87

عید کے بعد ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی ملی مسلم لیگ کی رکنیت سازی مہم چلائی جائے گی:سیف اللہ خالد

کوئٹہ (پاکستان اپ ڈیٹس )ملی مسلم لیگ کے صدر سیف اللہ خالد نے کہا ہے کہ بلوچستان کا ہر فرد پاکستان سے محبت کرتا ہے۔ بلوچستان کے مسائل کا واحد حل اسی میں ہے کہ اس کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے۔یہاں کے لوگوں نے اسلام و پاکستان کیلئے قربانیاں پیش کیں۔ دشمن قوتیں ہمارے ملک میں نفرتیں پروان چڑھانا چاہتے ہیں‘ہمیں باہم متحد ہو کر ان سازشوں کو ناکام بنانا ہے اور پوری قوم کو ایک لڑی میں پرونا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے ساتھ نظریہ پاکستان اور کشمیر کی آزادی کی بنیاد پر اتحاد کریں گے۔عید کے بعد ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی ملی مسلم لیگ کی رکنیت سازی مہم چلائی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر محمد اشفاق،ڈاکٹر ہارون بھی موجود تھے۔سیف اللہ خالد نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے وطن عزیز پاکستان کے قیام اور اس کے دفاع کیلئے لازوال قربانیاں پیش کی ہیں یہی وجہ ہے کہ آج دشمن قوتیں اس خطہ کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتی ہیں اور یہاں لسانیت و صوبائیت پرستی پروان چڑھانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ ہم نے دشمن کی سازشوں کو سمجھنا اور انہیں ناکام بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملی مسلم لیگ آج قائد اعظم محمد علی جناح کے مشن کو لیکر سیاست میں آئی ہے اور نظریہ پاکستان کی بنیادوں پر اس ملک کو مضبوط و مستحکم بنانا چاہتی ہے۔ بلوچستان کو اللہ نے بے پناہ وسائل سے نواز رکھا ہے۔ بعض حکومتوںنے یہاں کے عوام کو محض ذاتی مفادات کی خاطر وسائل سے محروم رکھا جو کہ درست نہیں ہے۔ ملی مسلم لیگ نے خدمت انسانیت کی سیاست کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ہم ان شاءاللہ بلوچ عوام کی محرومیوں کا ازالہ کریں گے۔ہم غربت ختم کرنا اورتعلیم ، صحت اور دیگر بنیادی ضروریات عام کرنا چاہتے ہیں۔بلوچستان کی اہمیت اس ملک کیلئے بہت زیادہ ہے۔ اس لئے دشمن قوتیں اسے خاص طور پر ٹارگٹ کر رہی ہیں۔ سی پیک کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ہمیں اس ملک کی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔ سی پیک جیسے سب منصوبے مکمل ہونے چاہئیں۔ ہمیں اس ملک میں اتحادویکجہتی کا ماحول پیدا کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملی مسلم لیگ میدان میں آئی ہے۔یہ سیاسی پارٹیوں میں ایک پارٹی کا اضافہ نہیں۔پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر وجود میں آیا اس میں کلمہ کی سیاست کا راج چلے گا۔غیر ملکی مفادات کی سیاست وطن عزیز میںنہیں چلنے دیں گے۔مشرق و مغرب سے پاکستان کے دشمنوں کی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔خون کا آخری قطرہ بہا دیں اور نظریہ پاکستان اور اس کی بنیاد پر وجود میں آنے والے وطن عزیز کے چپے چپے کی حفاظت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ وطن عزیز حالت جنگ میں ہے۔ان حالات میںقومیں غافل نہیں ہوا کرتیں۔ہم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر دشمنوںکی سازشیں ناکام بنائیں گے۔اقتدار کے ایوانوں میں براجمان ہونا یا سیٹوں کو جیتنا ہمارا ہدف نہیں۔ہم سیاست کی اصلاح کرنے آئے ہیں اور سیاست کرنےو الوں کی اصلاح کریں گے۔پاکستانیوں سے ووٹ بھی لیں اور دشمنوں سے دوستیاں بھی کریں اب یہ انداز پاکستان میں نہیں چلیں گے۔سازشوں،دہشت گردی،تخریب کاری کا خاتمہ کرنا ہے۔دنیا ہمیں جانتی ہے ہم پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے محافظ بن کر کھڑے ہوئے ہیں۔ہم نے عزم کیا ہے کہ اس وقت تک آزاد پاکستان نہیںبنا سکتے جب تک ملک کو غلامی سے نہیں نکال سکتے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں