کی کمائی کو لوٹ کرباہر منتقل کردیا ۔ انہوں نے کہاکہ بیرون ملک موجود پاکستانی سالانہ بیس ارب ڈالر کما کر ملک میں بھیجتے ہیں اور یہاں اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے کرپٹ حکمران محنت و مشقت سے کمائی دولت چوری کر کے باہر منتقل کر دیتے ہیں ۔ ملک پر اس وقت 80 ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ ہے جبکہ ہمارے پانچ سو ارب ڈالر سو ئس اور دبئی کے بنکوں میں پڑے ہیں ۔ انہوںنے مطالبہ کیاکہ سپریم کورٹ کو اس پر سو موٹو ایکشن لیتے ہوئے باہر پڑی قومی دولت کو واپس لانے کا ایک میکنزم بناناچاہیے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ الیکشن کے بارے میں لوگ شکوک و شبہات کا اظہار کررہے ہیں ۔ بروقت الیکشن وقت کا تقاضا اور ملکی استحکام کے لیے ضروری ہے ۔ ہمارا المیہ ہے کہ 1947 ءسے آج تک ملک پر کرپٹ اشرافیہ قابض ہے اور ان کی پانچویں نسل سیاست اور اداروں پر مسلط ہے ۔ انہوں نے کہاکہ غاروں میں بیٹھے مسلح دہشتگردوں اور ایوانوں میں موجود سیاسی دہشتگردو ں میں کوئی فرق نہیں ۔ سٹیل ملز ، پی آئی اے ،او جی ڈی سی سمیت قومی ادارے تباہ حالی کا شکار ہیں ۔ قوم کا بچہ بچہ مقروض ہے اور چند لٹیرے کرپشن سے محلات بنارہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فاٹا تک دائرہ اختیار کا سینیٹ سے پاس ہونے والا بل بارش کا پہلا قطر ہے جس سے قبائلی عوام کے حقوق کی بحالی کا راستہ کھلا ہے یہ خوش آئند پیش رفت ہے ۔ اس سے قبائلی عوام کو انصاف ملے گا ۔ انہوںنے مطالبہ کیاکہ قبائل کو این ایف سی سے تین فیصدحصہ دیا جائے اور فاٹا میں تعلیمی و معاشی پیکیج کے وعدے پورے کیے جائیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں