113

بھارت کے ساتھ پانی و دیگر مسائل حل کرنے کیلئے انصاف پر مبنی اور برابری کی سطح پر مذاکرات کئے جائیں گے: ڈاکٹر میاں احسان باری

لاہور(پاکستان اپ ڈیٹس )ملی مسلم لیگ کی حمایت یافتہ اللہ اکبر تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر میاں احسان باری نے کہا ہے کہ اللہ اکبرتحریک کی خارجہ پالیسی کی بنیادوں میں عالم اسلام کے علاوہ ہمسایہ ممالک اور دنیا بھر کے دیگر ممالک کے ساتھ برابری ،خودمختاری کے تحت باوقار تعلقات شامل ہوگا نیز اسلامی ممالک کے ساتھ اخوت ،محبت اور اسلامی برادری کے تحت مضبوط روابط قائم و برقرار رکھے جائینگے اور ان میں مزید بہتری لائی جائے گی۔اسلامی ممالک کے ساتھ مشترکہ دفاع ،مشترکہ کرنسی ،مشترکہ کاروباراور مشترکہ اسلامی غیر سودی بینکنگ کے لئے کوششیں تیز کی جائیں گی۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرنے کی کوششیں کی جائیں گی ‘ اسے حل کئے بغیر خطہ میں امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔ بھارت کے ساتھ پانی و دیگر مسائل حل کرنے کیلئے انصاف پر مبنی اور برابری کی سطح پر مذاکرات کئے جائیں گے۔ اپنی پارٹی کے منشور کی خارجہ پالیسی کی وضاحت کرتے ڈاکٹر احسان باری نے کہا ہے کہ عالم اسلام کے تمام ممالک کی سرحدوں کی حفاظت اور اندرونی خلفشار جو کہ اسلام دشمن عناصر اور سامراجی قوتوں کی ہی طرف سے پیدا کردہ ہے کیلئے ہم ہر قسم کی مالی و جانی قربانی دی جائیگی۔ افغانستان میں امن کے قیام کیلئے کوششیں کی جائیں گی اور اس کیلئے افغانستان کے ساتھ مل کر کردار ادا کیا جائے گا۔ فلسطین و دیگر مقبوضہ خطوںمیں بسنے والے مسلمانوں کی عزتوں و حقوق کے تحفظ اور گرفتار قیدیوں کی رہائی کیلئے کوششوں کی سفارتی سطح پر حمایت جاری رکھیں گے ۔انہوںنے کہاکہ عالم اسلام کی بالخصوص اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی بالعموم یہ خواہش ہے کہ کسی طرح ایٹمی پاکستان اپنی مخصوص جغرافیائی حیثیت رکھتے ہوئے مضبوط اور خوشحال ہو جائے تاکہ پھر عالم اسلام کے دیگر ممالک بھی اقتصادی طور پر خودمختار اور طاقتور بن جائیں اس لیے اسلامی ممالک سبھی پاکستان کو پھلتا پھولتا اور باوقارخودمختار ملک دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کو صحیح معنوں میں دنیا کی ایک خوددار، طاقتوراور باوقار اسلامی مملکت کی حیثیت سے برقرار رکھا جائے گا۔ اللہ اکبر تحریک اقتدار میں آکر ملک کو تمام امور میں خودکفیل اور مکمل اسلامی فلاحی مملکت بنائے گی تاکہ دنیا بھر کے مسلمانوں بالخصوص عالم اسلام کے غریب لوگوں کی بھی امداد کے قابل ہو سکیں اورر اپنے ہاں سے بھی مہنگائی، بیروزگاری ،غربت کا خاتمہ کیا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں