102

ایٹمی پاکستان اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے۔ قرآن و سنت پر عمل پیرا ہونے سے ہی فرقہ واریت کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے: پروفیسر حافظ محمد سعید

ہارون آباد(پاکستان اپ ڈیٹس )امیر جماعةا لدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ مسلم خطوں وملکوں کے دفاع کے لئے دفاعی قوت کو مضبوط کرنا مسلمانوں پر فرض ہے۔ایٹمی پاکستان اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے۔ قرآن و سنت پر عمل پیرا ہونے سے ہی فرقہ واریت کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ بھارت کشمیریوں کو طاقت کے بل بوتے پر شکست نہیں دے سکتا،کشمیریوں کی قربانیوں کی بدولت تحریک آزادی دن بدن تیز ہو رہی ہے۔حکمران جرات کا مظاہرہ کریں اور انڈیا کو کہیں کہ وہ کشمیر سے اپنی فوج نکالے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہارون آباد کے مقامی ہال میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرسابق وفاقی وزیر،رکن قومی اسمبلی مسلم لیگ(ض) کے سربراہ اعجاز الحق،سابق رکن پنجاب اسمبلی آصف منظور،حاجی نعیم انور،میاں مقبول احمد،حاجی محمد یاسین و دیگر نے بھی خطاب کیا۔حافظ محمد سعید نے کہا کہ مسلمان ایک امت ہیں‘ اسلام میں فرقہ واریت اور پارٹی بازی کا کوئی تصور نہیں۔ستر برس گزر گئے ملک سے کرپشن، سود اور ناانصافی ختم نہیں ہوسکی۔ حکمرانوں سے لیکر عوام تک سب اپنی اصلاح کریں اور اللہ کے احکامات کی نافرمانی ترک کر دیں۔اسی سے آسمانوں سے برکتیں اتریں گی اور مسلم معاشرے امن و سکون کا گہوارہ بنیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ ہماری سیاست، معیشت و معاشرت سمیت ہر عمل کتاب و سنت کی تعلیمات کے مطابق ہونا چاہیے۔ جب اللہ کی نافرمانیاں اور فحاشی وعریانی عام ہو جائے تو معاشرے اللہ کی پکڑ کا شکار ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اغیار کو مسلط کر دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل کتاب و سنت میں موجود ہے قرآن ہماری غلطیوں کی اصلاح اور مسلمانوں کے راستے منزلیں واضح کرتا ہے لیکن انتہائی افسوسناک بات ہے حکمران و عوام اس پر عمل نہیں کرتے ہر شخص کو اپنا محاسبہ کرتے ہوئے عقائد و اعمال کی اصلاح اور اللہ سے اپنے تعلق کو مضبوط بنانا چاہیے۔انہوںنے کہاکہ پاکستان اکثریت یا اقلیت نہیں‘ لاالہ الااللہ کی بنیاد پر کی جانے والی جدوجہد اور مسلمانوںکی طرف سے پیش کی جانے والی بے پناہ قربانیوں کانتیجہ ہے۔بانی پاکستان محمد علی جناح نے ہندوﺅں کی طرف سے قیام پاکستان کی مخالفت پر کہا تھا کہ پاکستان تو اسی دن معرض وجود میں آگیا تھا جب پہلے شخص نے ہندومذہب چھوڑ کر اسلام قبول کیا تھا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ آج ہم قیام پاکستان کے مقاصد کوبھول چکے ہیں اور بھارت سے یکطرفہ دوستی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ہم صاف طور پر کہتے ہیں کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کے احکامات کے پابند ہیں۔ہمیں ہر عمل میں قرآ ن و سنت سے رہنمائی لینی چاہیے۔حافظ محمد سعید نے کہا کہ پاکستان کو غلطیوں کی اصلاح کرنی چاہئے۔حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ قائداعظم کی طرح کھڑے ہو جائیں۔جرات کے ساتھ پاکستان کے لئے ڈٹ جائیں اورامریکہ کو صاف کہہ دیں کہ اپنے ملک کے مفاد کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔کشمیری پاکستان کا جھنڈا اٹھا رہے ہیں۔قیام پاکستان سے دوماہ قبل کشمیریوں نے اعلان کر دیا تھا کہ ہم پاکستان کا حصہ بنیں گے اور انڈیا کے ساتھ نہیں جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں