174

مسئلہ فلسطین اسی طرح لاگو کیا جائے “جیسا وہ ہے”۔محمود عباس

رام الله(ویب ڈیسک) فلسطینی صدر محمود عباس نے سلامتی کونسل میں اپنے خطاب کے دوران ایک بار پھر “عرب امن منصوبے” کو یاد دلاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ منصوبے کو اسی طرح لاگو کیا جائے “جیسا وہ ہے”۔ مارچ 2002 میں لبنان کے دارالحکومت بیروت میں عرب سربراہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کا انعقاد اس فلسطینی انتفاضہ کے واقعات کے پس منظر میں کیا گیا جس کے دوران فلسطینی شہروں پر قابض اسرائیلی فوج کے حملے ، انفرا اسٹرکچر کی تباہی اور ہزاروں فلسطینیوں کی شہادت اور اسیری دیکھنے میں آئی۔ مذکورہ سربراہ اجلاس میں سعودی عرب کے مرحوم فرماں روا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے فلسطینی اسرائیلی تنازع کے خاتمے کے لیے ایک امن منصوبہ پیش کیا۔ اس منصوبے کا مقصد 67ء کی سرحدوں پر ایک فلسطینی ریاست کا قیام جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو ، مقبوضہ گولان کے شامی علاقے سے اسرائیل کا انخلاء اور فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے کا ایک منصفانہ حل تھا۔ اس کے مقابل عرب اسرائیلی تنازع کو ختم سمجھا جائے گا اور اسرائیل 57 کے قریب اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہو سکے گا۔ اس امن منصوبے کو عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے منظور کر لیا گیا۔ اس طرح منصوبے نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور مسئلہ فلسطین کے حل کے حوالے سے عرب اور اسلامی دنیا کے موقف کے لیے باقاعدہ بنیادی ڈھانچے کی صورت اختیار کر لی۔ اس وقت سے فلسطینیوں نے عرب امن منصوبے کو اسرائیل کے ساتھ تنازع کے خاتمے کے واسطے ایسے نقشہ راہ کے طور پر تھاما ہوا ہے جس کا کوئی متبادل نہیں۔ سیاسی تجزیہ کار خلیل شاہین کے نزدیک فلسطینی صدر محمود عباس نے عرب امن منصوبے کی یاد دہانی اس واسطے کرائی کیوں کہ وہ محسوس کر رہے ہیں کہ ایک متبادل امریکی منصوبہ بھی زیر گردش آنے والا ہے جو عرب امن منصوبے کو الٹ دے گا۔ امریکی منصوبے کا آغاز اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے سے ہوتا ہے اور اس کے بعد مسئلہ فلسطین کے حل کا طریقہ کار تلاش کیا جائے گا۔ فلسطینی صدر اس امر کو بہت بڑا خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔ محمود عباس اس وقت عرب اور اسلامی دنیا کے مواقف کی وحدت برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔ فلسطینی صدر چاہتے ہیں کہ عرب امن منصوبے کو الف سے یاء تک جوں کا توں نافذ کیا جائے۔ ادھر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دور میں امریکی مواقف بالکل واضح ہیں۔ بالخصوص بیت المقدس کو مذاکرات کے ایجنڈے سے خارج کرنا اور پناہ گزینوں کا معاملہ ختم کر دینا.. یہ دونوں معاملات علاقائی امن کے لیے امریکی ویژن کے ذیل میں آتے ہیں جس کا آغاز اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات سے ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں