46

وفاقی بجٹ کا اعلان انتخابی مہم کے سوا کچھ نہیں ہے۔ چیئرمین آفاق احمد

کراچی(پاکستان اپ ڈیٹس )مہاجر قومی موومنٹ(پاکستان) کے چیئرمین آفاق احمد نے کہا کہ اس وقت کہ جب حکومت کے پاس صرف ایک مہینہ بچا ہے ، وفاقی بجٹ کا اعلان سوائے انتخابی مہم کے کچھ نہیں ہے۔ وزیر اعظم جس طرح نئی حکومت کو بجٹ میں تبدیلی کے اختیار کی بات کررہے ہیں تو انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی ایک مہینہ باقی رہ جانے والی حکومت کے پیش کردہ بجٹ کی کوئی مثال موجود نہیںاس لئے موجودہ حکومت کے اقدام کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھنا غیر مناسب ہرگز نہیں ہے۔ وفاقی بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے آفاق احمد نے کہا کہ اس بجٹ کو کسی بھی طرح عوام دوست بجٹ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ اس میں سیلز ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی میں اضافے کی صورت میں عوام کی جیبوں پر 20کھرب کا ڈاکہ ڈالا جائے گا اسکے علاوہ اقتصادی نمو کی جو شرح اضافہ مقرر کی گئی وہ بھی نئی حکومت کا امتحان ہوگا۔ آفاق احمد نے کہا کہ سابقہ سالوں کے بجٹ کی طرح اس بار بھی کراچی کو نظر انداز کیا گیا ہے ، کراچی کو اسوقت K-4اور S-3سمیت دیگر میگا پراجیکٹ کیلئے 70ارب درکار ہیں جبکہ موجودہ بجٹ میں اسکا نصف بھی نہیں رکھا گیا اسکے علاوہ کے الیکٹرک کیلئے جس 15ارب کی سبسڈی کا اعلان کیا گیا اسکا کوئی فائدہ عوام کو نہیں ہوگا کیونکہ پچھلے مالی سال میں بھی کے الیکٹرک کو 20ارب کی سبسڈی دی گئی تھی جو کے الیکٹرک انتظامیہ ہڑپ کرگئی جس کی وجہ سے کراچی کے عوام آج تک بدترین لوڈ شیڈنگ کا عذاب جھیل رہے ہیں۔ بہتر ہوتا کہ بجٹ میں جو پیسہ کے الیکٹرک جیسے نااہل نجی ادارے پر لٹایا جارہا ہے اسے اسٹیل مل کی حالت بہتر بنانے اور دوبارہ چلانے کیلئے استعمال کیا جاتا جو معیشت کیلئے سود مند ثابت ہوتا۔ آفاق احمد نے کہا کہ کراچی میں سمندری پانی کو میٹھا بنانے کا منصوبہ صرف کاغذوں کی زینت بنتا نظر آتا ہے کیونکہ موجودہ حکومت نے جس کراچی پیکج کا 8ماہ قبل اعلان کیا اس پر آج تک عمل نہ ہوسکا تو اس بات کی ضمانت کون دیگا کہ 5کروڑ گیلن یومیہ میٹھا پانی کراچی کے شہریوں کو فراہم کرنے کا منصوبہ مکمل ہوجائے گا۔ آفاق احمد نے ترقیاتی پروگرام کے تحت تعلیم کیلئے صرف 135ارب رکھنے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسا ملک کہ جہاںآدھے سے زیادہ بچے اسکول نہ جاتے ہوں وہاں اس شعبے کیلئے فنڈز دگنا ہونا چاہئے تھا ، اس 135ارب کو روپے کی گرتی قدر کی تناسب سے دیکھا جائے تو اس سے ایک صوبے کی بھی ضرورت پوری نہیں ہوتی ، اسکے علاوہ اس ترقیاتی پروگرام کیلئے جن بیرونی قرضوں پر انحصار کیا جائے گا وہ معیشت کا بھٹہ بٹھانے کیلئے کافی ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ بجٹ کو اگر میں مایوس کن نہ بھی کہوں تب بھی یہ صرف اعداد و شمار کا گورکھ دھندہ ہے جس سے عوام کی زندگیوں میں بہتری کی بجائے غیر ملکی قرضوں اور روپے کی بے قدری میں اضافہ ہوگا جس کا براہ راست اثر عام آدمی کی زندگی پر پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں