188

وزارتِ عظمیٰ کے بعد نواز شریف مسلم لیگ ن کی صدارت سے بھی فارغ

اسلام آباد (پاکستان اپ ڈیٹس ) سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کو نااہلی کے بعد بھی پارٹی صدارت کیلئے بھی نااہل قرار دیدیا ہے۔ چیف جسٹس نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ کوئی نااہل شخص پارٹی سربراہ نہیں بن سکتا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے بھی نااہل قرار دیتے ہوئے ان کی جانب سے ماضی میں کیے گئے تمام فیصلوں کو کالعدم قرار دیدیا ہے۔ فیصلے میں نواز شریف کی جانب سے جاری کیے گئے تمام سینیٹ ٹکٹ بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ الیکشن ایکٹ 2017ء کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس ثابق نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعت بنانے کا حق آئین فراہم کرتا ہے، اس بنیادی حق کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ آئین کے آرٹیکل 17 کے آگے کسی دوسرے آئینی آرٹیکل کی رکاوٹ نہیں لگائی جا سکتی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ آپ کا مطلب ہے عدالت صرف آرٹیکل 17 کو مدنظر رکھے؟ جس پر رانا وقار نے کہا کہ آرٹیکل 17 کا سب سیکشن سیاسی جماعت بنانے کی اجازت دیتا ہے۔ شیخ رشید احمد کے وکیل فروغ نسیم نے اپنے دلائل میں کہا کہ ایسا شخص جو آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہیں اترتا تو یہ عوامی اقتدار کا معاملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے بنیادی حقوق کے لیے غلط کام کرنا بھی جائز نہیں، کوئی ایسا شخص جس کے خلاف بدعنوانی، ڈرگ مافیا یا چوری کا ڈکلئیریشن ہو وہ کیسے پارٹی سربراہ بن سکتا ہے؟ وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ہمارا سیاسی نظام کئی سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہے، سینیٹ ٹکٹ کے اس شخص نے جاری کیے جو نااہل ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا اپنے فیصلے میں کہنا تھا کہ کوئی بھی نااہل شخص پارٹی کا سربراہ نہیں بن سکتا۔ طاقت کا سرچشمہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، عوام اپنی طاقت کا استعمال عوامی نمائندوں کے ذریعے کرتے ہیں۔ آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہ اترنے والا پارٹی صدارت بھی مہیں کر سکتا۔ آرٹیکل 17 سیاسی جماعت بنانے کا حق دیتا ہے جس میں بھی قانونی شرائط موجود ہیں۔خیال رہے کہ آج سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ 2017ء کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت مکمل کی، اس موقع پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ کسی پارلیمینٹرین کو چور اچکا نہیں کہا ، الحمد اللہ ہمارے لیڈر اچھے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا پارٹی سربراہ کا عہدہ انتہائی اہم ہوتا ہے۔ لوگ اپنے لیڈر کے لیے جان قربان کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں ، ہمارے کلچر میں سیاسی جماعت کے سربراہ کی بڑی اہمیت ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ تمام چیزیں پارٹی سربراہ کے گرد گھومتی ہیں، لوگ پارٹی سربراہ کے کہنے پر چلتے ہیں اور پارٹی سربراہ پر لوگ جان دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں