51

ایفی ڈرین کیس میں حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا

راولپنڈی( پاکستان اپ ڈیٹس) انسداد منشیات کی عدالت نے ایفی ڈرین کوٹا کیس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا سنادی جس پر انہیں کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا، حنیف عباسی کا کہنا ہے کہ فیصلے پر کوئی شرمندگی نہیں، خوشی سے جیل جارہا ہوں فیصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج کروں گا۔ راولپنڈی کی انسداد منشیات عدالت کے جج سردار محمد اکرم خان نے ایفی ڈرین کوٹا کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ن لیگ کے رہنما حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا سنادی جب کہ دیگر سات ملزمان کو شک کی بنا پر بری کردیا۔ فیصلے کے وقت کمرہ عدالت میں حنیف عباسی سمیت دیگر ملزمان موجود تھے۔ عدالت کے فیصلہ سناتے ہی حنیف عباسی کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔حنیف عباسی کو انسداد منشیات کی متعلقہ دفعات کے تحت سزا سنائی گئی، مقدمہ 6 سال تک زیر سماعت رہا، 26 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے جب کہ پانچ ججز تبدیل ہوئے۔ عدالتی کارروائی کے مطابق حنیف عباسی اپنا دفاع نہیں کرسکے اور ان پر لگائے گئے الزامات درست ثابت ہوئے۔حنیف عباسی کی گرفتاری پر وہاں موجود مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے نعرے بازی شروع کردی اور ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے بھی لگائے۔فیصلہ محفوظ کیے جانے سے قبل حنیف عباسی کے وکیل تنویر اقبال نے عدالت کی دی ہوئی ڈیڈ لائن میں اپنی حتمی دلائل مکمل کیے۔ انہوں نے سیلز ریکارڈ اور بینک ٹرانزیکشن کا ریکارڈ پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ اے این ایف ایفیڈرین کے غیرقانونی استعمال کی بات کرتی ہے مگر کوئی ٹھوس شہادت نہیں، اے این ایف نے صرف لیبارٹری رپورٹ دی، گولیوں کی تیاری اور ان میں ایفیڈرین کی مقدار کا نہیں بتایا گیا۔واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے انسداد منشیات عدالت کو حنیف عباسی کے خلاف ایفیڈرین کیس کا فیصلہ 21 جولائی کو سنانے کا حکم دیا تھا۔
خوشی سے جیل جارہا ہوں، فیصلہ چیلنج کروں گا، حنیف عباسی
گرفتاری کے بعد ایکسپریس سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے حنیف عباسی نے کہا کہ مجھے فیصلے سے کوئی مایوسی نہیں ہوئی، میں خوشی سے گرفتار ہوکر جیل جارہا ہوں مجھے کسی قسم کی کوئی شرمندگی نہیں فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کروں گا۔
ایفیڈرین کیس کی تاریخ
ادویات بنانے والی کمپنیوں کو ایفیڈرین کی الاٹمنٹ میں ہوشربا بے ضابطگی کی باز گشت پہلی مرتبہ مارچ 2011 میں سنی گئی جب اس وقت کے وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین نے اسمبلی کو بتایا کہ مکمل تحقیقات کے بات یہ سامنے آئی ہے کہ ایفیڈرین کی مقرر کردہ مقدار سے کئی گنا زیادہ مقدار کی غیر قانونی طور الاٹمنٹ کی گئی ہے۔ صرف دو کمپنیوں کو 9 ہزار کلو گرام ایفیڈرین الاٹ کی گئی جب کہ زیادہ سے زیادہ مقدار 5 سو کلو گرام ہے۔
وفاقی وزیر نے اس بات کا انکشاف رکن اسمبلی کے سوال کے جواب میں کیا تھا جس پر اس وقت کے چیف جسٹس چوہدری محمد افتخار نے از خود نوٹس لیا۔ اینٹی نارکوٹکس فورس نے اس مقدمے میں اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی موسیٰ گیلانی کو نامزد کیا گیا تھا۔
ایفیڈرین کیس کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے اینٹی نارکوٹس فورس نے 27 جولائی 2012ء کو حنیف عباسی کے خلاف چالان جمع کرایا تھا جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ حنیف عباسی اور ان کے بھائی کی فارما سیوٹیکل کمپنی نے 2010 میں اپنی ضرورت سے زیادہ ایفیڈرین الاٹ کراوئی تھی لیکن اسے دو سال گزرنے کے باوجود استعمال نہیں کیا گیا۔ اے این ایف نے الزام عائد کیا تھا کہ ایفیڈرین کو منشیات فروشوں کو فروخت کردیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں