129

چیف جسٹس سے سوموٹو لینے کا مطالبہ، مجلس عمل نے 13 مئی کومینار پاکستان کے جلسہ میں بھی مولانا ابوتراب کی بازیابی کے لیے احتجاج کا اعلان کردیا

لاہور (پاکستان اپ ڈیٹس) متحدہ مجلس عمل کی اپیل پر ملک کے مختلف شہروں میں مولانا علی محمد ابوتراب کی بازیابی کے لیے احتجاجی مظاہرے، چیف جسٹس سے سوموٹو لینے کا مطالبہ، مجلس عمل نے 13 مئی کومینار پاکستان کے جلسہ میں بھی مولانا ابوتراب کی بازیابی کے لیے احتجاج کا اعلان کردیا۔ تفصیلات کے مطابق مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سینئر نائب امیر اور ایم ایم اے بلوچستان کے سیکرٹری جنرل مولانا علی محمد ابوتراب جنہیں آٹھ ماہ پہلے کوئٹہ ائیرپورٹ روڈ سے بیٹے سمیت اغوا کرلیا تھا کی بازیابی کے سلسلے میں جمعہ کے روز ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ لاہور مسجد شہدا سے پنجاب اسمبلی تک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس کی قیادت ایم ایم اے کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، علامہ محمد شفیق خاں پسروری، مولانا نعیم بٹ، حافظ ابتسام الہی ظہیر، مولانا محمد خاں لغاری، رانا نصرا للہ خاں، امتیاز مجاہد، عتیق اللہ عمر، محسن جاوید، حافظ بابر فاروق رحیمی نے کی۔ مذہبی جماعتوں کے قائدین نے کہا کہ 8ماہ گزرنے کے باوجو د ریاستی اداروں کی طرف سے جھوٹی تسلیاں دی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام دینی جماعتیں مولانا علی محمد ابوتراب کی بازیابی کے لئے متحد ہیں۔،ان کی بازیا بی کے حوالے سے متعلقہ ادارے مسلسل طفل تسلیا ں دے رہے ہیں، تمام دینی جماعتوں کے قائدین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مولانا علی محمد ابو تراب کی سماجی، دینی اور ملکی خدمات کو سراہتے ہوئے حکومت پاکستان، عدالت عظمیٰ، چیف آف آرمی سٹاف اور قانون نافذکرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ مولانا علی محمد ابو تراب کوفوری طورپر بازیاب کرایا جائے اور اگر ان کے خلاف کوئی الزام ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے یہ انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کی صریحاًخلاف ورزی ہے کہ ایک دینی سیاسی سماجی اور قبائیلی رہنماکو کسی الزام کے بغیر اسلحہ کے زور پر اغوا کرکے 8ماہ سے لاپتہ رکھا گیاہے۔ لیاقت بلوچ نے چیئرمین نیب کو یاد دلایا کہ آپ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم کمیشن کے سربراہ تھے۔ آپ کی رپورٹ کدھر ہے؟ انہوں نے کہا کہ مولانا ابوتراب ایک محب وطن اورپرامن شہری ہیں۔ وہ حرمین شریفین کے تحفظ کی تحریک کے قائد،اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر اور مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سینئر نائب امیر ہیں اور ہم نے متفقہ طور پر انہیں بلوچستان سے ایم ایم اے کا سیکرٹری جنرل منتخب کیا۔ تمام مذہبی طبقات میں وہ احترم کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان امریکی اور بھارتی سازشوں کا مرکزبنتا جارہا ہے۔ ہم پاک فوج کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ مگر محب وطن شہریوں اور علما کا غائب ہو جانا ہم سب کے لیے باعث تشویش ہے۔ مولانا ابوتراب بحالی تحریک کے کنویئنر مولانا نعیم بٹ نے کہا کہ ہم حکومت اور اداروں کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ اگر ابوتراب کو رہا نہ کیا گیا کہ حالات کی خرابی کے ہم ذمہ دار نہیں ہو ں گے۔ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ حافظ ابتسام الہی ظہیر نے کہا کہ دینی قوتیں بیدار ہو چکی ہیں علما کی حفاظت جان کی بازی لگا کر کریں گے۔ابوتراب کا اغوا دینی حلقوں کے لیے ناقابل برداشت ہے۔مولانا محمد خان لغار ی نے کہا کہ ہم ابوتراب کی بازیابی کی تحریک میں ہر موقع پر مرکزی جمعیت کے شانہ بشانہ چلیں گے۔رانا شفیق خاں پسروری نے کہا کہ ہمارے کارکنوں میں اشتعال پایا جاتا ہے۔ ہم مزید برداشت نہیں کرسکتے۔ امن اومان اور فرقہ وارنہ ہم آہنگی کا تقاضا ہے کہ ابوتراب کو فی الفور رہا کیا جائے۔مظاہرین نے ٹائر جلا کر نعرے بازی بھی کی۔ لاہور کے علاوہ کراچی، اسلام آباد، حید رآباد، فیصل آباد، سرگودھا، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، ملتان، شیخوپورہ، رحیم یار خاں، ایبٹ آباد، پشاور میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ اور مقررین نے ابوتراب کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں