71

وطن عزیز میں گالم گلوچ اور مفادات کی سیاست کا خاتمہ چاہتے ہیں۔الیکشن وقت پر اور شفاف ہونے چاہیے:سیف اللہ خالد

ہارون آباد ( پاکستان اپ ڈیٹس )ملی مسلم لیگ کے صدر سیف اللہ خالد نے کہا ہے کہ وطن عزیز میں گالم گلوچ اور مفادات کی سیاست کا خاتمہ چاہتے ہیں۔الیکشن وقت پر اور شفاف ہونے چاہیے۔ملی مسلم لیگ نظریہ پاکستان کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کے ساتھ الیکشن میں اتحاد کرے گی۔آنیوالے الیکشن میں پاکستان دشمنوں کو میدان سیاست میں شکست سے دوچار کریں گے۔ تہذیبی جنگ کے مقابلے کے لئے بائیس کروڑ پاکستانیوں کو متحد ہونا پڑے گا۔پاکستان کا آئین ہمیں سیاسی پارٹی رجسٹرڈ کرنے کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔الیکشن کمیشن ملی مسلم لیگ کو رجسٹرڈ کر کے ہمیں بنیادی حق دے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہارون آباد کے مقامی ہال میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیمینار سے مسلم لیگ(ض) کے سربراہ،سابق وفاقی وزیر اعجاز الحق،سابق رکن پنجاب اسمبلی آصف منظورموہل،حاجی نعیم انور،میاں مقبول احمد،حاجی محمد یاسین،میاںمقبول احمد،رانا عبدالمجید گڈو،غلام مرتضیٰ،چوہدری سہیل نے بھی خطاب کیا۔سیف اللہ خالد نے کہا کہ ملی مسلم لیگ نظریہ پاکستان کی سیاست پر یقین رکھتی ہے ہم پاکستان کے خلاف اندرونی وبیرونی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ہم پارٹی بازری،فرقہ واریت ،دھڑے بندی کا منشور لے کر نہیں آئے بلکہ اتحاد کا منشور لے کر آئے ہیں۔تہذیبی جنگ ہمارے اوپرمسلط کی گئی ہے۔یہ سب سے بڑی جنگ ہے ۔تہذیبی جنگ کے مقابلے کے لئے بائیس کروڑ پاکستانیوں کو متحد ہونا پڑے گا۔ہم نے نفرتوںکو ختم اور محبتوں کو رواج دینا ہے۔الیکشن کرسی کے حصول کے لئے نہیں بلکہ ملک و قوم کی خدمت کے لئے لڑیں گے۔ملی مسلم لیگ نے اپنے منشور میں اس بات کا عزم کیا ہے کہ نوجوانوں کو دفاع پاکستان کے لئے تیار کریں گے۔،وطن کے انچ انچ کی حفاظت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین ہمیں سیاسی پارٹی رجسٹرڈ کرنے کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔ پورے پاکستان میں ہماری قیادت کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں نہ کبھی ہم نے قانون شکنی کی۔ پھر کس بنیاد پر رجسٹریشن کی راہ میں روڑے اٹکائے جا رہے ہیں۔ پاکستان کا محکمہ داخلہ ہمارے خلاف فریق بن کر پیش ہوا تو ہم نے کہا کہ کوئی ایسا مقدمہ جو ہم پر کسی قانون شکنی کی وجہ سے درج کیا گیا ہو پیش کرو ؟ امریکہ انڈیا گٹھ جوڑ ہمارے خلاف سازشوں میں مصروف ہے لیکن ہم نظریہ پاکستان کے تحفظ اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی بات کرتے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں