43

بھارت نواز حکمرانوں کی وجہ سے کشمیر کی تحریک اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکی۔ پروفیسر حافظ محمد سعید

ایبٹ آباد( پاکستان اپ ڈیٹس )امیر جماعةالدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ بھارت نواز حکمرانوں کی وجہ سے کشمیر کی تحریک اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکی۔ آزادی کشمیر میں بہت بڑی رکاوٹ خود حکمران ہیں۔ نواز شریف بھارت کی زبان بول رہے ہیں اور اپنی غلطی ماننے کی بجائے اس پر ڈٹے ہوئے ہیں۔محض ذاتی مفادات کیلئے ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوششیں قوم کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔ شہداءکے خون سے بے وفائی کرتے ہوئے انڈیا سے دوستی کی پینگیں بڑھائی جارہی ہیں۔بھارتی خوشنودی کی خاطر ہمیں سیاست میں آنے سے روکنے کیلئے رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔ہزارہ کے لوگوں نے تحریک آزادی کشمیر میں زبردست کردار اد ا کیا۔ وہ بار گراﺅنڈ ایبٹ آباد میں نظریہ پاکستان کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر ملی مسلم لیگ کے صدر سیف اللہ خالد، حاجی لیاقت علی، سردار عمیر احمد، نصر جاوید، سردار سجاد احمد خاں،مفتی محمد قاسم، پرویز اختر، قاری ذوالفقار ، گلفام جہانگیری و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس میں مقامی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماﺅں سمیت تمام مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد موجود تھے۔ اس دوران سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ جماعةالدعوة کے سربراہ حافظ محمد سعید نے اپنے خطاب میں کہاکہ اعلیٰ عدلیہ نے ہمیشہ ہمارے حق میں فیصلے دیے ‘ آج یہ فیصلے بعض لوگوں کو برداشت نہیں ہو رہے۔کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرنے والوں کیخلاف دہشت گردی کا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔جس بنیاد پر یہ ملک بنا اسی بنیاد پر اس کی حفاظت کرنی ہے۔ جب تک طرز سیاست نہیں بدلے گا خطرات بڑھتے رہیں گے۔ ہم قریہ قریہ شہر شہر جا کر لوگوں کو نظریہ پاکستان سے آگاہ کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ سابق وزیر اعظم اللہ کی پکڑ کا شکار ہیں۔ وہ اپنی غلطیوں پر اللہ سے معافی مانگنے کی بجائے مزید متنازع بیانات دے رہے ہیں۔ انہیں کشمیریوں پر ظلم و بربریت اور شہادتوں کا دکھ نہیں۔ آپ نے دوستی کرنی ہے تو مظلوم کشمیریوں سے کریں جن کی نسل کشی کی جارہی ہے۔بھارت سے دوستی ترک کرنے سے ہی درپیش مسائل حل ہوں گے۔آج پاکستان کو بچانے کا مرحلہ ہے۔ 2018 کا الیکشن عام الیکشن نہیں۔ یہ معاملہ ملک کی حفاظت اور اسے بچاکر خطے میں پاکستان کو قوت بنانے کاہے۔حافظ محمد سعید نے کہاکہ پاکستان کو زراعت اور صنعت سے محروم کرکے بھارت کی طفیلی ریاست بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ بیرونی قوتیں انڈیا کی تجارت وسط ایشیا تک پھیلانا چاہتی ہیں۔ افغانستان میں اس کے مرکز بنا کر پاکستان میں دہشتگردی کروائی جارہی ہے۔ افغانستان میں داعش کو مضبوط کرنے اور بھارتی مراکز بنانے کا مقصد خطے میں دہشتگردی کی لہر بڑھانا ہے۔ انہوںنے کہاکہ جذبے خالص ہوں تو مدد آسمانوں سے نازل ہوتی ہے۔ ہمارے لیڈر اور عوام بھول گئے ہم نے یہ ملک کیوں بنایا تھا۔ قائد اعظم نے بنگال جاکر کہا تھا کہ ہم اسلام کے نام پر ملک بنانا چاہتے ہیں۔ بنگالی سب سے پہلے پاکستان کے لیے ساتھ ملے۔ اس کے بعد قائد اعظم بلوچستان گئے اور کہاکہ ہم لاالہ الا اللہ کے لیے ملک بنانا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ کلمہ والے ملک کے لیے ہماری جانیں حاظر ہیں۔ اگر مسلم لیگ کے نام پر سیاست کرنے والے قائد اعظم کے ویژن کو اپناتے تو آج رسوائیاں نہ ہوتیں۔ انہوںنے کہاکہ ہزارہ بڑی تاریخ کا نام ہے جنھوں نے قیام پاکستان کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔جن سے قوموں کی تربیت ہوتی ہے نسلیں پروان چڑھتی ہیں ہمارے نصابوں سے وہ سب کچھ نکالا جارہا ہے۔ جب پاکستان کا اعلان ہوا تو اس سے 2 ماہ قبل کشمیریوں نے فیصلہ کرکے قرار داد کی شکل میں اعلان کیا ہم انڈیا میں نہیں بلکہ پاکستان میں شامل ہوں گے۔قیام پاکستان کا اعلان ہوتے ہی بھارت نے فوج کشمیر میں داخل کردی۔قائد اعظم نے انگریز آرمی چیف کو فوج کشمیر میں اتارنے کا حکم دیا مگراس نے حکم ماننے سے انکار کردیا ۔ قائد اعظم ہزارہ کے لوگوں کے پاس پہنچے تو ہزارہ والے ہراول دستہ بن کرنکلے اور جدوجہد آزادی کشمیر کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر کا جہاد شروع کرنے والے ہزارہ کے لوگ تھے جنھوں نے آگے بڑھ کر آزادی کی تحریک اٹھائی۔ بھارت کو پیچھے دھکیلتے ہوئے علاقے فتح کئے۔ آزاد کشمیر کی آزادی میں ہزارہ کا خون شامل ہے۔ملی مسلم لیگ کے صدر سیف اللہ خالد نے کہاکہ معمولی مفادات پر ووٹ بیچنے کی بجائے قومی مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔ ملی مسلم لیگ پورے ملک میں شعور پیدا کریں گے کہ ووٹ محب وطن لوگوں کو دیں۔ کارکن متحرک ہوکر نوجوانوں کو ساتھ ملائیں۔ یہ ملک کا قیمتی ترین اثاثہ ہیں۔تنظیم سازی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ رمضان المبارک کے بعد رکن سازی کی مہم شروع کریں گے۔ہر فرداورکارکن متحرک ہوجائے۔ ایک ایک دروازے تک پہنچ کر ملی مسلم لیگ کے منشور سے آگاہ کیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ ہم پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانا چاہتے ہیں۔ پاکستان کو قرضوں سے جان چھڑا کر مضبوط اور مستحکم کرنا ہے۔ ہم نے کشمیر کا مقدمہ لڑنا ہے اور وہاں سے نکلنے والے دریاﺅں کو آزادی دلانی ہے۔اگر پاکستان کے حالات بدلنا، امریکا کی غلامی سے نکلنا اور بھارت کو کرارا جواب دینا چاہتے ہوتو نوجوانوں میں ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ پیدا کرو۔ 2018ءمیں طے کر لیں کہ نظریہ پاکستان کے محافظوں کا ساتھ دینا ہے۔ملی مسلم لیگ خیبر پختونخواہ کے صدر حاجی لیاقت علی نے کہاکہ ہم نظریہ پاکستان کی سیاست کرنے میدان میں آئے ہیں۔ ملک دشمن فرقہ واریت، لسانیت کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ حکمرانوں کا نظریہ لوٹ کھسوٹ، کرپشن ہے۔ جو ملک دشمنوں کا ایجنڈا ہے۔ ہم خدمت کی سیاست کریں گے۔سردار عمیر احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میرا تعلق تحریک انصاف سے رہا آج اپنی ماں کی دعا سے مرد حق حافظ محمد سعید کی جماعت سے منسلک ہو گیا ہوں۔ ملی مسلم لیگ سمیت دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماﺅں نصر جاوید، سردار سجاد احمد خاں،مفتی محمد قاسم، پرویز اختر، قاری ذوالفقار ، گلفام جہانگیری و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مظلوم کشمیریوں کے پشتیبان حافظ محمد سعید ، سیف اللہ خالد و دیگر رہنماﺅں کو ایبٹ آباد آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ نظریہ پاکستان کی بنیاد ہی یہ ملک قائم ہوا۔اس ملک کا دفاع بھی نظریہ پاکستان سے ہی ہوگا۔ ہماری سیاست ووٹوں کی خرید و فروخت نہیں ہوگی۔ ہم نے ان شاءاللہ اس ملک کی بقاءاور استحکام کے لیے کام کرنا ہے۔ ہمیں قائد اعظم کا پاکستان چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں