62

سیاست میں محمد رسول اللہ ﷺ ہمارے لئے بہترین نمونہ ہیں،:سیف اللہ خالد

ایبٹ آباد(پاکستان اپ ڈیٹس )ملی مسلم لیگ کے صدر سیف اللہ خالد نے کہا ہے کہ سیاست میں محمد رسول اللہ ﷺ ہمارے لئے بہترین نمونہ ہیں۔ ہم ملک سے کرپشن، توڑ پھوڑ اور انتشار کی سیاست ختم کرنا چاہتے ہیں۔ہماراماضی گواہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ اتحادو اتفاق کیلئے کردار ادا کیا ۔ ہم ان شاءاللہ ہر کسی کے پاس جائیں گے اور تمام جماعتوں کو ان شاءاللہ نظریہ پاکستان کی بنیاد پر متحد کریں گے۔ قوم کو ٹیکسوں سے بوجھ سے نکالیں گے اور عوام کا خون نہیں نچوڑنے دیں گے۔پاکستان میں بدامنی و دہشت گردی ختم اور اتحاد کی فضا قائم کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایبٹ آباد پریس کلب میں نظریہ پاکستان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ملی مسلم لیگ خیبر پختونخواہ کے صوبائی صدر حاجی لیاقت علی خان،ابو ولید ہزاروی،امیدوارپی کے29سردار عمیر انور،مفتی محمد قاسم و دیگر نے بھی خطاب کیا۔نظریہ پاکستان کنونشن میںملی مسلم لیگ کے کارکنان کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔سیف اللہ خالد نے کہا کہ جس پاکستان کا تصور علامہ اقبال نے پیش کیاتھا اور قائداعظم نے تحریک چلا کر پاکستان بنایا آج ہم اسی تحریک کو آگے بڑھائیں گے۔جو جذبے پاکستان بنانے والوں کے تھے انہی جذبوں سے ملک کا دفاع کر یں گے۔ہم نے خدمت کا کام بھی دین اورایمان کے جذبوں سے کیا ‘سیاست بھی اسی طرح کریں گے۔انہوںنے کہاکہ آپس کی لڑائیوں کو ختم کر کے دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہونا وقت کی ضرورت ہے۔اندرونی و بیرونی دشمنوں کا ڈٹ کا مقابلہ کریں گے۔وہ ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا جس ملک کا دفاع مضبوط نہ ہو ،جس ملک کی سرحدیں مضبوط نہ ہوں ،ہم پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنائیں گے،ہم قوم میں 65والے جذبے بیدار کریں گے۔دفاع وطن کے لیے پاک فوج کے شانہ بشانہ قوم کو کھڑا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جرمنی کی این جی اوز نے خیبر پختونخواہ کے نصاب تعلیم پر کروڑوں خرچ کے نصاب سے اسلامی اسباق ،اسلامی ہیروز،تحریک پاکستان کے حوالہ سے اسباق نکلوا دیئے ہیں۔ملی مسلم لیگ نصاب تعلیم میں سیرت النبی ﷺ سمیت اسلامی اسباق شامل کرے گی۔آٹھ کروڑ بچے بچیاں پلے گراﺅنڈ سے پی ایچ ڈی تک تعلیمی مراحل سے گزر رہے ہیں۔دینی تعلیمی اداروں میں بھی طلبا زیر تعلیم ہیں۔سب کی تربیت نظریہ پاکستان کے تحت کرنی ہے۔جدید تقاضوں کے ساتھ پاکستان کے نصاب تعلیم،نظام تعلیم کو نظریہ پاکستان کے رنگ میں رنگنا ہے۔کوئی قوم اپنے دشمن کی زبان کو ذریعہ تعلیم بنا کر کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔وہ قوم نسل در نسل ہمیشہ غلام رہتی ہے۔ملی مسلم لیگ اردو کو ذریعہ تعلیم بنائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم کسی کا ووٹ خراب کرنے نہیں آئے۔ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کریں گے۔دشمن ہمارے نظریہ پر حملہ آور ہے۔ہم تہذیبی جنگ میں دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ ہماری سیاست خدمت انسانیت ہے۔ ہم نظریہ پاکستان کا تحفظ کریں گے او رملک میں لبرل ازم کو پروان چڑھانے کی سازشیں ان شاءاللہ کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ملی مسلم لیگ کو موقع ملا تو ہم ان شاءاللہ لوگوں کو صاف پانی، صحت ، تعلیم او ر روزگار کی سہولیات فراہم کریں گے اور کلمہ طیبہ کی بنیا دپر حاصل کئے گئے اس ملک میں اللہ تعالیٰ کا دیا گیا نظام نافذ کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں