87

مہاجر قوم کو اگر شناخت محفوظ بنانی ہے تو اسکے لئے صوبہ بنانا ہوگا: آفاق احمد

کراچی(پاکستان اپ ڈیٹس )مہاجر قومی موومنٹ (پاکستان ) کے چیئرمین آفاق احمد نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے تو میڈیا کے دوستوں کا مشکور ہوں جنہوں نے صبح 9بجے سے رات گئے تک جلسہ کی کوریج کی اسکے علاوہ میں ضلع وسطی کی مہاجر عوام کا بھی شکر گذار ہوں کہ جنہوں نے جلسہ میں بھرپور شرکت کرکے ثابت کردیا کہ انکے دل آج بھی مہاجر نام پر دھڑکتے ہیں ۔ آفاق احمد نے کہا کہ میں یہاں یہ ابہام دور کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمارا جلسہ کسی کے جلسہ کا ردعمل تھا۔ مہاجر قومی موومنٹ نے سب سے پہلے 29اپریل کے جلسہ کی اجازت کیلئے درخواست جمع کروائی تھی لیکن اس تاریخ کو پیپلز پارٹی کے جلسہ کی وجہ سے ہم نے انتظامیہ کی درخواست پر دوبارہ 6 مئی کے جلسہ کا اجازت نامہ حاصل کیا اس لئے ہمارے جلسہ کو ٹنکی گراﺅنڈ میں ہونے والے جلسوں کا ردعمل نہیں کہا جاسکتا۔ آفاق احمد نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے جلسہ میں جس قسم کی اشتعال انگیزی کی گئی اس کا جواب میری قوم انہیں خود دے گی۔ ہمارے جلسہ سے ایک دن قبل ہونے والے جلسے میں جس طرح عوام کو کنٹینر لگا کر عوام کو محصور کیا گیا وہ افسوس ناک ہے ، باہر سے لوگ لاکر جلسے کرنے سے لیاقت آباد کے عوام کی کوئی خدمت نہیں ہوگی ۔ اپنے خطاب میں آفاق احمد نے کہا کہ میں نے کوٹہ سسٹم کو قائم رکھنے کی جو بات کی اسکی وضاحت کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔کوٹہ سسٹم جسے پیپلز پارٹی ہی کے بانی نے35سال کیلئے متعارف کرایا اب اسکے خاتمے سے مہاجروں کا نقصان ہی ہوگا کیونکہ آج کراچی میں کوئی بھی اندرون سندھ سے آنے والا دو ہزار روپے دے کر ڈومیسائل بنا لیتا ہے بلکہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت لاکھوں لوگوں کو شہری سندھ کا ڈومیسائل بنا کر دیا جاچکا ہے اس صورت میں اگر کوٹہ سسٹم ختم بھی ہوگیا تو اسکا نقصان صرف مہاجروں کو ہوگا کیونکہ کراچی کے ڈومیسائل کی بنیاد پر نوکریوں میں بڑا حصہ دیہی سندھ سے آنے والوں کو ملے گا اسکے علاوہ سندھ جوکہ دو لسانی اکائیوں میں تقسیم ہے یہ تقسیم بھی کوٹہ سسٹم کے خاتمے کے بعد ختم ہوجائے گی جس کا سراسر نقصان شہری سندھ میں رہنے والے مہاجروں کو ہوگا اس لئے اب ہم یہ چاہتے ہیں کہ کوٹہ سسٹم جاری رکھا جائے۔ آفاق احمد نے کہا کہ مہاجر قوم کو اگر شناخت محفوظ بنانی ہے تو اسکے لئے صوبہ بنانا ہوگا کیونکہ جہاں اکثریت کی بنیاد پر فیصلے ہوتے ہوں وہاں اقلیت میں ہونے کی وجہ سے کبھی مہاجروں کو انکا جائز حق نہیں مل سکتا اور باہر بار یہ تکلیف دہ نظارہ دیکھنا ہوگا جو سینٹ الیکشن میں نظر آیا ۔ سینٹ الیکشن میں شہری علاقوں کی بارہ میں سے گیارہ سیٹیں جس طرح دیہی سندھ کی گود میں ڈالی گئیں اس سے اب یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ مہاجروں کو بلڈوز کرنے کی ہرصورت کوشش کی جارہی ہے اسکے علاوہ پیپلز پارٹی جوکہ وڈیروں اور جاگیرداروں کی موروثیت پسند جماعت ہے وہ کبھی بھی مہاجروں کا بھلا نہیں سوچ سکتی ۔ مہاجروں کو اب اپنا بھلا خود سوچنا ہوگا اور جنوبی سندھ صوبہ کی تحریک کو آگے بڑھانا ہوگا ۔ ایک سوال کے جواب میں آفاق احمد نے کہا کہ سندھ کی انتظامی تقسیم کی سب سے پہلے آواز مہاجر قومی موومنٹ نے ہی اٹھائی تھی اور نوے کی دہائی میں لاکھوں لوگوں نے صوبے کے حق میں دستخطی مہم میں حصہ لیا تھا ہمارے علاوہ آج تک کسی نے بھی عیلحدہ صوبے کی غیر مشروط تحریک نہیں چلائی۔ بار بار یہ سننے کو ملتا ہے کہ “اگر ہمارے یہ مطالبات پورے نہ ہوئے تو صوبہ کی تحریک چلائیں گے” جو لوگ بھی صوبہ کی بات کررہے ہیں انہیں کہتا ہوں کہ یا تو صوبہ بنانے کیلئے کھڑے ہوجاﺅ یا پھر پیچھے ہٹ جاﺅ یہ شرطیں رکھنا سیاست تو ہوسکتی ہے صوبہ تحریک نہیں۔ مہاجر قومی موومنٹ واحد جماعت ہے جس نے غیر مشروط تحریک چلائی ۔ مہاجر قومی موومنٹ جنوبی سندھ صوبے کی تحریک کیلئے رمضان کے بعد دوبارہ دستخطی مہم چلائے گی ، ہمیں اپنی مہم میں کامیابی کا اس لئے بھی یقین ہے کہ ہم مہاجروں سمیت شہری سندھ میں بسنے والے پختون پنجابی اور بلوچی قومیتوں سمیت ہر کسی کو اپنے ساتھ اس مہم میں شریک کریں گے اور انہیں قائل کیا جائے گا کہ جس طرح جنوبی سندھ صوبہ مہاجر قوم کیلئے ضروری ہے اسی طرح شہری سندھ میں بسنے والی دیگر قوموں کے مسائل حل کرنے کیلئے بھی جنوبی سندھ صوبہ اہم ہے ۔ آفاق احمد نے کہاکہ کراچی مہاجروں کا شہر تھا اور رہے گا ، عمران خان صاحب اپنے جلسوں میں پہاڑ گنج اور بنارس کے غیر مہاجر لوگوں کو مہاجر اکثریتی علاقوں میں لاکر نقصان اٹھا چکے ہیں آج پیپلز پارٹی بھی اسی نقش قدم پر چل رہی ہے،۔ مضافاتی گوٹھوں اور اندرون سندھ سے لوگوں کو لاکر ٹنکی گراﺅنڈ میں جلسہ کرنا اور اب دوبارہ گلشن اقبال میں اسی پریکٹس کو دہراکر اگر مہاجروں کو یہ پیغام دیا جائے گا کہ وہ باہر سے آنے والوں کے رحم و کرم پر ہیں تو بیوقوفی کے سوا کچھ نہیں ۔ اپنے اوپر غیروں کا تسلط برداشت کرنا مہاجر قوم کی فطرت میں شامل نہیں ہے ۔آفاق احمد نے کہا کہ “جاگ مہاجر جاگ،تیرے شہر کو لگ گئی آگ”کے نعرے لگاکر مہاجروں کو ورغلایا نہیں جاسکتا، کراچی میں امن کے قیام کا کریڈٹ تو لیا جاتا ہے لیکن اس شہر میں جو ڈیڑھ لاکھ لوگ قتل ہوئے اسکا جواب کسی کے پاس نہیں، اگر آج ایدھی کے قبرستان میں83ہزار لاوارث قبریں ہیں تو یہ سارے لوگ نشہ کرنے والے نہیں تھے ، ان 83ہزار میں اکثریت اسی شہر کے لوگوں کی تھی جنہیں بے دردی سے قتل کیا گیا ، جب تک اس قتل عام کی ذمہ داری قبول نہیں کی جاتی تب تک امن کی بحالی کا کریڈٹ میں نہیں دے سکتے۔آفاق احمد نے کہا کہ کراچی میں میانوالی اور لاڑکانہ سے لوگوں کو بلا کر مسلط کرنے کا سلسہ اب بند ہونا چاہئے ۔ باہر سے لوگوں کو لاکر یہ تاثر دینا کہ یہی تمہارے مسیحا ہونگے قابل مذمت حرکت ہے ، کراچی لاوارث نہیں ، ہم نہ صرف اپنے شہر کا سنبھال سکتے ہیں بلکہ اپنے مسائل خود حل کرنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں اس لئے میں ارباب اختیار سے مطالبہ کروں گا کہ تجربات کرنے اور باہر سے پیراشوٹ قیادت اتارنے سے اجتناب کیا جائے کیونکہ اسکے نتائج اچھے نہیں نکلیں گے ۔اپنے خطاب میں آفاق احمد نے مزید کہا کہ ضلع وسطی کے مہاجر عوام نے جس جوش و ولولہ کے ساتھ لیاقت آباد فلائی اوور کا جلسہ کامیاب بنایا وہ مجھ پر قرض ہے ، اس قرض کو بہت جلد انکے مسائل حل کرکے اتاریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں