70

اگر ہم جنوبی سندھ صوبے کی بات کرتے ہیں تو میں قباحت کیا ہے؟؟:آفاق احمد

کراچی(پاکستان اپ ڈیٹس) مہاجر قومی موومنٹ (پاکستان) کے چیئرمین آفاق احمد نے اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مراد علی شاہ اور خورشید شاہ نے صوبے اور مہاجر نام پر جو تضحیک آمیزاور آمرانہ طرز عمل کا اظہار کیا خصوصاً مراد علی شاہ سے جس طرح کا ہتک آمیز انداز اختیار کرکے دھمکی دی اور علیحدہ صوبے کی بات کرنے والوں پر جس طرح لعنت بھیج کر اپنی آمرانہ سوچ اور دھونس و دھمکی کا اظہار کیا اسکی بھرپور مذمت کرتے ہیں ۔ ایسے رویئے جمہوری روایات کے خلاف ہیں جس سے نفرت تو پیدا ہوسکتی ہے سندھ کے دیہی عوام کا بھلا ہرگز نہیں ہوگا۔آفاق احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ اکثریت کے گھمنڈ میں وڈیرانہ سوچ کی وجہ سے ہی سندھ شہری علاقوں کے عوام میں علیحدہ صوبے کی سوچ پروان چڑھی ہے کیونکہ سندھ کے شہری عوام بالخصوص مہاجر عوام اپنے جائز حقوق دلائل کی بنیاد پر کسی کو قائل کرکے اس صوبائی اسمبلی سے کےسے حاصل کرسکتے ہیں جہاں کثرت رائے پروڈیرانہ فےصلے مسلط کئے جاتے ہوں۔ مراد علی شاہ کے رویئے نے جنوبی سندھ صوبے کے قیام کی ضرورت کو شدید ترکردیا ہے۔ آج سند ھ کی تقسیم پر آگ بگولا ہونے والوں کو اگر سندھ کو متحد رکھنا تھا تو سندھ میں بسنے والے ہر شخص کو متحد کرتے ، سندھ میں شہری اور دیہی کی تقسیم کے خاتمے کےلئے اقدامات کرتے،کوٹہ سسٹم کے ذریعے قابلیت کے قتل عام کو روکتے،لیکن یہ سب کرنے کے بجائے شہری اور دیہی کی تقسیم کو مزید گہراکیا گیا، کوٹہ سسٹم کے خاتمے کی بجائے ہر بار اسکی مدت ختم ہونے پر اکثریت کے بل بوتے پر اسے پھر مسلط کردیا گیا ان حالات میں اگر ہم جنوبی سندھ صوبے کی بات کرتے ہیں تو میں قباحت کیا ہے؟؟ ہندوستان اپنے قیام کے بعد سے اب تک دس نئے صوبے بنا چکا ہے اور خود پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب میں صوبے کی حامی ہے لیکن سندھ میں انکے سینے پر سانپ لوٹ رہا ہے ۔ اپنے خطاب میں آفاق احمد نے کہا کہ مراد علی شاہ کو اگر جوش خطاب کا اتنا ہی شوق ہے تو انہیں پہلے تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہئے کیونکہ اگر وہ کچھ پڑھ چکے ہوتے تو انہیں صوبے کی بات کرنے والوں پر لعنت بھیجنے کی ہمت ہی نہ ہوتی کیونکہ سندھ کی جس شہری و دیہی کی تقسیم کی بات ہم کررہے ہیں اسکی بنیاد کسی اور نے نہیں انکے اپنے ہی لیڈر ذوالفقار علی بھٹو نے ڈالی تھی۔ یہ بھٹو ہی تھے جو 1972میں لسانی بل منظور کرکے خود سندھ کی تقسیم کی لکیر کھینچ چکے تھے ہم تو صرف ذولفقار علی بھٹو کی اس تقسیم کو قانونی شکل دے رہے ہیں اس لئے مراد علی شاہ کو اگر لعنت بھیجنی ہے تو اس لعنت کا سب سے زیادہ حقدار خود ذوالفقار علی بھٹو ہیں۔آج جس کو دیکھو وہ مہاجروں کو برا بھلا کہنا اپنے حق سمجھ رہا ہی، مراد علی شاہ تو خیر تاریخ سے نابلد انسان ہے مجھے زیادہ دکھ خورشید شاہ جیسے منجھے ہوئے سیاست دان کی بات سے پہنچا جنہوں نے کہا کہ مہاجر کچھ نہیں ہوتا ۔ مجھے حیرت ہے کہ خورشید شاہ مہاجر اور پناہ گزین کا فرق ہی نہیں سمجھتے انہیں یہی نہیں پتا کہ ہم پناہ گزین نہیں مہاجر ہیں جن کا اس زمین پر حق قانوناً تسلیم کیا گیا ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو بھارت سے آنے والے مہاجرین کا یہاں سے جانے والے ہندوﺅں کی املاک پر حق تسلیم ہی نہیں کیا جاتا ۔ اگرع ہمارا اس املاک پر حق تھا تو پھر ہمارا اس ملک پر بھی اتنا ہی حق ہے جتنا یہابسنے والی کسی اور قوم کا۔اپنے خطاب میں آفاق احمد نے کہا کہ مہاجروں کے خلاف بکواس کا سلسلہ اب بند ہونا چاہئے۔ ہماری تربیت اس قسم کی نہیں کہ گالی کا جواب گالی سے دیں لیکن اگر مسلسل بکواس سن کر میرے کسی ساتھی نے جواب دینا شروع کیا اور سندھیوں کی تاریخ اور انکے کردار سے پردہ اٹھانا شروع کیا تو پھر شائد ان لوگوں کو منہ چھپانے کی جگہ نہ ملے لیکن اخلاقیات کو چھوڑنا ہماری تربیت نہیں ورنہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ مےری دھرتی پاکستان کی تقسےم پر کس کس نے جشن منایا تھا ہم بھولے نہیں ہیں،سندھ کے شہر “سن” میں سندھ کو پاکستان کے نقشے سے علےحدہ کرنے کی تقریب میں تالیا ں کو ن بجاتا رہا ہے اور سندھودےش کے قومی ترانے پر ادب سے کھڑے ہوکر سندھودیش کے پرچم کو سلامی کون دیتا رہا ہے ہمیں سب کی خبر ہے ۔ اگر ہم آج صبر کررہے ہیں تو اسے غنیمت سمجھا جائے وربہ ہمارے بزرگوں نے یہ ملک اس لئے نہیں بنایا تھا کہ انگریزوں کی غلامی سے آزاد ی حاصل کرکے سندھی وڈیروں کی غلامی تسلیم کرلےں۔ان لوگوں کی ڈوریں کون ہلا رہا ہے یہ بھی ہم اچھی طرح جانتے ہیں ہمیں تو یہ بھی پتا ہے کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر آگ بگولہ ہونے والے بھارت کے کشن گنگا ڈیم پر کیوں سوئے ہوئے ہیں ہمیں سب کا پتا ہے اس لئے کہتے ہیں کہ تہذیب کا دامن تھاما جائے کیونکہ اگر ”بات نکلی تو بہت دور تک جائے گی“۔ آفاق حمد نے کہا کہ مراد علی شاہ اور خورشید شاہ کی پوری ڈرامہ بازی کا مقصد صرف اور صرف سندھی عوام کو بیوقوف بنانا ہے کیونکہ ہمیشہ سے یہی ہوتا آیا ہے کہ جب بھی الیکشن قریب آتے ہیں تو مہاجروں کو دشمن ثابت کرکے سندھیوں کو خوفزدہ کیا جاتا ہے تاکہ انکو ڈرا کر ان سے ووٹ لئے جاسکیں اور یہ صررف اس لئے ہوتا ہے کیونکہ اپنے پورے دور حکومت میں پیپلز پارٹی سوائے لوٹ مار کے کچھ نہیں کرتی اس لئے پرفارمنس کی بنیاد پر انتخابات میں جانے کی بجائے مہاجر دشمنی کا ہوا کھڑا کرنا ان لوگوں کا وطیرہ بنا رہا ہے ۔ سندھی عوام کو سمجھنا چاہئے کہ یہ سندھی وڈیرے جتنے مہاجروں کے دشمن ہیں اتنے ہی انکے بھی دشمن ہیں تو سندھی قوم کو نسل در نسل محکوم بنائے رکھنا چاہتے ہیںیہی وجہ ہے کہ تھر سے لے کر کراچی تک ہزاروں مرگئے لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔آفاق احمد نے کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کا مستقبل جنوبی سندھ صوبے کے قیام سے جڑا ہے اور اگر آج ہم نے علیحدہ صوبے کی تحریک دوبارہ شروع کی تو اسکی وجہ خود سندھی عوام بنیں کیونکہ اگر انہوں نے وڈیرہ شاہی کی غلامی سے نجات کیلئے کوششیں کی ہوتیں تو ہمیں نئے صوبے کا مطالبہ کرنے کی ضرورت ہی نہ رہتی لیکن ہم انکی غلامی کو دیکھتے ہوئے قیامت تک انتظار تو نہیں کرسکتے اس لئے اب جنوبی سندھ صوبے کی تحریک مزید تیز کی جائے گی جس میں مراد علی شاہ یا خورشید شاہ جیسے لوگوں کی بکواس کے بعد مزید تیزی ہی آئے گی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں