191

چوآسیدن شاہ محلہ فاروقیہ کا رہائشی نادرا کے ہاتھوں فٹ بال بن کر رہ گیا۔۔۔چکوال کی مزید خبریں

چکوال(عبدالغفور منہاس سے)چوآسیدن شاہ محلہ فاروقیہ کا رہائشی نادرا کے ہاتھوں فٹ بال بن کر رہ گیا، 2006ءسے شناختی کارڈ کے حصول کے لیے دھکے کھانے اور نادرا ہیڈ کوارٹر سے کلیئر ہونے کے باوجود انصاف نہ مل سکا، بچوں کا تعلیمی مستقبل بے فارم نہ بننے سے تاریک ہو کر رہ گیا، محمد شریف خان ولد ظاہر خان ساکن محلہ فاروقیہ چوآسیدن شاہ نے میڈیا کے نام جاری پریس ریلیز میں بتایا کہ نادرا والوں نے اسے فٹ بال بنا رکھا ہے اور پختون ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔ 2006ءسے لے کر 2018ءتک دھکے کھانے کے باوجود انصاف نہیں مل سکا۔ حالانکہ اسلام آباد نادرا ہیڈ کوارٹر نے اسے کلیئر کر رکھا ہے چکوال اور چوآسیدن شاہ نادرا کی طرف سے دشمنی کی بناءپر بچوں کا تعلیمی مستقبل تاریک اور تباہ ہو کر رہ گیا ہے ،کارڈ کلیئر نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کا ب فارم نہیں بن سکا۔ محمد شریف کا کہنا ہے کہ نادرا میں ایک بہت بڑا گروہ باقاعدہ نیٹ ورک کے ذریعے کام کر رہا ہے جو کہ اصل کو نقل اور نقل کو اصل کرنے کے اختیارات استعمال کرتا ہے اور کوئی بھی شخص صرف ان کی مرضی سے پاکستانی بنتا ہے۔ بڑے بڑے سرمایہ داروں کے کارڈ نہیں روکے جاتے محمد شریف نے وزارت داخلہ سمیت تمام متعلقہ اداروں سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ،محمد شریف کے مطابق اس کا شناختی کارڈ اس کے پاس موجود ہے مگر بچوں اور حقیقی بھائی کے کارڈ کلیئر نہیں کیے جا رہے ۔

چکوال(بیو رو رپورٹ)سیکرٹری جنگلات فشریز اور وائلڈ لائف نے چکوال کا دورہ کیا اس موقع پر انہوں نے دھرابی ڈیم کا معائنہ بھی کیا۔ انہوں نے چکوال میں کامیاب ہونے والے دنیا کے جدید ترین مچھلی فارمنگ کے طریقہ ”کیج کلچر“پر بھی اطمینان کا اظہار کیا، بعد ازاں انہوں نے فش سیڈ ہچری کا بھی دورہ کیا جبکہ ان کے پروجیکٹس کی کامیابی پر ڈپٹی ڈائریکٹر فشریز اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز اور دیگر سٹاف کی کارکردگی کو سراہا۔اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ چکوال کو پنجاب میں رسائی کے حوالے سے کلیدی مقام حاصل ہے اور یہاں پر ہر قسم کی سیاحت کے لیے آنا نادرن ایریا کے حوالے سے انتہائی آسان ہے۔ انہوں نے کہا کہ چکوال کے کسی ایک ڈیم کو مچھلی کے شکار کھیلنے والے شوقین افراد کے لیے مخصوص کر دیا جائے تاکہ لوگوں کو مثبت تفریح ملے اور یہاں پر سیاحت فروغ پائے۔

چکوال(بیو رو رپورٹ)پنجاب ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن ضلع چکوال کا اجلاس 23فروری بروز جمعہ کو گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ایک چکوال میں منعقد ہوگا، جس میں ضلع بھر کے ایجوکیٹرز و اساتذہ شرکت کرینگے ،ایجوکیٹرز کے بقایا جات کی ادائیگی ، اپ ورڈ موبلٹی کی بحالی ،سکول مانیٹرنگ کے حوالے سے تحفظات ،پروموشن ،ایس ایس ٹی اساتذہ کے لیے بنیادی گریڈ17کا حصول ،اتفاقیہ و استحقاقیہ رخصت کے حصول میں مشکلات، ڈیتھ و پنشن کیس میںمشکلات اور2012ءسے لے کر اب تک کنٹریکٹ ایجوکیٹرز کی مستقلی کے معاملات زیر بحث لائے جائیں گے۔ پنجاب ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ ارشد اقبال ،صدر قاضی محمد اکمل، چیئرمین ملک فطین علی عباس، جنرل سیکرٹری محمد نعیم، چیف آرگنائزر ڈاکٹر ارشد جاوید، سرپرست راجہ کامران عزیز، نائب صدر شبیر مرتضیٰ ،ایڈیشنل چیئرمین فرحان رشید، فنانس سیکرٹری محمد عادل اور آرگنائزر مسعود احمد نے تمام ایجوکیٹرز سے شرکت کی استدعا کی ہے۔

چکوال(بیو رو رپورٹ)ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی استعمال شدہ سرنجیں، ڈرپس، انجکشن اور ڈائیلاسسز کٹس کباڑ خانوں پر فروخت کیے جانے کے مقدمہ میں از خود نوٹس کی سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چکوال چوہدری انوار احمد خان کی عدالت میں ہوئی ،سرکار بنام ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال کے عنوان سے از خود نوٹس کے مقدمہ میں ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال ڈاکٹر اسماءانصاری اور ڈپٹی ایم ایس ڈاکٹر انجم قدیر عدالت میں حاضر ہوئے جبکہ الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں عبدالغفورمنہاس، راجہ ثاقب عباس، یٰسین چوہدری ،ساجد بلوچ، فیصل اعوان ،ڈاکٹر ساجد اقبال نے فاضل عدالت میں حاضر ہو کر کچرے کی کباڑ خانوں پر منتقلی کی فوٹیج فاضل عدالت میں پیش کی۔ جسے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے حکم پر محفوظ کر کے مثل کا حصہ بنایا گیا۔ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال نے فاضل عدالت میں استدعا کی کہ مفصل رپورٹ آئندہ سماعت پر عدالت میں داخل کرائی جائے گی۔ عبدالغفور منہاس اور راجہ ثاقب عباس نے فاضل عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان کے پاس تمام ثبوت موجود ہیں ،صحافی برادری کی طرف سے نوجوان قانون دان ملک آصف ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور ابتدائی بحث کی۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے مزید کاروائی اور سماعت 27فروری تک ملتوی کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں