138

پاکستان نظریاتی ریاست ہے۔ اس کے قیام کیلئے مسلمانوں نے فرقہ پرستی سے بالاتر ہو کر قوم کو متحد کیا:عبدالرحمن مکی،عبدالحنان خالدودیگر مقررین

لاہور (پاکستان اپ ڈیٹس ) المحمدیہ سٹوڈنٹس کے زیر اہتمام جامعہ پنجاب کے طلبا کے لیے سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں سینکڑوں طلبا نے شرکت کی۔ شہر کے مقامی ہال میں منعقدہ ” آر یو ریڈی ٹو سرو پاکستان“ سیمینار میں مدیر سیاسی امور جماعت الدعوةعبدالرحمن مکی ، مسﺅل المحمدیہ سٹوڈنٹس پاکستان عبدالحنان خالد و دیگر مقررین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نظریاتی ریاست ہے۔ اس کے قیام کیلئے مسلمانوں نے فرقہ پرستی سے بالاتر ہو کر قوم کو متحد کیا۔ آج یہ مملکت عالم اسلام کی امیدوں کا محور ہے اور دنیا کی سیاست میں پاکستان کا اہم کردار ہے۔ مگر آج دشمن اس ملک کے دو قومی نظریے کو ختم کر کے اس کے اسلامی تشخص کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ دو قومی نظریے کے خلاف بات کرنے والوں کو بھارت میں اقلیتوں پر ظلم اور مسلم دشمن نظریے کو دیکھنا چاہیے جس کی تازہ مثال علی گڑھ یونیورسٹی میں قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر کو ہٹائے جانے کی ہے۔ ایسے واقعات سیکولر بھارت کے منہ پر تمانچہ ہے جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعو ی کرتی ہے۔ عالمی دنیا کے سامنے بھارت کا چہرہ بے نقاب ہو رہا ہے۔ طلبا سے گفتگو کرتے ہوئے مدیر سیاسی امور جماعت الدعوة عبدالرحمن مکی نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں نے مسلک اور فرقہ پرستی سے بالا تر ہو کر مذہب کے جھنڈے تلے اکٹھے ہو کر پاکستان حاصل کرنے کا عہد کیا جس کی تعبیر 14اگست 1947کو برکت والے مہینے رمضان المبارک میں ہوئی۔ پاکستان نظریاتی ریاست ہے جس کے قیام میں طلبا اور وکلا کا اہم کردار ہے۔ آج اسی پاکستان کا دنیا کی سیاست اور ہونے والے فیصلوں میں اہم کردار ہے۔ مگر بد قسمتی سے اس ملک کے نظریے کو مٹانے کیلئے ہمارا ازلی دشمن اپنے حواریوں کے ساتھ تگ دو کر رہا ہے تاکہ اس ملک کے اسلمای تشخص کو ختم کر کے اس کو اپاہج بنا دیا جائے۔ پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کر کے اس وجود کو ختم کر دیا جائے۔ دشمن کی ان سازشوں کو ختم کرنے اور ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں آج بھی طلبا اور وکلا کو اپنا وہی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے جو انھوں نے تحریک پاکستان میں ادا کیا تھا۔ انھوں نے مزید کہا جس طرح تحریک پاکستان میں علی گڑھ یونیورسٹی نے مسلم لیگ کو قیادت فراہم کی اور کردار ادا کیا ، آج ہمارے ادارے اس طرح کا کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ لہذا حکومت وقت کو ریاست کی وسیع تر مفاد میں جامعات کے متعلق اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ مسﺅل المحمدیہ سٹوڈنٹس پاکستان عبدالحنان خالد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے نوجوان خداداد ذہانت اور صلاحیتیوں سے مالا مال ہیں۔ دشمن نے ہمارے خلاف کئی محاذ کھول رکھے ہیں۔ ہماری نظریاتی سرحدوں کو کھوکھلا کرنے کیلئے سازشیں جاری ہیں۔ پاکستان کے خلاف دشمن کی سازشوں کی تکمیل میں دو قومی نظریہ بہت بڑی رکاوٹ ہے جس کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بھارت میں ایک بار پھر سے دو قومی نظریہ پھیل رہا ہے جس کی تازہ مثال علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبا یونین کے دفتر میں 80سالوں سے لگی قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر کو ہٹائے جانے کی ہے۔ ایسے واقعات سیکولر بھارت کے منہ پر تمانچہ ہے جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعوی کرتی ہے۔ عالمی دنیا کے سامنے بھارت کا چہرہ بے نقاب ہو رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹیز میں پڑھنے والے نوجوان طلبا میں سیکولرازم اور الحاد جسے فتنوں کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ منشیات کے رحجان کو عام کر کے طلبا کو ان کے اصل مقصد سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے نوجوان ان سازشوں کو شکار ہو رہے ہیں۔ ہمیں اپنے دشمنوں کی سازشوں کو پہچان کر ان کا قلع قمع کرنا ہے۔ المحمدیہ سٹوڈنٹس اپنا فریضہ سمجھتے ہوئے پاکستان کے ادارہ جات میں نظریہ پاکستان اور انسداد منشیات کی دعوت کو پھیلا رہی ہے۔ سی ای او صفہ اکیڈمی محمد راشد نے کہا کہ دنیا کا منظر نامہ بڑی تیزی سے بدل رہا ہے اور آنے والے وقت میں پاکستان کا اس میں بہت اہم کردار ہو گا۔دشمن ہمارے نظریات کیساتھ کھیلتے ہوئے ہمارے وجود کو ختم کرنا چاہتا ہے جس کو ہم ناکام بنانا ہے۔ہمیں بطور طالب علم نہیں، بلکہ بحثیت پاکستانی اپنی ذمہ داریوں سے واقف ہونے کی ضرورت ہے۔ہمیںاپنے منفرد اور شاندار ماضی کو دیکھتے ہوئے اپنی نسلوں کیلئے ملت کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ مزید براں سیمینار میں طلبا کے درمیان تاریخ اور نظریہ پاکستان پر کوئز مقابلے کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں جیتنے والے طلبا میں انعامات تقسیم کئے گئے۔ اس موقع پر مسﺅل المحمدیہ سٹوڈنٹس پنجاب یونیورسٹی عاطف شہزاد کی جانب سے پروفیسر ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن مکی کو شیلڈ بھی پیش کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں