16

مانیٹرنگ آفیسر روزانہ کی بنیاد پر امیدواروں کی انتخابی مہم کو چیک کریں اور خلاف ورزی کی فوری اطلاع دیں:ڈپٹی کمشنر زمان وٹو ،،،،ساہیوال کی مزید خبریں

ساہیوال(رانا محمد یحی فاروقی سے)ڈپٹی کمشنر زمان وٹو نے تمام مانیٹرنگ افسران پر زور دیا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنی رپورٹس بجھوائیں تا کہ ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کیا جائے -تمام امیدوار الیکشن کمیشن کے مرتب کردہ ضابطہ اخلاق کی پابندی کریں تا کہ پر امن انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جا سکے -یہ بات انہو ںنے اپنے دفتر میں الیکشن کمیشن کی طرف سے مقرر کردہ الیکشن مانیٹرز کے اجلاس سے خطا ب کر رہے تھے جس میں اے ڈی سی آر قدیر احمد باجوہ اور ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر رانا عبدالغفار کے علاوہ ذوالفقار علی‘فوزیہ اعجاز‘خالد شبیر‘ڈاکٹر امتیاز‘زبیر وٹو اور دوسرے افسران نے شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ مانیٹرنگ آفیسر روزانہ کی بنیاد پر امیدواروں کی انتخابی مہم کو چیک کریں اور خلاف ورزی کی فوری اطلاع دیں تا کہ بر وقت تادیبی کارروائی کی جا سکے -انہو ںنے مزید کہا کہ تمام مانیٹرنگ افسران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کی بلا تعطل رپورٹنگ کریں اورکسی قسم کا کوئی دباﺅ برداشت نہ کریں-انہو ںنے کہا کہ انتظامیہ انتخابی مہم کے دوران ضابطہ اخلاق پر مکمل عملدر آمد کو یقینی بنائے گی-اجلاس میں بتایا گیا کہ امیدواروں کو انتخابی مہم میں کارنر میٹنگز کی اجازت ہو گی جس میں لاﺅڈ سپیکر کا استعمال سختی سے منع ہے تاہم جلسوں میں انتظامیہ کی اجازت سے لاﺅڈ سپیکر استعمال ہو سکے گا۔آخر میں تمام مانیٹرنگ افسران نے پچھلے دو تین دنوں کی اپنی اپنی رپورٹس ڈپٹی کمشنرکو پیش کیں۔

ساہیوال(بیورورپورٹ)ڈی پی او غلام مبشرمیکن کا دفتر میں تعارفی دورہ سائلین کے لئے ویٹنگ روم اور ٹھنڈے پانی کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت ۔ تفصیل کے مطابق ڈی پی اوغلام مبشرمیکن نے اپنی تعیناتی کے بعد گزشتہ روز اپنے آفس کا تعارفی دورہ کیا جس میں انہوں نے ریڈر برانچ ، پی اے برانچ ، آئی ٹی برانچ ، اکاﺅنٹس برانچ ، پولیس خدمت مرکز ، لائسنس برانچ ، ایس پی انوسٹی گیشن آفس ‘پولیس لائن سمیت دیگر برانچز کا دورہ کیا اور اور اہلکاروں کو احسن انداز میں اپنے فرائض منصبی جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے اس دوران آفس میں آئے ہوئے سائلین سے بھی ملاقات کی اور ان کے آنے کی وجوہات پر بات چیت کی اور اہلکاروں کو ہدایت کی کہ وہ سائلین کے لئے بیٹھنے اور ٹھنڈے پانی کی فراہمی یقینی بنائیں۔اس موقع پر ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر میڈم شاہدہ نورین ،ریڈر رانا حسیب الحسن ودیگر بھی ان کے ہمراہ تھے۔

ساہیوال(بیورورپورٹ)حادثات کی روک تھام کیلئے ٹریفک پولیس کی ڈرائیوروں بریفنگ۔ڈی ایس پی ٹریفک ریاض احمد کی ہدایت پر انچارج ٹریفک ایجوکیشن ونگ ٹریفک وارڈن حماد احمد بھلر نے چیچہ وطنی لاری اڈا میں بسوں ‘ویگنوں اورکوسٹرزکے ڈرائیوروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ دوران ڈرائیونگ ہمیں صبروتحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے بلاوجہ اوورٹیکنگ ‘اوورسپیڈ سے اجتناب برتاجائے ۔انہوں نے کہاکہ ٹریفک پولیس آپ کے محفوظ سفرکیلئے کوشاں ہے اس سلسلہ میں باقاعدہ ایجوکیشن کا سلسلہ بھی شروع کررکھا ہے۔اس موقع پر ٹریفک قوانین سے متعلق پمفلٹ بھی تقسیم کئے گئے۔

ساہیوال(بیورورپورٹ)ڈپٹی آئی جی پنجاب پولیس شہزادہ سلطان نے ڈی ایس پیز کے تبادلوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ ایس ڈی پی او سٹی سرکل ڈی ایس پی ملک ضیاءالحق کو تبدیل کرکے ڈی ایس پی پی ایچ پی ساہیوال ‘ڈی ایس پی ہمایوں افتخار کوایس پی ڈی او سٹی سرکل ساہیوال اورڈی ایس پی پی ایچ پی ناصر ضیاءگھمن کو آئی جی آفس رپورٹ کرنے کے احکاما ت جاری کئے گئے ہیں۔

ساہیوال(بیورورپورٹ)پاکستان تحرےک انصاف کے سٹی جنرل سیکرٹری چوہدری صغیر انجم نے کہاہے کہ نواز لیگ کا وفاق کے بعد پنجاب میں بھی کوئی مستقبل نہیں رہا‘کے پی کے کی طرح پی ٹی آئی سارے صوبوں اور مرکز میں حکومت بنائے گی اور عوام سے کیے گئے ایک ایک وعدے کو پورا کریں گے۔مارشل ہاو¿س میںعوامی اجتماع سے میاں بابرصغیرکے ہمراہ خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز لیگ عام انتخابات سے پہلے ہی حواس باختہ ہو چکی ہے،حلقوں کی تبدیلی یو ٹرن نہیں تو اور کیا ہے‘ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں مزید بدحواسیاں دیکھنے کو ملیں گی اور سرکس کے شیر اپنے ہی رنگ ماسٹر کو چاروں شانے چت کردیں گے‘ میاں بابرصغیرنے کہاکہ انشاءاللہ عام انتخابات مےں امپورٹڈاوردوسرے اضلاع کے امےدواران کوبری طرح شکست کاسامناکرناپڑے گا‘ پےپلزپارٹی اور(ن) لےگ کے مظالم سے عوام عاجزآچکے‘ مفادات کی سےاست کرنے والے اپنے گرےبان مےں جھانکنے کی بجائے جعلی منشورکانعرہ لگارہے ہےں جنہےں عوام مستردکردےں گے۔

ساہیوال(بیورورپورٹ)عام انتخابات 2018 کے لیے امیدواروں کی حتمی فہرستیں آج ریٹرننگ افسران (آر اوز) اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران (ڈی آر اوز) کے دفاتر میں آویزاں کی جایئگی اور انتخابی نشان بھی جاری ہوں گے۔یاد رہے کہ انتخابی عمل کے لیے پہلے مرحلے میں امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جس کے بعد اسکروٹنی کا عمل مکمل ہوا، تیسرے مرحلے میں امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی منظوری اور یا مسترد کیے جانے کے خلاف اپیلوں کی سماعت ہوئی۔امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی واپس لینے اور پارٹی ٹکٹ جمع کرانے کا عمل گزشتہ روز مکمل کیا گیا تھا جس کے دوران کئی امیدواروں نے کاغذات نامزدگی واپس لیے۔آج حتمی فہرستیں لگنے اور انتخابی نشانات جاری ہونے کے بعد امیدوار یکم جولائی سے 23 جولائی تک انتخابی مہم چلا سکیں گے۔الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق امیدوار پولنگ سے 48 گھنٹے قبل یعنی 23 اور 24 جولائی کی درمیانی شب انتخابی مہم ختم کرنے کے پابند ہوں گے۔جس کے بعد 25 جولائی کو عام انتخابات کے لیے ملک میں بھر میں پولنگ ہوگی۔واضح رہے کہ عام انتخابات 2018 کے لیے پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھا دیا گیا اور اب ووٹرز صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک ووٹ کاسٹ کرسکیں گے۔الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق پولنگ کے اوقات میں ایک گھنٹے اضافے کا مقصد انتخابی عمل میں عوام کی زیادہ سے زیادہ شرکت یقینی بنانا ہے۔الیکشن ایکٹ کے مطابق پولنگ کا وقت کم از کم 8 گھنٹے مقرر ہے تاہم ملکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ پولنگ کے روز سے قبل ہی پولنگ کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں