42

ملی مسلم لیگ یوتھ ونگ کے قیام کا مقصد نوجوان نسل کونظریہ پاکستان سے روشناس کرواتے ہوئے اقبال کا شاہین بناناہے:انجینئر نویدقمر

سیالکوٹ (عبدالحنان سے ) ملی مسلم لیگ یوتھ ونگ کے زیر اہتمام سرکلر روڈ رنگ پورہ میں یوتھ کنونشن کا انعقاد کیا گیا جس میں کالجز،یونیورسٹیز اور اہل علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر شرکاءمیں زبردست جوش وخروش دیکھنے کوآیا۔شرکاءپاکستان زندہ باد،ملی مسلم لیگ پائندہ باد کے پرشگاف نعرے بلند کرتے رہے۔ یوتھ کنونشن کے مہمان خصوصی صدرملی مسلم لیگ یوتھ ونگ انجینئر نویدقمر، نائب صدر ملی مسلم لیگ یوتھ ونگ محمد راشد اور ملی مسلم لیگ کے حمایت یافتہ اور اللہ اکبر تحریک نامزد امیدوار برائے صوبائی اسمبلی حلقہ پی پی36 ڈاکٹر نعمان نذیر چوہدری تھے۔ اس موقع پر صدرملی مسلم لیگ یوتھ ونگ انجینئر نویدقمرنے کنونشن کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم جیسے بنیادی حق کو غریب کی پہنچ سے دور کردیا گیا ہے۔نوجوان نسل کو مایوسیوں اور اندھیروں میں دھکیلا جارہا ہے۔پڑھا لکھا طبقہ بیرون ملک نوکری کرنے کو ترجیح دے رہا ہے۔مستحکم پاکستان کی بنیاد ہی نظریہ پاکستان ہے۔جس نظریے کی بنیاد پر پاکستان قائم ہوا اسی بنیادپر اس کا بچاؤممکن ہے۔ ملی مسلم لیگ یوتھ ونگ کے قیام کا مقصد نوجوان نسل کونظریہ پاکستان سے روشناس کرواتے ہوئے اقبال کا شاہین بناناہے۔نائب صدر ملی مسلم لیگ یوتھ ونگ محمد راشدنے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے نوجوانوں کو ماسوائے مایوسیوں کے کچھ نہیں دیا۔ یہ جواں خون ہی پاکستان کی اصل طاقت ہے۔ پاکستان بنانے میں بھی اصل کردار ان نوجوانوں کا ہی تھا۔ اب ہم ان ہی نوجوانوں کو اکٹھاکر کے پاکستان کو بچائیں گے۔ محمد راشد نے مزید کہا کہ بد قسمتی سے پاکستان کے اصل ایشوز پر بات کرنے کیلئے کوئی تیار نہیں۔ بھارت پاکستان کا پانی بند کر کے اس کو بنجر کرنے کرنے سازش رچا رہا ہے اور دوسری طرف ہمارے سیاست دان اپنی دولت بنانے میں مصروف ہیں۔ ملی مسلم لیگ یوتھ ونگ نوجوانوں کو مایوسیوں اور اندھیروں سے نکال کر ان کی صلاحیتیوں کو بروئے کار لائے گی۔ملی مسلم لیگ کے حمایت یافتہ اور اللہ اکبر کے نامزد امیدوار برائے صوبائی اسمبلی حلقہ پی پی36 ڈاکٹر نعمان نذیر چوہدری نے یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ختم نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اس پر کسی صورت میں سمجھوتہ نہیں کیاجاسکتا۔پاکستان کوبنجر کرنے کی سازشیں عروج پر ہیں۔ہم عوامی مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے سیاست کے میدان میں اترے ہیں۔سیاست کو کاروبار سمجھنے والے الیکشن 2018ءمیں ووٹ کی طاقت سے مسترد کردئیے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں