107

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال کی بلڈنگ کو اربوں روپے لگا کر اپ گریڈ تو کر دیا گیا مگر پانی کی کمی پوری نہ ہو سکی،،،چکوال کی مزید خبریں

چکوال(عبدالغفور منہاس سے)ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال کی بلڈنگ کو اربوں روپے لگا کر اپ گریڈ تو کر دیا گیا مگر پانی کی کمی پوری نہ ہو سکی اور نہ ہی بدبو سے نجات مل سکی۔ہسپتال میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر پیرا میڈیکل سٹاف اور دیگر ملازمین کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ڈاکٹرز و دیگر سٹاف پینے کا پانی اپنے گھروں سے لاتے ہیں ۔ہسپتال میں پانی کی کمی پوری کرنے لیے گاہے بگاہے لاکھوں کروڑوں روپے کے فنڈز خرچ کیے جاتے ہیں جبکہ مخیر حضرات کی طرف سے بھی بھاری رقوم مسئلے کے حل کے لیے عطیہ کی جاتی ہیں اتنا کچھ ہونے کے باوجود ہسپتال میں پانی کی کمی پوری نہیں ہو سکی ۔دوسری طرف پانی نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کے استعمال کردہ واش رومز بدبو کے بھبھوکے پھیلا رہے ہیں جس سے طرح طرح کی بیماریاںپھیل رہی ہیں اورہسپتال بیماریاں پھیلانے کی فیکٹری بن چکا ہے۔ دریں اثناءہسپتال میں کسی وی آئی پی شخصیت کی آمد کے موقع پر پانی باہر سے منگوا کر حاضری ڈال دی جاتی ہے اور اس کے بعد پھر وہی صورتحال لوٹ آتی ہے۔ ضلع چکوال کی عوام نے اعلیٰ حکام سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال میں پانی کی کمی پوری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

چکوال(بیو رو رپورٹ)بادشاہ پور میں کوئلے کی مائن میں کرنٹ لگنے سے پچاس سالہ مزدور جاں بحق ہو گیا۔ سرفراز خان مائن نمبر6بی کے اندر کام کر رہا تھا کہ اس دوران اس کا ہاتھ پنکھے کو لگا جوکہ شارٹ تھا ۔کرنٹ لگنے سے سرفراز کی موقعہ پر ہی موت واقع ہو گئی لاش کو مائن مزدوروں نے اپنی مدد آپ کے تحت باہر نکالا ۔حادثہ مائن انتظامیہ کی نااہلی اور غفلت کے باعث پیش آیا ۔ مائن مزدوروں کے مطابق پنکھا شارٹ ہونے بارے چند روز قبل انتظامیہ کو آگاہ بھی کیا گیا تھا اور کئی بار یادہانی بھی کروائی گئی مگر کسی کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی اور بالآخر خاندان کا سہارا اس غفلت کا شکار ہو کر ابدی نیند سو گیا۔ مذکورہ مائن دوست محمد نامی شخص کی بتائی جاتی ہے۔

چکوال(بیو رو رپورٹ)ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال کی لیبارٹری میں ٹیسٹ کروانے کے لیے آنے والی خاتون واش روم کے اندر بند ہو گئی جسے ایک گھنٹے کی جدوجہد کے بعد لاک توڑ کر باہر نکالا گیا ۔خاتون لیبارٹری میں سیمپل دینے کے لیے آئی اور واش روم کے اندر گئی اس دوران دروازہ خودبخود لاک ہو گیا اور خاتون نے اندر چیخ و پکار شروع کر دی۔ شور کی آواز سن کر لیب انتظامیہ فوری طور پر باہر نکلی اورلاک کھولنے کی کوشش کی مگر لاک نہ کھل سکا بڑی مشکل سے لاک توڑ کر خاتون کو باہر نکالا گیا اس دوران ہسپتال انتظامیہ کی دوڑیں لگ گئیں اسی طرح کا ایک اور واقعہ بھی ہسپتال کے اندر ہی پیش آیا جہاں پر ہسپتال آنے والا مریض واش روم کے اندر رفع حاجت کے لیے گیا اور وہاں پر دروازہ بند ہو گیا اور ریسکیو1122کے جوانوں نے دروازہ توڑ کر مذکورہ شخص کو باہر نکالا۔ یاد رہے کہ ہسپتال کی تعمیر و مرمت پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں اور دروازوں کا یہ حال ہے کہ ان کے لاک بھی انتہائی گھٹیا میٹریل سے بنے لگائے گئے ہیں۔

چکوال(بیو رو رپورٹ)تحریک لبیک پاکستان ضلع چکوال نے عام انتخابات کے لیے رابطہ عوام مہم کا آغاز کر دیا۔ روپوال میں منعقدہ اجلاس میں سردار گروپ کے سرکردہ رہنما قاضی جلال احمد نے برادری اور ساتھیوں سمیت سردار گروپ کو خیر آباد کہتے ہوئے تحریک لبیک پاکستان میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔روپوال میں منعقدہ اجلاس کی صدارت ضلعی امیر پیر سید حسنین شاہ نے کی ۔تحصیل امیر حافظ مدثر اقبال اور دیگر قائدین نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر سردار گروپ کے سرکردہ رہنما قاضی جلال احمد روپوال نے ساتھیوںاور برادری سمیت تحریک لبیک میں شمولیت کا اعلان کیا۔ قاضی جلال احمد کے ہمراہ قاری اشرف ،حافظ عامر کے علاوہ بولوال، رانجھا، کوٹ چوہدریاں اور بھگوال سے تعلق رکھنے والے تحریک لبیک پاکستان کے جیالوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سید حسنین شاہ نے کہا کہ ہم ملک میں نظام مصطفی ﷺ کے نفاذ کے لیے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرینگے۔ تحصیل امیر حافظ مدثر اقبال کا کہنا تھا کہ ہماری تمام تر وفاداریاں نظام مصطفی کے لیے وقف ہیں۔ قبل ازیں یونین کونسل اور گاﺅں کی سطح پر تحریک لبیک کی باڈی بھی تشکیل دی گئی۔

چکوال(بیو رو رپورٹ)چکوال میں عیدالفطر کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کے لےے عید سٹی اور عید میلہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جس کے لیے تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔عید سٹی اور عید میلہ کے ذریعے ضلع بھر کی عوام کو بہترین تفریحی مواقع مہیا کیے جائیں گے اس بات کا اعلان چیف آرگنائزر وعید سٹی و عید میلہ اور سینئر کالم نویس اعجاز عاجز نے صحافیوں سے ملاقات کے دوران کیا ۔انہوں نے بتایا کہ چکوال وہ بدقسمت ضلع ہے جس کی آبادی بیس لاکھ سے زائد ہے مگر ضلع بھر میں سوائے کلرکہار کے کوئی قدرتی تفریحی مقام نہیں اور نہ ہی کسی قسم کے تفریحی مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ عرصہ دراز سے جشن چکوال اور جشن بہاراں کا بھی انعقاد نہیں کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ضلع چکوال کے عوام کی خواہش ضرور پوری کریں گے اور سابقہ عید میلہ سے بھی دو قدم آگے بڑھتے ہوئے عوام کو ایسی تفریح فراہم کریں گے جو مدتوں یاد رکھی جائے گی۔اعجاز عاجز نے بتایا کہ مجوزہ عید سٹی اور عید میلہ میں عوام کو فول پروف سیکورٹی اور خوشگوار و بہترین ماحول مہیا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں