95

ملک میں اسلامی نظام لا کر ہی دم لیں گے ،امریکہ اور مغربی دنیا امت مسلمہ کو تقسیم کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں،امریکی نواز سیکولر قوتوں کی بالادستی پہلے قبول کی نہ آئندہ کریں گے:مولانا فضل الرحمن

لاہور (پاکستان اپ ڈیٹس)متحدہ مجلس عمل کے مینار پاکستان گراﺅنڈ میں ہونے والے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے صدر متحدہ مجلس عمل پاکستان مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہمارے لیے اصل چیلنج 2018 ءکے انتخابات میں کامیابی ہے ۔ ہم نے سیکولر امریکہ نواز حکمرانوں کی بالادستی پہلے قبول کی ہے نہ آئندہ کریں گے ۔ آج ہم پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا عزم کرتے ہیں ۔ ستر سال سیکولر لوگوں نے حکومت کی آج مینار پاکستان ان کے جھوٹ کی گواہی دے رہاہے ۔ امت کو جنگوں کا ایندھن بنایا جارہاہے ۔ امت کو خون کا دریا عبور کرنا پڑ رہاہے ۔ عراق و افغانستان کو تباہ کیا گیا ۔ ایران اور سعودی عرب کو آپس میں لڑانے اور امت مسلمہ کو تقسیم کرنے کی سازش امریکہ او ر مغرب کی ہے جو انسانی حقوق کی بات بھی کرتے ہیں اور پھر ان حقوق کا خون بھی کرتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ جب تک انسانی حقوق کا تحفظ نہیں ہوگا ، دنیا میں امن کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتا ۔ ہمیں آزادی کی قیمت اچھی طرح معلوم ہے ہماری سیاست اور پارلیمنٹ پر اقوام متحدہ قبضہ چاہتاہے اور ہماری میعشت پر آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک قابض ہوچکاہے ۔ بین الاقوامی معاہدات ہمیں ہمارے دفاع کا حق نہیں دے رہے ۔ اقوام متحدہ کا چارٹر، جنیوا انسانی حقوق کے معاہدے ہمارے حقوق کو پامال کررہے ہیں ۔ جب ہمارے قانون کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کا تصادم ہو تو پھر ہمارا قانون غیر موثر ہو جاتاہے ۔ ہماری قومی اسمبلی خود قانون بنانے کی بجائے بین الاقوامی ڈکٹیشن لیتی ہے ۔ بین الاقوامی دباﺅ پر ہماری پارلیمنٹ نے اٹھارہ سال کے بعد اپنی جنس تبدیل کرنے کا قانون پاس کرلیا ۔ اقوام متحدہ جسے چاہے دہشتگرد قرار دے دے اور ہم اس کی پابندی پر مجبور ہوں تو ہماری آزادی اور خود مختاری کہاں گئی ؟۔ انسانی حقوق کی تشریخ جو مغرب کرتاہے ہم اسے ملک میں قانون کی حیثیت دیتے ہیں ہماری آزاد ی کہاں رہی ۔
امیر جماعت اسلامی و نائب صدر متحدہ مجلس عمل پاکستان سینیٹر سراج الحق نے مینار پاکستان کے سائے تلے متحدہ مجلس عمل کے جلسہ عام کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مینار پاکستان اور بادشاہی مسجد کے مینار کہتے ہیں کہ نیا نہیں اسلامی پاکستان بناﺅ ۔ ستر سال گزر گئے لیکن ایک دن کے لیے ہم نے پاکستان میں اسلامی نظام نہیں دیکھا ۔ قائد اعظم کی قیادت میں لاکھوں مسلمانوں نے پاکستان کے لیے تاریخ کی عظیم قربانیاں ان سیکولر اور کرپٹ حکمرانوں کے لیے نہیں دی تھیں ۔ انہوںنے کہاکہ اسلام آباد سنگ مرمر کا قبرستان بن چکاہے ۔ ہم ملک میں ظلم و جبر اور کرپشن کے خلاف لڑ رہے ہیں ۔ ہماری لڑائی افراد یا خاندانوں کے ساتھ نہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہم عام پاکستانی کے لیے اقتدار کے ایوانوں کے دروازے کھولنا چاہتے ہیں عوام اب اپنی ذات کے لیے ووٹ کا استعمال کریں اور ان ظالموں کے بنگلوں کا طواف چھوڑ دیں ۔ ظلم و جبر کے اس استحصالی نظام سے بغاوت کا اعلان کرتاہوں ۔ الیکشن کمیشن آئندہ انتخابات میں بہن اور بیٹی کا حق کھانے والوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہ دے ۔ جو اپنی بیٹی اور بہن سے دھوکہ کرتاہے وہ قوم کا وفادارنہیں ہوسکتا۔ انہوںنے کہاکہ الیکشن کو مشکوک بنادیا گیاہے ۔ عمران اور نوازشریف نے الیکشن کو مشکوک بنایا ۔ خلائی مخلوق اور نادیدہ قوتوں کی بات کر کے الیکشن پر سے عوام کا اعتماد ختم کردیا ، اب اپنی پوزیشن کو کلیئر کرنا ان دونوں کے لیے ضروری ہے ۔ ہم گالی اور گولی کی بجائے خوشحالی اور ترقی کی سیاست چاہتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ موجودہ بجٹ میں 2221 ارب سود کی ادائیگی کے لیے رکھے گئے ہیں سودی معیشت کبھی ترقی نہیں کرسکتی ہم عشر و زکوة کا نظام قائم کریں گے ۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کے دو خاندانوں کے ایک ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ برطانیہ میں پڑاہے ان کی سیاست کا مرکز و محور دولت جمع کرناہے ۔ سیاسی پارٹیاں لٹیروں کے یتیم خانے بن چکی ہیں ۔ ایوب خان سے پرویز مشرف تک جرنیل مسلم لیگیں بناتے رہے ۔انہوںنے کہاکہ متحدہ مجلس عمل ملک میں لاالہ الا اللہ کا نظام قائم کرنا چاہتی ہے ۔ زندگی کے آخری لمحے اور خون کے آخری قطرے تک ہم پاکستا ن میں شریعت کے نفاذ کے لیے لڑیں گے ۔ دینی جماعتوں کے اتحاد سے آ ج امریکہ کے آلہ کار پریشان ہیں وہ اپنے بنگلوں میں بیٹھے گم سم ہیں ۔ اگر 1970 ءمیں متحدہ مجلس عمل جیسی قوت ہوتی تو پاکستان دو لخت نہ ہوتا ۔ دینی جماعتیں اس لیے متحد ہوئی ہیں کہ پھر قوم کو کوئی سانحہ نہ دیکھنا پڑے ۔ انہوںنے کہاکہ کراچی میں 24 ہزار لوگ شہید ہوئے ۔ دہشتگردی ہمارے 65 ہزار لوگوں کو کھا گئی ۔ انہوں نے کہاکہ متحد ہ مجلس عمل کی صفوں میں کوئی لینڈ مافیا ، شوگر مافیا اور ڈر گ مافیا نہیں ہے اور نہ آف شور کمپنیوں والے ہیں ۔ ایم ایم اے کے قافلے میں عاشقان رسول ہیں ۔ اندھے گونگے اور بہرے حکمران کشمیر و فلسطین میں ہونے والے مظالم پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔ آ ج امریکی دھمکیوں کے بعد عالم اسلام کو بھی ایم ایم اے کی ضرورت ہے ۔ ہم بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کی مذمت کرتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ ہم طیب اردگان کو سلام پیش کرتے ہیں اور ہمیں خوشی ہے کہ ملائیشیا میں مہاتیرمحمد کی دوبارہ حکومت بن گئی ہے ۔ ترکی پاکستان اور ملائیشیا مل کر فلسطین کی آزادی کے لیے موثر کردار ادا کرسکتے ہیں ۔
جماعت اسلامی اور متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ قائد اعظم نے فرمایا تھاکہ پاکستان کا طرز حکومت وہی ہوگا جو قرآن میں طے کردیا گیاہے ۔ قیام پاکستان کو ستر سال ہوچکے ہیں آئین بنا ،پاکستان ایٹمی قوت بنا ، تمام قدرتی وسائل سے مالا مال اور جفا کش عوام اور کروڑوں نوجوانوں کے باوجودہم مسائل کا شکار ہیں ۔ کسان اور مزدور محنت کرتاہے اسے محنت کا صلہ نہیں ملتا ۔ انہوںنے کہاکہ 2018 ءکا الیکشن پاکستان کے لیے ایک ٹرننگ پوائنٹ ہے ۔ متحدہ مجلس عمل ان انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی ۔ انہوںنے کہاکہ جمہوریت، 2002 ءسے 2013 ءتک کے انتخابات ہمارے سامنے ہیں جو لوگ حکومتوں میں آئے انہوں نے پاکستان کو مسائل سے دوچار کیا ۔ اشتراکیت کے بعد مغربی سرمایہ دارانہ نظام ناکام ہے ۔ لوٹ مار اور کرپشن کا بازار گرم ہے ۔ سیاسی بے وفا اور نام نہاد الیکٹیبلز پارٹیاں اور جھنڈے بدل کر ملک و قوم سے دھوکہ کرتے ہیں ۔ مزدور ، کسان ، طلبہ ، تاجروں ،وکلا ، اساتذہ اور خواتین سمیت ہر طبقہ پریشان ہے ۔ انہوںنے کہاکہ متحدہ مجلس عمل ایسی خارجہ پالیسی دے گی جس سے امت کے مسائل حل ہوں اور پاکستان دنیا میں سر اٹھا کر چل سکے ۔ کشمیر اور فلسطین کی آزادی ¿ہماری خارجہ پالیسی کا مرکزی نقطہ ہوگا ۔ پانی کے ذخائر کی تعمیر و ترقی قومی اتفاق رائے سے پیدا کریں گے ۔انہوںنے کہاکہ متحدہ مجلس عمل تمام اقلیتوں کے آئینی حقوق کی محافظ بن کر دکھائے گی ۔
امیرجماعت اسلامی و صدر متحدہ مجلس عمل پنجاب میاں مقصود احمد نے اپنے خطاب میںلاہور کے تاجروں ، وکلا ، طلبہ ، مزدوروں اور کسانوں سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی کے افراد کا جلسہ میں بڑی تعداد میں شرکت کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہاکہ پنجاب کے عوام اسلامی انقلاب کا ہراول دستہ بنیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے عوام ملک میں حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں۔ آج کے کامیاب جلسہ نے ثابت کردیاہیے کہ متحدہ مجلس عمل پورے پاکستان میں بھر پور کامیابی کاصل کرے گی ۔ انہوں نے کہاکہ متحدہ مجلس عمل ملک میں اسلامی فلاحی مملکت کا قیام عمل میں لائے گی ۔ ملک میں دینی قوتوں کا ووٹ بنک اکٹھاہو گا اور سیکولر قوتوں کو شکست فاش ہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ مینار پاکستا ن جلسہ سے مجلس عمل نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کردیاہے اور انشاءاللہ 2018 ءمیں کامیابی متحدہ مجلس عمل کی قدم چومے گی ۔
جلسہ سے امیر جماعت اسلامی و نائب صدر متحدہ مجلس عمل سینیٹر سراج الحق ، نائب صدر ایم ایم اے علامہ ساجد نقوی ، پیر اعجاز ہاشمی ، سیکرٹری جنر ل ایم ایم اے لیاقت بلوچ ، ترجمان متحدہ مجلس عمل پاکستان شاہ اویس نورانی ، ایم ایم اے پنجاب کے صدر میاں مقصود احمد ، سیکرٹری جنرل بلال قدرت بٹ ، سینیٹر مشتاق احمد خان ، مولانا گل نصیب خان ، حافظ ابتسام الٰہی ظہیر ، رانا شفیق پسروری ، شاہد محمود سرور و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔جلسہ میں زندہ دلان لاہور سمیت ملک بھر سے عوام کی کثیر تعدادنے شرکت کی ۔
امیرجماعت اسلامی و صدر متحدہ مجلس عمل پنجاب میاں مقصود احمد نے اپنے خطاب میںلاہور کے تاجروں ، وکلا ، طلبہ ، مزدوروں اور کسانوں سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی کے افراد کا جلسہ میں بڑی تعداد میں شرکت کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہاکہ پنجاب کے عوام اسلامی انقلاب کا ہراول دستہ بنیں گے ۔ سیکرٹری جنرل بلال قدرت بٹ اور دیگر رہنماﺅں نے بھی اس موقع پر خطاب کیا ۔
نائب صدر ایم ایم اے پیر اعجاز ہاشمی نے اپنے خطاب میں کہاکہ ایک بھگوڑا مکا لہرا کر کہتا تھاکہ دینی جماعتوں کی حیثیت ہی کیاہے وہ آج ملک سے بھاگ گیا ہے اور اس کے لیے ملک میں آنا خواب بن چکاہے ۔ متحدہ مجلس عمل کی حکومت آ کر سودی نظام ختم کردے گی ۔ سود کی لعنت ختم ہوجائے تو ملک سے امریکی اور یہودی لابی کا تسلط بھی ختم ہو جائے گا ۔ انہوںنے کہاکہ ہم وہی پاکستان چاہتے ہیں جو قائداعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان ہے ۔
نائب صدر ایم ایم اے علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ پاکستان آج نازک صورتحال سے دوچار ہے ۔ استعماری قوتیں پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہی ہیں ۔ ایم ایم اے فلسطین اور کشمیر کی آزادی چاہتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ امریکہ نے ایران کے خلاف جو رویہ اپنا رکھاہے اس کی ہم مذمت کرتے اور نفی کرتے ہیں ۔ ملک میں قانون کے نفاذ میں بہت سی کمزوریاں ہیں ہم آئین و قانون کی بالادستی قائم کریں گے ۔ طبقاتی نظام تعلیم ، استحصالی معیشت ، علاج معالجے کی بہترین سہولتیں مہیا کرنا ایم ایم اے کا منشور ہے ۔ غیر منصفانہ اور سودی نظام پاکستانی معیشت کو تباہ کر رہاہے اس کا خاتمہ اور وسائل کی یکساں تقسیم کو یقینی بنانا ضرور ی ہے ۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا عبدالغفورحیدری نے اپنے خطاب میں کہاکہ پاکستان کے حصول کے لیے لاکھوں قربانیاں دینا پڑیں ۔ آج اس پاکستان کی حالت یہ ہے کہ پاکستان کے دو کروڑ بچے سکول نہیں جاتے دوسری طرف پاکستان کے پچاس لاکھ بچے دینی مدارس میں پڑھتے ہیں اور کچھ جاہل دینی مدارس کو جہالت کی فیکٹریاں کہتے ہیں۔ موجودہ اور سابقہ حکمرانوں نے قومی دولت کو لوٹا ، قومی معیشت کو تباہ و برباد کیا اور قرضوں کی دلدل میں پھنسادیا ۔ انہوں نے اجتماع کو ایک ریفرنڈم قرار دیتے ہوئے لاہور کے شہریوں کا شکریہ ادا کیا اور کہاکہ آج اس اجتماع نے فیصلہ دیدیاہے کہ آنے والی حکومت ایم ایم اے کی ہوگی اور ہم سیکولر ازم اور لبرل ازم کو ملک میں چلنے نہیں دیں گے ہم بیرونی ایجنڈا رکھنے والی قوتوں کا راستہ روک کررہیں گے ۔ ہم تعلیم کو عام کریں گے علاج کی سہولتیں مفت ہو ں گی ۔ انہوںنے کہاکہ ان ظالموں نے پاکستان کو دہشتگردی کی آگ میں جھونک دیا ہم ملک کو امن کا گہوارہ بنائیں گے ۔ ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ ایم یم اے کے منشور میں پہلی ترجیح ہے ۔
صاحبزادہ شاہ محمد انس نورانی نے کہاکہ پاکستان کو اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست بنانا متحدہ مجلس عمل کی جدوجہد کا پہلا نقطہ ہے اسلامی قیادت کی اس وقت سیکولر قوتوں سے جنگ ہے قوم متحدہ مجلس عمل کا ساتھ دے ۔ آج سے اٹھتر سال قبل قیام پاکستان کی قرار داد یہاں منظور ہوئی اور ہمارے آباﺅ اجداد نے لاالہ الا اللہ کے نعرے پر پاکستان حاصل کیا آج پھر اسی جذبے کی ضرورت ہے اور ہم اسی پاکستان کے حصول کی جدوجہد کر رہے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ 2018 ءکے الیکشن میں دینی قوتیں شاندار فتح حاصل کریں گی اور یہ صدی اسلام کی صدی ہوگی ۔
رانا شفیق احمد پسروری نے کہاکہ مینار پاکستان سرزمین پاکستان کا سب سے مقدس مقام ہے ۔ امریکہ ، اسرائیل ،یہودی ونصاریٰ اور ان کے گماشتوں کے مقابلے میں جس طرح آپ سینہ تان کر کھڑے ہیں ، مینار پاکستان بھی شہادت کی انگلی کی طرح کھڑا ہے اور زبان حال سے پیغام دے رہاہے کہ یہاں صرف اسلام کی حکومت چلے گی ۔ آج پاکستانی سیاست کے اندر ایک گندہ کھیل کھیلا جارہاہے اور جلسوں میں قوم کی بیٹیوں کو نچایا جارہاہے ۔ آج ایک شخص پاکستانی اداروں کے خلاف بھارت کی زبان بول رہاہے ۔
اسلامی تحریک کے مرکزی رہنما علامہ عارف واحدی نے کہاکہ آج پاکستان میں سیکولر قوتیں پاکستان کے اسلامی تشخص کو مٹادینا چاہتی ہیں ۔ ملک میں سودی نظام ہے جس کی وجہ سے پاکستان آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کا مقروض ہے ہم پاکستان کو ان سیکولر اور مغرب کی آلہ کار قوتوں سے آزاد کرائیں گے ۔ پاکستان میں نظام مصطفےٰ اور نظام قرآن آئے گا تو نہ صرف پاکستان بلکہ امت کے مسائل حل ہوں گے ۔ کشمیر اور فلسطین آزاد ہوگا۔
امیر جماعت اسلامی خیبر پی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہاکہ متحدہ مجلس عمل کی قیادت کو مبارکباد دیتاہوں کہ انہوںنے پاکستان کو نظام مصطفی کا پاکستان بنانے کا آغاز کردیا۔ پاکستان کے پاس اللہ کے عطا کردہ تمام وسائل اور اور اکیس کروڑ غیرت مند عوام ہیں ۔ اگر آج پاکستان تعلیم ، صحت اور روزگار سے محروم ہے ، بدامنی ، دہشتگردی ، لوڈشیڈنگ ہے اور پاکستان امریکہ کا غلام ہے اور صہیونی اداروں کا مقروض ہے تو اس کا مجرم وہ طبقہ ہے جس نے پاکستان کو لوٹ کر دولت باہر منتقل کی ۔ شکیل آ فریدی کو حکومت رہا کرناچاہتی ہے جو شکیل آفریدی اور کرنل جوزف کو رہا کرے گا ، عوام اس کو گریبان سے پکڑیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ متحدہ مجلس عمل اس ملک کو اسلامی و خوشحال پاکستان بنائے گی ۔ آج غلامان مصطفی کا دورشروع ہوچکاہے اور غلامان امریکہ اور سیکولر ازام کے تابع اداروں پر لرزہ طاری ہے ۔
مولانا گل نصیب خان امیر جمعیت علمائے پاکستان کے پی کے نے کہاکہ 2018 ءکے الیکشن میں دو قوتیں آنے سامنے ہیں ایک امریکی غلاموں اور عالمی قوتوں کے اشارے پر ملک کے اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتی ہے اور دوسری قوت ملک میں امن و امان ، استحکام ،تعلیم ، صحت ، روزگار اور عدل کا بول بالاکرنے کی جدوجہد کر رہی ہے اور پاکستان کو اسلام کا قلعہ بناناچاہتی ہے ۔ عوام اسلام پسندوں کی قوت ہے ۔ سیکولر قوتوں اور جرنیلوں پر ویز مشرف، ایوب خان ، یحییٰ خان اور ضیاءالحق نے عدم استحکام پیدا کیا ۔ آج ملک دوراہے پرکھڑا ہے قوم کو اسلام پسندوں کا ساتھ دے کر یہ جنگ جیتناہوگی ۔
ایم ایم صوبہ سندھ کے صدر علامہ راشد محمود سومرو نے کہاکہ 1947 ءمیں پاکستان جس نعرے پر حاصل کیا گیا تھا ستر سال گزرگئے لاالہ الا للہ کا نظام نہیں ملا اور یہودیوں اور نصرانیوں کی غلامی کے طوق پہنائے گئے لیکن متحدہ مجلس عمل اللہ کے نظام کو نافذ کرنے کے لیے بنی ہے اور ہم یہ مقصد حاصل کر کے رہیں گے ۔ نائب صدر ایم ایم اے پنجاب، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے رہنما علامہ ریاض الرحمن یزدانی نے کہاکہ یہ محمد کے غلام جمع ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمیں محمد کے غداروں سے لڑا دو ۔ مولانا جاوید قصوری نے کہاکہ ووٹ اسلام ، نظریے ، اسلام کے غلبے ، سیکولر ازم اور طاغوتی قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہے ختم نبوت کے تحفظ کے لیے ہے دشمن ہمارے لاالہ الا اللہ کے رشتے کو ختم کرنا چاہتاہے ۔ ایم ایم اے کے نائب صدر و جے یو پی پنجاب کے صدر نور احمد سیال نے کہاکہ متحدہ مجلس عمل کے احیا سے دینی قوتیں خوش اور متحد ہو گئی ہیں اور دین دشمن پریشان ہوگئے ہیں جلسہ کی حاضری سے پتہ چل رہاہے کہ آئندہ انتخابات متحدہ مجلس عمل جیتے گی ۔
اسلامی تحریک پنجاب اور صدر نائب صدر ایم ایم اے پنجاب نے اپنے خطاب میں کہاکہ جو مصنوعی فرقہ واریت بنا کر قوم کو لڑانے کی سازش کی جارہی تھی وہ دینی جماعتوں کے اتحاد نے ناکام بنادی ۔ وزیراعظم کا لباس اتار دیا گیا مگر وہ ابھی امریکہ کے گن گاتے ہیں ۔ مجلس عمل کا قیام امریکی پٹھوﺅں کے منہ پر طمانچہ ہے ملک کو بچانے اور مستحکم کرنے کے لیے حکومت متحدہ مجلس عمل کے حوالے کردیں ۔
مرکزی جمعیت اہلحدیث کے رہنما علامہ ابتسام الٰہی نے کہاکہ ملک میں اللہ اور اس کے رسول کا نظام ہی چلے گا جن علماءنے تمہارے نکاح پڑھائے ، بچوں کے کانوں میں اذانیں دیں اور تمہارے جنازے پڑھائے اب حکومت بھی وہی حضور کے غلام کریں گے ۔ سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام کو زمین بوس کردیا جائے گا ۔ ملک و قوم کے مسائل کاحل صرف متحدہ مجلس عمل کے پاس ہے ۔نوازشریف زرداری اور عمران خان کشمیر فلسطین شام سمیت دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے لیے منہ کیوں نہیں کھولتے ان کے حق میں اگر کوئی آوازاٹھاتاہے تو وہ صرف علمائے کرام اور متحدہ مجلس عمل کے قائدین اٹھاتے ہیں ۔مجلس عمل پنجاب کے نائب صدر مولانا عتیق الرحمن نے کہاکہ میں پاکستان کے دل لاہور میں اتنا عظیم الشان جلسہ کرنے پر متحدہ مجلس عمل کی قیادت کو مبارکباد دیتاہوں قوم اس وقت اسلامی قیادت کی طرف دیکھ رہی ہے آئندہ انتخابات میں کامیابی ایم ایم اے کے قدم چومے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں