187

نیا صدارتی آرڈیننس صرف جماعةالدعوة ہی نہیں پورے ملک کیخلاف سازش ہے:پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی

لاہور(پاکستان اپ ڈیٹس )جماعةالدعوة سیاسی امور کے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے کہاکہ جماعةالدعوة اور فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کیخلاف اقدامات پر پوری پاکستانی قوم میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔ بھارت و امریکہ کا اصل ہدف سی پیک اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہے۔ وہ بیرونی سازشوں کیخلاف اٹھنے والی ہر آوا ز کو خاموش کرنا چاہتے ہیں۔ مظلوم کشمیریوں کے حق میں اور پاکستان کیخلاف سازشوں سے متعلق بھرپور آواز بلند کرنے پر جماعةالدعوة کیخلاف کاروائیاں کی جارہی ہیں۔ ایف آئی ایف کے رفاہی و فلاحی منصوبہ جات میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے ملک بھر میں لاکھوں افراد متاثر ہوں گے۔اپنے بیان میں انہوںنے کہاکہ پہلے امریکہ ڈومور کہتا تھا اب حکومت بھارتی دباﺅ پر بھی محب وطن تنظیموں کیخلاف کاروائی میں مصروف ہے۔ شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بننے سے بھی بیرونی قوتیں خوش نہیں ہوں گی۔ نائن الیون کے بعد بھی ایسے اقدامات نہیں کئے گئے جو اس وقت اٹھائے جارہے ہیں۔ہم وکلاءسے مشاورت کر رہے ہیں۔ ہم نے پہلے بھی قانونی جنگ لڑی اب بھی قانون سے اپنا حق لیں گے۔ انہوںنے کہاکہ انڈیا نے کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو ہمیشہ جوتے کی نوک پر رکھا اور کبھی ان پر عمل درآمد نہیں کیا لیکن پاکستانی حکمران جماعةالدعوة اور فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کیخلاف اقدامات کیلئے عجلت میں صدارتی آرڈیننس پاس کر رہے ہیں اور اپنے ہی ملک کی محب وطن جماعتوں اور اداروں کیخلاف کاروائی کی جارہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نیا صدارتی آرڈیننس صرف جماعةالدعوة ہی نہیں پورے ملک کیخلاف سازش ہے۔عبدالرحمن مکی نے کہاکہ بھارت و امریکہ کی خوشنودی کیلئے حکومت نے جماعةالدعو ة اور ایف آئی ایف کے تمام تعلیمی اداروں، ایمبولینسوں، ڈسپنسریوں اور دیگر اثاثہ جات کوقبضہ میں لیا۔ اس سے بلوچستان، سندھ، پنجاب،شمالی علاقہ جات اور کشمیر میں جاری ریلیف سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں اور تعلیم و صحت سمیت دیگر رفاہی و فلاحی منصوبہ جات جاری رکھنامشکل ہوگیا ہے۔حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ بیرونی قوتوں کے دباﺅ کا شکار ہونے کی بجائے ملکی سلامتی و استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں ترتیب دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں