64

ملی مسلم لیگ الیکشن میں صادق و امین قیادت کو امیدوار نامزد کرے گی :سیف اللہ خالد

لاہور(پاکستان اپ ڈیٹس)ملی مسلم لیگ کے صدر سیف اللہ خالد نے کہا ہے کہ ہم آئین پاکستان کی روشنی میں وطن عزیز پاکستان کو لاالہ الااللہ کی بنیاد پر اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔پاکستان کو آزاد اور خود مختار ملک کے طور پر ترقی کی راستے پر گامزن کریں گے۔ملی مسلم لیگ الیکشن میں صادق و امین قیادت کو امیدوار نامزد کرے گی جو خدمت انسانیت کا جذبہ رکھتے ہوں گے۔صوبائیت،لسانیت ،فرقہ واریت کو ختم کر کے نظریہ پاکستان کی بنیاد پر عظیم تر اتحاد قائم کر یں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں افطار ڈنر کی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سیف اللہ خالد نے کہا کہنظریہ پاکستان کی بنیاد پر قائد اعظم محمد علی جناح نے برصغیر کے کر وڑوں مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیاتھا۔ ہم بھی ان شاءاللہ اسی نظریہ پاکستان لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے ذریعہ علاقائیت، لسانیت اور صوبائیت ختم کر کے ملک میں اتحاد کی فضا پیدا کریں گے۔ہم نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے‘ کے تحت نوجوان نسل کی تربیت کرنا چاہتے ہیں۔ 1973ءکے آئین میں کتاب وسنت کو بالاتر قانون کی حیثیت حاصل ہے لیکن دیکھا جائے تو پاکستان میں آج اس کی عملی شکل نظر نہیں آتی۔سود کی شکل میں اللہ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ پاکستان کے آئین میں یہ بات طے ہے کہ اس ملک کے منتخب نمائندے، حکمران اور سیاستدان صادق اور امین ہونے چاہئیں مگرایسا نہیں ہے۔ہم اقتدار کا حصول نہیں معاشرے کی اصلاح اور کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کئے گئے پاکستان کو ایک آزاد اور خودمختار ملک کے طور پر ترقی کے راستے پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی سیاست میں غریب اور متوسط طبقہ کی نمائندگی تقریبا نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر کسی غریب خاندان سے تعلق رکھنے والا کوئی پڑھا لکھا فرد اسمبلی کی سیٹ جیت لیتا ہے تواس کیلئے مشکلات کھڑی کی جاتی ہیں۔ چندایک سال جب وہ اسمبلی کا ماحول دیکھتاہے تو وہ بھی اپنی ساری صلاحیتیں دولت کمانے کیلئے صرف کرنا شروع کر دیتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک دوالیکشن کے بعد وہ بھی امیر بن جاتا ہے۔ روایتی سیاستدانوں والی خرابیاں اس میں بھی پیدا ہو جاتی ہیں اور اس کا شمار بھی علاقہ کے بااثر لوگوں میں ہونے لگتا ہے۔ہماری کوشش ہو گی کہ اس ملک میں ایک نئی قیادت لائیں جس کی بنیاد دولت نہیں اہلیت ہو۔ ہم لوگوں کی تربیت کر کے اور انکی صلاحیتیں نکھا ر کے ایسی قیادت سامنے لائیں گے جو واقعتا صحیح معنوں میں ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ رکھتی ہو۔ ہم قوم کے سامنے ایسا لائحہ عمل پیش کرنا چاہتے ہیں کہ کوئی ملکی وسائل کی لوٹ مار کر کے اس ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا اور لوگوں کے حقوق غصب نہ کر سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں