49

قومی اسمبلی : تحریک انصاف سب سے آگے‘ مسلم لیگ ن دوسرے نمبر پر‘ پیپلز پارٹی تیسری‘ آزاد کی چوتھی پوزیشن

اسلام آباد+ لاہور (پاکستان اپ ڈیٹس) عام انتخابات 2018 ءکے غیرسرکاری اور غیرحتمی انتخابی نتائج کے تحت پی ٹی آئی کو قومی اسمبلی کی 270 میں سے 112 اور مسلم لیگ (ن) کو 64 نشستوں پر برتری حاصل ہوگئی، پیپلز پارٹی کو 42، ایم ایم اے 10 اور ایم کیو ایم 8،جی ڈی اے6 جبکہ 18نشستوں پر آزاد امیدوار جیت رہے تھے۔ مسلم لیگ ق کو 3 اور جیب کو ایک نسشت پر سبقت حاصل تھی۔ تفصیلات کے مطابق این اے 78 نارووال 2 سے احسن اقبال نے 38232 ووٹ حاصل کئے پی ٹی آئی کے ابرار الحق نے 19417 لئے۔ این اے 60 پنڈی اور این اے 103 پر الیکشن ملتوی کیا گیا۔ الیکشن 2018ءکے غیرحتمی، غیر سرکاری نتائج کے مطابق این اے 17 ہری پور سے پی ٹی آئی کے عمر ایوب خان 38230 ووٹوں سے آگے اور مسلم لیگ (ن) کے بابر نواز خان 27596 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر تھے۔ ساہیوال میں قومی اسمبلی کی تین نشستوں پر این اے 147 سے پیر عمران شاہ 15 ہزار ووٹوں سے جیت رہے تھے، این اے 148 پر مسلم لیگ (ن) کے چودھری محمد اشرف 17 ہزار ووٹوں سے تحریک انصاف کے امیدوار سے آگے تھے جبکہ این اے 149 سے تحریک انصاف کے رائے مرتضیٰ اقبال 9 ہزار ووٹوں سے مسلم لیگ (ن) کے چودھری محمد طفیل سے جیت رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 156 ملتان سے پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی 93ہزار 500 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے عامر سعید انصاری 74 ہزار 624 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ تحریک انصاف کے امیدوار سردار محمد جعفر خان لغاری این اے 193 راجن پور سے غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق کامیاب قرار پائے۔ انہوں نے 87915 ووٹ حاصل کئے۔ انکے مدمقابل آزاد امیدوار سردار شیر علی گورچانی ناکام رہے۔ این اے 228 ٹنڈو محمد خان سے پی پی کے نوید قمر 15850 ووٹ لیکر آگے، جی ڈی اے کے میر علی نواز تالپور ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 167بہاولنگر سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار عالم داد لالیکا کو 18ہزار ووٹوں سے جی ٹی آئی اے کے امیدوار ممتاز احمد مٹیانہ پر سبقت حاصل ہے۔ فیصل آباد میں رات کے آخری پہر تک انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں میں سے کسی کی بھی کامیابی کی تصدیق نہیں ہوسکی تاہم فیصل آباد ضلع کے قومی اسمبلی کے پہلے حلقے این اے 101میں مسلم لیگ (ن) کے سابق رکن قومی اسمبلی اور حالیہ انتخابات میں آزاد امیدوار عا صم نذیر چوہدری کو تحریک انصاف کے امیدوار ذوالقرنین ساہی پر تاحال برتری حاصل ہے۔ اس حلقے نے تحریک انصاف کے پی پی 97میں امیدوار چوہدری افضل ساہی کو برتری حاصل ہے جبکہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 102فیصل آباد ٹو میں سابق وزیر مملکت طلال چوہدری کے مقابلے میں تحریک انصاف کے امیدوار نواب شیر وسیر کو واضح برتری حاصل ہوتی نظر آرہی ہے۔ این اے 103فیصل آباد میں ایک آزاد امیدوار کے خود کشی کے باعث الیکشن ملتوی رہا این اے 104میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار شہباز بابر کو تحریک انصاف کے سردار دلدار احمد چیمہ پر برتری حاصل ہے جبکہ این اے 105میں این اے 101کے آزاد امیدوار چوہدری عاصم نذیر کے بھتیجے اور مسلم لیگ (ن) کے ضلعی ناظم زاہد نذیرچوہدری کے بیٹے مسعود نذیر کو تحریک انصاف رضا نصراللہ گھمن پر تاحال برتری حاصل ہے اس حلقے میں مسلم لیگ (ن) کے سابق رکن قومی اسمبلی میاں محمد فاروق اب تک کے غیر سرکاری غیر حتمی صورتحال کے مطابق تیسرے نمبر پر ہیں این اے 106میں سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان اور تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر نثار احمد جٹ میں ون ٹو ون مقابلہ بتایا جارہا ہے این اے 107میں مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیر مملکت برائے ٹیکسٹائل انڈسٹری حاجی محمد اکرم انصاری پر تحریک انصاف کے امیدوار شیخ خرم شہزاد کو اب تک برتری حاصل ہے این اے 108میں مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیر مملکت چوہدری عابد شیر اور تحریک انصاف کے امیدوار اور مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل میاں فرخ حبیب کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی صورتحال نظر آرہی ہے این اے 109میں تحریک انصاف کے امیدوار فیض اللہ کموکا کو مسلم لیگ (ن) کے سابق رکن قومی اسمبلی میاں عبدالمنان پر اب تک 10ہزار ووٹوں کی غیر سرکاری غیر حتمی طور پر برتری بتائی جارہی ہے این اے 110میں مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل خان اور تحریک انصا ف کے امیدوار و سابق سینئر صوبائی وزیر راجہ ریاض احمد خان کے مابین کانٹے دار مقابلے کی فضاءغیر سرکاری غیر حتمی غیر مصدقہ ووٹوں کی تعداد میں سامنے آرہی ہے سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ خاں این اے 106کے علاوہ اپنے سابقہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ PP113سے بھی امیدوار ہیں پی پی 113میں رانا ثناءاللہ اور تحریک انصاف کے میاں وارث کے درمیان کانٹے کا مقابلہ جاری ہے اب تک کی صورتحال میاں وارث کو رانا ثناءاللہ پر برتری حاصل ہے ۔ اس کے علاوہ فیصل آباد ضلع کے صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں رزلٹ اب تک مبہم ہیں اور تحریک انصاف بمقابلہ مسلم (ن) کی فضاءبیان کی جارہی ہے ۔ میلسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق این اے 165 کے کل 297 میں سے 114 پولنگ سٹیشنز سے موصولہ غیر حتمی، غیرسرکاری نتائج کے مطابق اورنگزیب خان کھچی 36326 ووٹ لیکر آگے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سعید احمد خان منیس کو 23229 ووٹ مل سکے جبکہ پی پی 235کے کل 159 میں سے 30 پولنگ اسٹیشنز سے موصولہ غیر حتمی ، غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے نواب علی رضا خان خاکوانی 10160 ووٹ حاصل کر کے آگے جبکہ مسلم لیگ(ن) کے آصف سعید خان منیس 7764 ووٹ حاصل کر کے پیچھے ہیں پی پی 236 کے کل 139 میں سے 64 پولنگ سٹیشنز سے موصولہ غیر حتمی ، غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے محمد جہانزیب خان کھچی 20228 ووٹ حاصل کر کے آگے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے اظہر احمد خان یوسفزئی 9288 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر آئے۔ موضع در پور میں بھی جشن کا سماں رہا اور حلقہ بھر کے لوگ جمع ہو گئے اور جیت کا جشن مناتے رہے میلسی کے قومی حلقہ این اے 165 سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سعید احمد خان منیس اور پی پی 235 سے ان کے صاحبزادے سابق صوبائی وزیر آصف سعید خان منیس کی شکست علاقے کی سیاست میں ایک بڑا اپ سیٹ بن کر سامنے آیا جبکہ پی پی 236 سے نووارد پارٹی امیدوار اظہر احمد یوسفزئی کی کارکردگی بھی مایوس کن رہی۔ این اے 223: پیپلز پارٹی کے مخدوم جمیل الزماں 5148 ووٹ لے کر آگے، جی ڈی اے کے مخدوم افضل حسین 2274 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 158: پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی 1459 ووٹ لے کر آگے، مسلم لیگ (ن) کے جاوید شاہ 1378 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر، تحریک انصاف کے ابراہیم خان 1246 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر تھے۔ این اے 236: پیپلز پارٹی کے جام عبدالکریم بجار 6400 ووٹ لے کر پہلے، تحریک انصاف کے مسرور سیال 2907 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 228: پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر 10281 ووٹ لے کر آگے، جی ڈی اے کے میر علی نواز تالپور 4157 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 115: آزاد امیدوار محمد احمد 5818 ووٹ لے کر آگے، پی ٹی آئی کی غلام بی بی 3731 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 237: پیپلز پارٹی کے عبدالحکیم بلوچ 503 ووٹ لے کر سرفہرست، تحریک انصاف کے جمیل احمد 379 ووٹ لے کر دوسرے، مسلم لیگ ن کے زین العابدین 102 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر تھے۔ این اے 271: بی این پی مینگل کے جان محمد دشتی 115 ووٹ لے کر آگے، بی اے پی کی زبیدہ جلال 63 ووٹ لے کر پیچھے تھے۔ این اے 157: پاکستان پیپلز پارٹی کے موسیٰ گیلانی 3447 ووٹ لے کر آگے، تحریک انصاف کے زین قریشی 3085 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر، مسلم لیگ (ن) کے غفار ڈوگر 2962 ووٹ حاصل کر چکے تھے۔ این اے222: پیپلز پارٹی کے مہیش کمار 4285 ووٹ لے کر آگے جی ڈی اے کے ارباب ذکااللہ 2171 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 1: متحدہ مجلس عمل کے مولانا عبدالاکبر 8 ہزار 292 ووٹ لے کر آگے، اے پی ایم ایل کے محمد امجد 4 ہزار 460 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 230: فہمیدہ مرزا 9066 ووٹ لے کر آگے، پیپلز پارٹی کے حاجی رسول 6970 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 240: ایم کیو ایم پاکستان کے اقبال محمد علی خان 4522 ووٹ لے کر آگے، تحریک انصاف کے فرخ منظور 2165 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 245: ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار 1503 ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر، پی ایس پی کے ڈاکٹر صغیر احمد 681 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 204: آزاد امیدوار عبدالحق میاں 5546 ووٹ لے کر آگے، پیپلز پارٹی کے خالد احمد خان 3272 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 222: پیپلز پارٹی کے مہیش کمار 4285 ووٹ لے کر آگے، جی ڈی اے کے ارباب ذکاء اللہ 2171 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 27: تحریک انصاف کے نور عالم 34267 ووٹ لے کر آگے، ایم ایم اے کے حاجی غلام علی 18945 ووٹ لے کر دوسرے نمبر تھے۔ این اے 255: پی ٹی آئی کے محمود مولوی 640 ووٹ کے ساتھ سرفہرست، ایم کیو ایم کے خالد مقبول 177 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر، این اے 159: تحریک انصاف کے رانا محمد قاسم 4183 ووٹ لے کر آگے، مسلم لیگ ن کے محمد ذوالقرنین بخاری 3727 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 144: آزاد امیدوار منظور وٹو 15963 ووٹ لے کر آگے، ن لیگ کے معین وٹو 10264 لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 84: مسلم لیگ ن کے اظہر قیوم 35 ہزار 468 ووٹ لے کر آگے، تحریک انصاف کے بلال اعجاز 31 ہزار 738 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 187: تحریک انصاف کے عبدالمجید نیازی 2732 ووٹ لے کر آگے، آزاد امیدوار بہادر خان سیہڑ 2276 لے کر دوسرے نمبر پر، مسلم لیگ (ن) کے فیض الحسن 1820 ووٹوں کے ساتھ تسیرے نمبر پر تھے۔ این اے 189: تحریک انصاف کے خواجہ شیراز 21 ہزار 176 ووٹ لے کر آگے، آزاد امیدوار میر بادشاہ قیصرانی 7 ہزار 187 ووٹ حاصل کر کے پیچھے تھے۔ این اے 190: آزاد امیدوار امجد طارق کھوسہ 4230 ووٹ لے کر آگے، پی ٹی آئی کے سردار ذوالفقار کھوسہ 2247 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 286: تحریک انصاف کے سردار عثمان 14060 ووٹ لے کر آگے، آزاد امیدوار خواجہ نظام المحمود 4220 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 96: تحریک انصاف کے امجد علی خان 70 ہزار 152 ووٹ لے کر آگے، مسلم لیگ ن کے حمیر حیات خان نیازی 15 ہزار 159 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 156: ملتان سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 156 سے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی 93497 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہو گئے ہیں۔ این اے 65 چکوال 2 سے مسلم لیگ ق کے چودھری پرویزالٰہی 8915 ووٹ لے کر آگے جبکہ مسلم لیگ ن کے محمد فیض ٹمن 4818 ووٹ لے کر پیچھے تھے۔ میانوالی میں تحریک انصاف کا کلین سویپ۔ این اے 95 پر عمران خان 240 پولنگ سٹیشنوں کے رزلٹ کے مطابق عمران خان 77 ہزار ووٹ لے کر 55 ہزار ووٹوں کی لیڈ سے جیت رہے تھے۔ ان کے مقابلہ میں مسلم لیگ ن عبیداللہ شادی خیل تھے جو ضمنی انتخابات میں ایم این اے منتخب ہوئے تھے۔ این اے 96 میں تحریک انصاف کے امیدوار امجد علی خان بھی 40 ہزار ووٹوں کی لیڈ سے جیت رہے تھے۔ 104 پولنگ بوتھ کے رزلٹ میں انہوں نے 65 ہزار جبکہ ان کے مخالف نے 13 ہزار ووٹ حاصل کئے تھے۔ ان کے مقابلہ پر مسلم لیگ ن کے حمید حیات روکھڑی تھے۔ اے این پی کے رہنما غلام احمد بلور نے شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کے پی کے میں عوام کے پسندیدہ لیڈر ہیں۔ضلع ڈیرہ غازی خان میں سردار ذوالفقار علی کھوسہ، سردار اویس احمد لغاری، سردار میر بادشاہ قیصرانی، سردار دوست محمد کھوسہ اور جاوید اختر لنڈ جیت کی دوڑ میں پیچھے جبکہ خواجہ شیراز محمود، سردار امجد فاروق کھوسہ، زرتاج گل اور شہباز شریف آگے تھے۔ ابتدائی طور پر ملنے والی اطلاعات کے مطابق این اے 189میں 100پولنگ سٹیشنوں کے غیر سرکاری نتائج میں پی ٹی آئی کے خواجہ شیراز محمود 35710ووٹ لے کر آگے جبکہ آزاد امیدوار سردار میر بادشاہ قیصرانی14220 ووٹ لے سکے این اے 190 پر26پولنگ سٹیشنوںمیں آزا د امیدوار سردار امجد فاروق کھوسہ 11332جبکہ پی ٹی آئی کے سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ 8025ووٹ لے سکے تھے این اے 191پر 61پولنگ سٹیشنوں میں پی ٹی آئی کی محترمہ زرتاج گل 25843،آزاد امیدوار سردار دوست محمد کھوسہ 13494اور مسلم لیگ ن کے سردار اویس احمد لغاری 12344ووٹ لے سکے تھے این اے 192پر 19پولنگ سٹیشنوں میں پاکستان تحریک انصاف کے سردار محمد خان لغاری 5924اور مسلم لیگ ن کے میاں شہباز شریف 3540ووٹ لے سکے تھے پی پی 285 کے35پولنگ سٹیشنوں کے نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے خواجہ محمد داﺅدسلیمانی10574اور آزاد امیدوار سردار میر بادشاہ قیصرانی4169پی پی 286کے 56پولنگ سٹیشنوں میں پی ٹی آئی کے سردار عثمان احمد بزدار14060جبکہ آزاد امیدوار خواجہ نظام المحمود 4207ووٹ لے سکے تھے پی پی 289میں 76پولنگ سٹیشنوں میں آزاد امیدوار محمد حنیف پتافی 22969پی ٹی آئی کی ڈاکٹر شاہینہ کریم کھوسہ 11000،آزاد امیدوار سردار دوست محمد کھوسہ8087اور مسلم لیگ ن کے سید عبدالعلیم شاہ 8080ووٹ لے سکے۔ حلقہ این اے 31سے تحریک انصاف کے شوکت علی نے 72ہزار822ووٹ لیکر فاتح رہے۔ بٹگرام کے حلقہ پی کے 29سے پاکستان تحریک انصاف کے تاج محمد 16ہزار 754ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے۔ این اے 185 مظفر گڑھ سے آزاد امیدوار باسط احمد سلطان 28738 ووٹ لے کر آگے جبکہ پی ٹی آئی کے محمد معظم علی جتوئی 148 ووٹ لے کر پیچھے تھے۔ این اے 64 چکوال 1 سے پی ٹی آئی کے ذوالفقار علی خان 15119 ووٹ لے کر آگے جبکہ مسلم لیگ ن کے میجر (ر) طاہر اقبال 11488 ووٹ لے کر پیچھے رہے۔ این اے 67 جہلم 2 سے پی ٹی آئی کے فواد احمد چودھری 27125 ووٹ لے کر آگے جبکہ مسلم لیگ کے راجہ مطلوب مہدی 17134 ووٹ لے کر پیچھے ہیں۔ این اے 72 بہاولپور سے مسلم لیگ ق کے طارق بشیر چیمہ 17800 ووٹ لے کر آگے جبکہ مسلم لیگ ن کے چودھری سعود مجید 11950 ووٹ لے کر پیچھے تھے۔ این اے 162 وہاڑی سے مسلم لیگ ن کے چودھری فقیر احمد 5011 ووٹ لے کر آگے جبکہ عائشہ نذیر جٹ 4230 ووٹ لے کر پیچھے تھیں۔ این اے 216 سانگھڑ سے پیپلز پارٹی کی شازیہ جنت مری 34734 ووٹ لے کر آگے جبکہ جی ڈی اے کے کشن چندیار وانی 32030 ووٹ لے کر پیچھے ہیں۔ این اے 180 رحیم یار خان 5 میں پیپلز پارٹی کے سید مرتضیٰ محمود 9766 ووٹ لے کر آگے جبکہ مسلم لیگ ن کے ارشد خان لغاری 6543 ووٹ لے کر پیچھے تھے۔ اےن اے 143 میں شیر کا پلڑا بھاری پی پی 184میں برج الٹ گےا۔ این اے 90 سرگودھا سے تحریک انصاف کی امیدوار نادیہ عزیز 47576 ووٹ لے کر آگے جبکہ مسلم لیگ ن کے چودھری حامد حمید 35632 ووٹ لے کر پیچھے تھے۔ سرگودھا شہر کے حلقہ این اے 90 میں سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری و امیدوار مسلم لیگ ن چوہدری حامد حمید دوسرے نمبر پر جبکہ مسلم لیگ ن کو خیرباد کہہ کر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیا رکرنے والی ڈاکٹر نادیہ عزیز اس مقابلہ میں واضح برتری کے ساتھ سر فہرست ہیں۔ این اے91میں پی ٹی آئی کے عامر سلطان چیمہ اول، مسلم لیگ ن کے ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی دوسرے نمبر پر ہیں، این اے 92میں این اے 88میں مسلم لیگ ن کے ڈاکٹر مختار بھرتھ اول پی ٹی آئی کے ندیم افضل چن دوئم پوزیشن پر موجود ہیں، این اے 89میں پی ٹی آئی کے اسامہ احمد میلہ اول ، مسلم لیگ ن کے محسن شاہنواز رانجھا دوسرے نمبر پر موجود ہیں، این اے 92میں مسلم لیگ ن کے جاوید حسنین شاہ اول اور پی ٹی آئی کے نعیم الدین سیالوی دوئم پوزیشن پر موجود ہیں۔ این اے 195سے تحریک انصاف کے امیدوار سردار ریاض خان مزاری آگے۔ این اے 142اوکاڑہ: پولنگ سٹیشن نمبر 57سے مسلم لیگ (ن)کے چودھری ریاض الحق کامیاب، غیرحتمی غیرسرکاری نتیجہ۔ شجاع آباد کے حلقہ این اے 158میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواران سیدجاوید علی شاہ اور دیوان ذوالقرنین بخاری کو ابتدائی نتائج میں برتری حاصل تھی۔ ذرائع کے مطابق ملتان کے حلقہ این اے 156میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار مخدوم شاہ محمود قریشی کو ابتدائی نتائج میں برتری حاصل رہی۔ دوسرے نمبر پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار عامر سعید انصاری آ رہے تھے۔ اسی طرح ابتدائی غیرسرکاری نتائج میں حلقہ این اے 154میں آزاد امیدوار حاجی سکندر حیات بوسن، پی ٹی آئی کے امیدوار ملک احمد حسن ڈہیڑ اور پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار عبدالقادر گیلانی کے درمیان سخت مقابلہ ہے تاہم حاجی سکندر حیات بوسن کو 30فیصد نتائج میں، دوسرے امیدوار پر برتری حاصل تھی۔ این اے 155ملتان میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ملک عامر ڈوگر اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار شیخ طارق رشید کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہے تاہم ابتدائی 35فیصد نتائج میں ملک عامر ڈوگر کو دو ہزار ووٹوں کی برتری حاصل تھی۔ این اے 157میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار مخدوم زادہ زین قریشی، پیپلزپارٹی کے امیدوار علی موسیٰ گیلانی اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار عبدالقادر ڈوگر میں سے ابتدائی نتائج میں تحریک انصاف کے امیدوار زین قریشی کو برتری حاصل تھی۔ این اے 158شجاع آباد ملتان میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سید جاوید علی شاہ کو برتری حاصل تھی جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار ابراہیم خان اور پیپلزپارٹی کے امیدوار سید یوسف رضا گیلانی بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر چند ہزار ووٹوں کے فرق سے مقابلہ میں تھے۔ این اے 159جلاپور پیروالہ کے ابتدائی غیرسرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ذوالقرنین دیوان بخاری اور پی ٹی آئی کے امیدوار رانا قاسم نون کے درمیان مقابلہ تھا تاہم ابتدائی نتائج میں دیوان ذوالقرنین بخاری چند سو ووٹوں سے آگے جا رہے تھے۔ اسی طرح پی پی 215سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار حاجی جاوید اختر انصاری کو برتری حاصل تھی۔ این اے 5 اپر دیر سے پی ٹی آئی کے صاحبزادہ صبغت اللہ 49299 ووٹ لے کر جیت گئے جبکہ نجم الدین خان پیپلزپارٹی 28736 ووٹ لے کر ہار گئے۔ پی کے 14 لوئر دیر 2 سے پی ٹی آئی کے ہمایوں خان 17178 ووٹ لے کر جیت گئے جبکہ پیپلزپارٹی کے بخت بیدار 14378 ووٹ لے کر ہار گئے۔ نارووا، چک امرو سے نامہ نگاران این اے 78 نارووال 2 سے 102 پولنگ سٹیشن کا غیرحتمی و غیرسرکاری نتائج کے مطابق سابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال 53221، پی ٹی آئی کے ابرارالحق 26189 یوں مسلم لیگ ن 27032 سے آگے تھی۔ کسووال سے نامہ نگار کے مطابق این اے 149 چیچہ وطنی سے تحریک انصاف کے امیدوار رائے مرتضیٰ اقبال بھاری اکثریت سے جیت گئے جبکہ این اے 149 کے ذیلی حلقوں پی پی 201 س تحریک انصاف کے رائے مرتضیٰ اقبال 44221 لے کر بھی جیت گئے جبکہ ان کے مدمقابل مسلم لیگ ن کے حنیف جٹ نے 33437 ووٹ حاصل کئے۔این اے 72 سیالکوٹ کے 124 پولنگ سٹیشن کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے چودھری ارمغان سبحانی 56047 ووٹ لیکر پہلے پی ٹی آئی کی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان 27093 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھیں۔ این اے 73 39 پولنگ سٹیشن کے نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے عثمان ڈار 13053 ووٹ لے کر پہلے جبکہ مسلم لیگ ن کے خواجہ محمد آصف 11600 ووٹ لے کر دوسرے پر نمبر تھے۔ این اے 74 11 پولنگ سٹیشن کے نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے چودھری غلام عباس 33445 ووٹ لے کر پہلے جبکہ مسلم لیگ ن کے علی زاہد حامد 25536 ووٹ لے کر دوسرے نمبر تھے۔ این اے 75 62 پولنگ سٹیشن کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے رانا شمیم احمد 18870 ووٹ لے کر پہلے اور تحریک انصاف کے بریگیڈئر اسلم گھمن 8364 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 2 سوات 1 سے تحریک انصاف کے حیدر علی 46064 ووٹ لیکر آگے تھے، مسلم لیگ ن کے امیرمقام 25256، این اے 25 نوشہرہ 1 سے تحریک انصاف کے پرویز خٹک 20770 ووٹ لیکر آگے ہیں۔ پی پی کے خان پرویز 12071 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 231 سجاول سے پی پی کے سید ایاز شاہ نے کہا کہ 33251 ووٹ لیکر آگے ایم ایم اے کے مولوی محمد صالح 4264 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 89 سرگودھا 2 سے مسلم لیگ ن کے محسن شاہنواز 30126 ووٹ سے آگے، تحریک انصاف کے اسامہ غیاث میلہ 26151 ووٹ سے دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے177 پی ٹی آئی کے مخدوم خسرہ بخیتار 2546 ووٹ لیکر آگے، پیپلز پارٹی کے شہاب الدین 848 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر، مسلم لیگ ن کے معین الدین 541 ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر تھے۔ این اے 248 پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل 390 ووٹ لیکر آگے ٹی ایل پی کے اصغر محمود 155 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر تھے تحریک انصاف کے سردار عبدالعزیز، این اے 128 کے پولنگ سٹیشن میں صرف ایک ووٹ کاسٹ ہو سکا ۔ تحریک انصاف کے غلام محمد لالی نے اکلوتا ووٹ حاصل کیا۔ ان اے 66 جہلم سے تحریک انصاف کے چودھری فرخ الطاف 44605 ووٹ لیکر آگے ہیں مسلم لیگ ن کے چودھری ندیم 36351 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر این اے 63 راولپنڈی سے پی ٹی آئی کے غلام سرور خان 21174 ووٹ سے آگے آزاد امیدوار چودھری نثار 12515 ووٹ لیکر پیچھے ہیں این اے 52 اسلام آباد 1 سے تحریک انصاف کے خرم شہزاد نواز 21249 ووٹ لیکر آگے ہیں مسلم لیگ ن کے طارق فضل چودھری 10261 ووٹ لیکر دوسرے نمبر این اے 213 شہید بے نظیر آباد ون سے پی پی کے آصف علی زرداری 20712 ووٹ سے آگے ہیں جی ڈی اے کے سردار شبیر محمد رند 6260 ووٹ سے پیچھے ہیں این اے 244 کراچی ایسٹ تھری پی ٹی آئی کے علی حیدر زیدی 1528 ووٹ لیکر آگے رہے ن لیگ کے مفتاح اسماعیل 652 ووٹ لیکر پیچھے تھے۔گجرات میں غیر مصدقہ اور 30فیصد پولنگ اسٹیشنوں پر گجرات میں قومی اسمبلی کی 4نشستوں پر دو میں پاکستان مسلم لیگ (ق) ،1میں پی ٹی آئی کے امیدوار دوسرے امیدواروں کے مقابلے میں جیتتے رہے جبکہ ایک قومی اسمبلی کی سیٹ این اے 71پر پی ٹی آئی کی آگے جانے کی اطلاعت دی ملتی رہیں این اے 68گجرات میں 180پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ق) کے چوہدری شجاعت حسین کے بھتےجے چوہدری حسین الٰہی 57862ووٹ لےے مد مقابل ن لیگ کے نوابزادہ غضنفر علی گل نے 22204ووٹ حاصل کےے جبکہ این اے 69گجرات ٹو میں 60پولنگ اسٹیشنوں کے رزلٹ کے مطابق مسلم لیگ (ق) پی ٹی آئی کے مشترکہ امیدوار چوہدری پرویز الٰہی نے 19260اور مسلم لیگ (ن) کے چوہدری مبشر حسین نے 7172ووٹ لےے جبکہ این اے 70گجرات تھری میں پاکستان تحریک انصا ف کے سید نور فیض الحسن شاہ کے 180پولنگ اسٹشینوں کے نتائج کے مطابق 56219، مسلم لیگگ(ن) کے چوہدری جعفراقبال نے 33ہزار اور پاکستان پیپلزپارٹی کے 22005ووٹ لےے جبکہ این اے 71گجرات فور میں پاکستان تحریک انصاف کے 96پولنگ اسٹیشنوں کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے چوہدری عابد رضا نے 36983جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے چوہدری الیاس نے 20661اور آزاد امیدوار ملک حنیف اعوان نے 7676ووٹ حاصل کےے گجرات کے 7صوبائی حلقوں پی پی 28میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے چوہدری شجاعت نواز اجنالہ کے 27پولنگ اسٹشینوں میں 8382جبکہ مد مقابل مسلم لیگ (ن) کے نوابزادہ حیدر مہدی نے 5364ووٹ لےے پی پی 30میں مسلم لیگ (ق) کے چوہدری پرویز الٰہی نے 20پولنگ اسٹشینوں میں سے 6984اور مد مقابل (ن) لیگ کے ذوالفقار وڑائچ نے 1220ووٹ لےے پی پی 31میں پاکستان تحریک انصاف کے چوہدری سلیم سرور جوڑا نے 45پولنگ اسٹیشنوں پر 13712جبکہ مسلم لیگ(ن) کے حاجی عمران ظفر نے 4960 لےے پی پی 32میں 100پولنگ اسٹیشنوں پر پاکستان تحریک انصاف کے میاں محمد اختر حیات 30007، (ن) کے میاں طارق محمود نے 20125، تحریک لبیک کے چوہدری اعجاز رنیاں نے 18081ووٹ لےے پی پی 33میں 90پولنگ اسٹیشن سے پاکستان تحریک انصاف کے 30680، مسلم لیگ (ن) کے چوہدری شبیر کوٹلہ نے 23ہزار 456ووٹ ، پیپلزپارٹی کے تنویر اشرف کائرہ نے 3007ووٹ لےے۔این اے 53 اسلام آباد سے عمران خان نے 52160 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی مسلم لیگ ن کے شاہد خاقان 23220 ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہے۔ این اے 168 بہاولنگر 3 سے مسلم لیگ ن کے احسان الحق باجوہ 54000 ووٹ لیکر آگے ہیں تحریک انصاف کی فاطمہ طاہر چیمہ 29000 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں این اے 133 لاہور II سے ن لیگ کے پرویز ملک 44647 ووٹ لیکر پہلے نمبر پر ہیں تحریک انصاف کے اعجاز چودھری 41211 ووٹ لیکر پیچھے ہیں۔ ان اے 110 فیصل آباد 10 سے تحریک انصاف کے راجہ ریاض احمد 40337 ووٹ لیکر آگے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے رانا محمد افضل 30021 ووٹ لیکر پیچھے ہیں این اے 3 سوات سے سلیم رحمن 61000 ووٹ لیکر آگے ہیں۔ ان کا تعلق تحریک انصاف سے ہے اسے این پی کے عبدالکریم خان 15000 ووٹلیکر پیچھے ہیں۔ آخری اطلاعات کے مطابق اسد عمر، پرویز خٹک، خسرو بختیار، خورشید شاہ اور شیخ رشید جیت گئے۔ ہارنے والوں میں یوسف رضا گیلانی، فضل الرحمن، غلام احمد بلور، سراج الحق، چودھری نثار، خواجہ سعد رفیق، اسفند یار ولی، غوث علی شاہ، زعیم قادری، ابرار الحق، فردوس عاشق، رانا ثنائ، اویس لغاری، سائرہ افضل تارڑ شامل ہیں۔ پاکپتن سے این اے 145 سے مسلم لیگ ن کے نامزد امیدوار احمد رضا مانیکا 97155 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے جبکہ پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار محمدشاہ کھگہ 48253 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
الیکشن نتائج
انتخابات 2018ءمیں عوامی نمائندوں کے انتخاب کیلئے ملک بھر میں پولنگ کا عمل گزشتہ روز الیکشن کمشن آف پاکستان کے مقررہ شیڈول کے مطابق 8 بجے شروع ہوا جو بلا تعطل شام 6 بجے تک جاری رہاتا ہم پولنگ سٹیشن کے اندر موجود ووٹرز مقررہ وقت کے اختتام کے بعد بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ انتخابات میں عوام نے اپنے نمائندوں کا انتخاب کیا جو آئندہ پانچ سال کیلئے حکومت سنبھالیں گے۔ عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان تحریک انصاف ، متحدہ قومی مومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ مجلس عمل سمیت ملک کی تمام بڑی اور چھوٹی سیاسی جماعتیں اور مختلف سیاسی جماعتوں پر مشتمل سیاسی اتحادوں کی جانب سے امیدواروں کو نامزد کیا گیا جبکہ کئی آزاد امیدواروں نے بھی انتخابات میں قسمت آزمائی کی۔ قبل ازیں انتخابات 2018ءکیلئے جاری انتخابی مہم 23 اور 24 جولائی کی رات 12 بجے اختتام پذیر ہو ئی تھی تاہم انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے ووٹرز کو راغب کرنے کا عمل جاری رہا۔ انتخاب کے موقع پر اپنے ووٹرز کی سہولت کئے تمام سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی جانب سے پولنگ اسٹیشنز کے باہر انتخابی کیمپ لگائے گئے تھے۔ انتخابات 2018ءکے پر امن انعقاد کیلئے مسلح افواج اور پولیس کی جانب سے سخت سکیورٹی اقدامات کئے گئے ہیں اور اس حوالے سے 3 لاکھ 70 ہزار سے زائد فوجی جوان اور افسروں سمیت 4 لاکھ 49 ہزار 465 پولیس اہلکار تعنیات کئے گئے ۔ عام انتخابات 2018ءمیں مجموعی طور پر840 قومی اور صوبائی اسملیوں کی نشستوں پر انتخابات منعقد ہوئے جن میں قومی اسمبلی کی 270 جبکہ صوبائی اسمبلیوں کی 570 نشستیں شامل ہیں۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ عام انتخابات میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے کئی حلقوں میں خواجہ سراﺅں نے بھی لیا۔الیکشن کمشن آف پاکستان نے مختلف وجوہات کی بنیاد پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 9 مختلف حلقوں میں انتخاب موخر کئے جن میں قومی اسمبلی کے دو جبکہ صوبائی اسمبلی کے 6حلقے شامل ہیں۔ انتخابات کے انعقاد کیلئے 16 لاکھ انتخابی عملہ کے اراکین اپنے فرائض ادا کئے جس میں 2 لاکھ 55 ہزار 178 پولنگ افسران شامل تھے۔ انتخابات 2018ءمیں 10 کروڑ 59 لاکھ 409 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ اس حوالے سے ملک بھر میں 85 ہزار 307 پولنگ اسٹیشنز جبکہ 2 لاکھ 84 ہزار 600 پولنگ بوتھ قائم کئے گئے تھے جن میں سے 17 ہزار 7 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا جہاں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے جبکہ 20 ہزار 789 پولنگ سٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ الیکشن کمشن نے مجموعی طور پر 21 کروڑ بیلٹ پیپر چھاپے گئے تھے۔ قومی اسمبلی کیلئے سبز جبکہ صوبائی اسمبلی کیلئے سفید بیلٹ پیپر استعمال ہوا۔ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ بیلٹ پیپرز میں سکیورٹی فیچرز بھی شامل کئے گئے۔ ووٹ صرف اصلی شناختی کارڈ پر ڈالا گیا۔ اسلام آباد میں الیکشن کمشن سیکرٹریٹ میں الیکشن سیل اور کنٹرول روم قائم کیا گیا تھا جو 24 گھنٹے فعال رہا۔ الیکشن میں پہلی دفعہ الیکشن کمشن اور نادرہ کی معانت سے پریزائیڈنگ افسران ، آر ٹی ایس کے ذریعے نتائج الیکشن کمشن کو بھیجیں۔ پولنگ سٹاف کی ناتجربہ کاری کے باعث ووٹنگ کا عمل سست رہا۔ این اے 164 میں پی ٹی آئی اے طاہر اقبال آگے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی تہمینہ دولتانہ دوسرے نمبر تھیں۔
پولنگ
لاہور/ گوجرانوالہ/ نارنگ منڈی/ شیخوپورہ/ کراچی/ کوئٹہ (خصوصی نامہ نگار + نامہ نگاران + تنویر بیگ + بیورو رپورٹ) صوابی سمیت کئی شہروں میں پولنگ سٹیشنوں پر لڑائی جھگڑے ہوئے‘ 2افراد جاں بحق،بیسیوں زخمی ہوگئے۔ صوابی کے حلقہ پی کے 47 نوری کلی میں اے این پی، پی ٹی آئی کارکنوں میں تصادم، فائرنگ سے تحریک انصاف کا کارکن جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوئے، جعلی ووٹ ڈالتے، ویڈیو بنانے پر درجنوں افراد پکڑے گئے۔ لاہور کے حلقہ این اے 123 میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے کارکنان آمنے سامنے آگئے۔ تفصیلات کے مطابق شاہدرہ کے علاقہ ونڈالہ روڈ پر قائم پولنگ سٹیشن کے باہر دونوں جماعتوں کے کارکنوں میں تھپڑوں اور گھونسوں کا تبادلہ بھی ہوا جس کے باعث پریذائیڈنگ افسر نے 35 منٹ بعد پولنگ دوبارہ شروع کرائی۔ گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق پولنگ سٹیشن کے باہر مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا، تھپڑوں اور مکوں کے آزادانہ استعمال سے دو کارکن زخمی ہوگئے۔ حلقہ این اے 82 کے پولنگ سٹیشن کے باہر تلخ کلامی ہوئی۔ عرفان اور مون زخمی ہوگئے۔ بہاولپور میں ووٹ ڈالنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈالنے والا گرفتار کرلیا گیا‘ ملزم وسیم قریشی مسلم لیگ ن کا ورکر ہے۔ وسیم قریشی نے این اے 170 اور پی پی 246 کے پولنگ سٹیشن میں مسلم لیگ ن کے امیدواروں بلیغ الرحمان اور ڈاکٹر رانا طارق کو ووٹ ڈال کر اپنے بیلٹ پیپر پر ٹھپہ لگا کر اس کی ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی۔ گوجرانوالہ میں ووٹروں نے پابندی کے باوجود ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزےاں کرتے ہوئے بےلٹ پےپرز کی مہر لگی تصاوےر سوشل مےڈےا پر اپ لوڈ کر دےں۔ پیپلز پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ 246لیاری سے بلاول بھٹو زرداری کے چیف پولنگ ایجنٹ سینیٹر یوسف بلوچ پر حملہ کیا گیا، تحریک انصاف(پی ٹی آئی) اور پاک سر زمین پارٹی(پی ایس پی)کے مسلح افراد ٹھپے لگا رہے ہیں۔ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز نے دعویٰ کیا کہ لیاری میں رینجرز اہلکاروں نے بلاول بھٹو کے چیف پولنگ ایجنٹ کو دھکے دے کر باہر نکال دیا۔ نمائندہ خصوصی کے مطابق شیخوپورہ اورگردونواح میں پولنگ کے دوران ہلڑ بازی اور الیکشن کمشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزام میں پولیس نے درجن سے زائد افراد کو گرفتار کرکے ان کو متعلقہ تھانوںمیں بند کردیا ہے۔ حلقہ این اے 120 کے علاقہ ونڈیالہ دیال شاہ میں نواز لیگ اور پی ٹی آئی کے امیدواروں کے مابین جھگڑا ہوگیا، پولنگ کا عمل روک دیا بعدازاں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی مداخلت کے بعد پولنگ کا عمل شروع کردیا گیا نارنگ منڈی میں ایک پولنگ سٹیشن پر پولنگ افسر کی ملی بھگت سے ایک نوجوان جعلی ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے پکڑا گیا، دونوں کو پولیس کے حوالے کردیا۔ مانانوالہ کے نواحی علاقہ قلعہ اکواک سنگھ کے پولنگ سٹیشن پر پولنگ عملہ سے بدتمیزی اور لڑائی جھگڑا پر پولیس نے محمد حسین نامی نوجوان کو گرفتار کرکے پولیس کے حوالے کردیا۔ فاروق آباد، صفدرآباد، کوٹ عبدالمالک، جنڈیالہ شیرخان سمیت دیگر علاقوں میں بھی امیدواروں کے ووٹر، سپورٹر آپس میں لڑتے جھگڑے رہے۔ نارنگ منڈی سے نامہ نگار کے مطابق حلقہ این اے 119اور پی پی 135میں ووٹنگ کا عمل بُری طرح متاثر ہوا۔ اکثر خواتین مرد ووٹ ڈالے بغیر واپس لوٹ گئے تاہم فوجی افسران کی مداخلت سے ووٹنگ کا سلسلہ بحال ہو گیا۔شاہدرہ کے علاقہ قاضی پارک کے پولنگ سٹیشن پر دو سیاسی کارکنوں کے درمیان جھگڑے میں ایک دوسرے پر تشدد کیا جس کے باعث پانچ زخمی ہوگئے۔ اپنے سٹاف رپورٹر کے مطابق راولپنڈی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 62 کے خواتین کے پولنگ سٹیشن نمبر 296 میں اس وقت حالات کشیدہ ہوگئے۔ جب پی ٹی آئی نے شکایت کی کہ مسلم لیگ ن کا کیمپ بند کیا جائے اس کیمپ کو ختم کرنے کی کوشش کے دوران دونوں جماعتوں کے حامی آمنے سامنے آگئے تاہم فوری طور پر وہاں پاک آرمی اور پولیس کے جوانوں نے معاملہ رفع دفع کرادیا۔ تحصیل فیروزوالہ کے مختلف علاقوں میں پولنگ کے دوران لڑائی جھگڑوں کے دوران ہاتھاپائی اورگھتم گھتاہونے واقعات، پولیس اوررینجرزکے جوانوں نے بروقت کارروائی کی۔ ایک نوجوان نے اپنے پسند کے امیدوار کے نشان پرٹھپے لگوانے کی کوشش کی جسے پولیس نے حراست میں لے لیا۔ چٹھہ کالونی میں رحمت کالونی مسلم لیگ ن اورپی ٹی آئی کے حامی افراد کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔قصبہ کوٹ پنڈی داس میں بھی پولنگ سٹیشن پردوفریقوں کے درمیان تکرارہوئی۔پولنگ سٹیشن رچناٹاﺅن کے باہرووٹروں کی لمبی قطاریں لگی رہیں پولنگ سٹاف سست روی کی وجہ ووٹ تاخیرسے کاسٹ کرواتارہا‘ ووٹروں نے شدید احتجاج کیا مگر انتظامیہ نے ایک نہ سنی۔شرقپورکے پولنگ سٹیشن پرخواتین کی قطاریں لگی رہیں مگرپولنگ سٹاف کی عدم توجہی کی وجہ سے کئی خواتین ووٹ ڈالے بغیرواپس چلی گئیں۔ فرنٹیئر کور بلوچستان کی قلعہ عبداللہ اور کوئٹہ میں کارروائیاں، قلعہ عبداللہ کے حلقے پی بی 22 سے تین جعلی پریزائیڈنگ افسر گرفتارہوگئے۔ لاڑکانہ سے بیورو رپورٹ کے مطابق این اے 200 اور پی ایس 11 کیلئے گورنمنٹ پرائمری سکول میں پولیس سٹیشن کے باہر دھماکہ، دکانوں میں دراڑیں پڑگئیں۔ پی پی کے 3 کارکن اسد شفیع، اشفاق اور مرتضیٰ زخمی ہوگئے۔ ہسپتال میں بلاول بھٹو نے عیادت کی اور گلدستے پیش کئے۔ این اے 28 پشاور میں ووٹر نے کیمرے سے ووٹ ڈالنے کی تصویر بنالی الیکشن کمشن نے نوٹس لے لیا۔ گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول پرُانا نارنگ میں واقع پولنگ سٹیشن پر ملزم زمان جٹھول نے اپنے بھائی کے شناختی کارڈ پر ووٹ ڈالنے کی کوشش کی اور انکوائری پر حکام نے پولنگ آفیسر کو بھی دھر لیا دونوں کو حوالات میں بند کر دیا گیا ہے۔ کراچیمیں دھاندلی کے الزام میں بھی ایک خاتون سمیت 7افراد کو گرفتار کیا گیا۔ الفلاح کے علاقے میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 239 کے ایک پولنگ سٹیشن پر ایک خاتون کو اس وقت گرفتار کرلیا گیا جب وہ جعلی فارم 45 پولنگ ایجنٹ کو دینے کی کوشش کر رہی تھی فارم 45پر پولنگ کا حتمی رزلٹ تیار کیا جاتا ہے۔ شاہدرہ اور فیروز والا کے علاقے میں پولنگ سٹیشن پر جعلی ووٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ مگر پولنگ سٹیشنوں پر موجود کارکنوں نے ان کی کارروائی ناکام بنادی۔ شاہدرہ میں پی ٹی آئی کے ووٹر نے اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے ویڈیو بنائی اور سوشل میڈیا پر جاری کی جب پر مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے اس بارے میں الیکشن کمشن کو آگاہ کردیا۔ گھوٹکی میں 2 گروپوں میں تصادم سے 15 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پی ایس 57 تھرپارکر میں پولنگ سٹیشن 108 پر ووٹرز میں تصادم ہوا۔ پی پی 23 چمن میں آزاد امیدوار اور پشتونخوا میپ کے حامیوں میں جھگڑا، فائرنگ اور پتھراﺅ سے 4 افراد زخمی ہوئے۔ دونوں امیدوارورں کے کارکنوں نے ایک دوسرے پر دھاندلی کا الزام لگایا۔ این اے 8 بٹ خیلہ میں دو گروپوں میں جھگڑے سے 6 افراد زخمی ہوگئے۔ چنیوٹ میں پولنگ سٹیشن کے اندر جھگڑے پر آزاد امیدوار فتح شیر کھوکھو سمیت 5افراد کو گرفتار کرلیا۔ پی پی 95سے آزاد امیدوار فتح شیر کھوکھر پولنگ سٹینش پر ووٹ کاسٹ کر رہے تھے کہ نامعلوم افراد سے جھگڑا ہو گیا۔ گھوٹکی میں رینجرز نے پی ایس 21سے پیپلزپارٹی کے امیدوار راجہ خان مہر کو گرفتار کرلیا۔ این اے 119مریدکے سے پولیس افسر کو ساتھی سمیت جعلی ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے پکڑا گیا۔قلعہ عبداللہ میں 100 سے زائد مسلح افراد نے پولنگ سٹیشن پر دھاوا بول کر عملے کو یرغمال بنانے کی کوشش کی۔ دکی کے علاقے ونی میں پولنگ سٹیشن پر جھگڑے کے نتیجے میں 4پولنگ ایجنٹ زخمی ہوگئے۔ لکی مروت کے لنڈی واہ پولنگ سٹیشن کے باہر 2گروپوں کے مابین ہاتھا پائی اورہوائی فائرنگ ہوئی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ملتان میں شمس آباد سکول نمبر ایک پولنگ سٹیشن میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) کے کارکن آمنے سامنے آگئے تاہم پولیس نے معاملہ رفع دفع کرا دیا۔ خانیوال کے حلقہ این اے 153 کے پولنگ سٹیشن میں مسلم لیگ(ن) کے 2 گروہوں میں تصادم کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔ بدین کے علاقے گولارچی کے قریب پیپلزپارٹی اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے کارکنوں میں تصادم کے بعد پولنگ کا عمل روک دیاگیا۔ تصادم کے نتیجے میں 10افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس اور رینجرز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 6افراد کو گرفتارکرلیا۔ پولنگ کے دوران گولیاں چل گئیں۔پولیس تھانہ کالو خان کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کیمپ میں اے این پی اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کے مابین تکرار ہوئی اس دوران اے این پی کے کارکنوں کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں پی ٹی آئی کا سر گرم کارکن انجینئر شاہ زیب ولد مختیار جان کاکا موقع پر جاں بحق جبکہ مختیار جان کاکا ،محمد سلیم اور شہزاد شدید زخمی ہو گئے جب کہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق فائرنگ سے اے این پی کا ایک کارکن عدنان بھی زخمی ہوا ہے۔ 47صوابی5 سے امیدوار حاجی امیر الرحمن اور جان محمد عرف جانے کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ مقتول شاہ زیب کو اسکے آبائی قبرستان نواں کلی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔پشاور زریاب کالونی میں خواتین کے پولنگ اسٹیشن میں پیپلز پارٹی اورتحریک انصاف کی خواتین کارکن آپس میں لڑ پڑیں۔سرگودھا کے علاقہ ہجن کے پولنگ سٹیشن پر ایک مشکوک شخص کو پستول سمیت گرفتار کرلیا گیا۔لیہ کے علاقہ کروڑلعل عیسن کے حلقہ این اے 187 میں آزادامیدواراورپی ٹی آئی کارکنوں میں جھگڑاہو اجس میں مکے گھونسے اور لاتیں چل گئیںاور ایک دوسرے کے انتخابی کیمپ اکھاڑ دیئے ۔ نارووال کے حلقہ این اے 77 سے تحریک انصاف کے امیدوار میاں رشید کے بیٹے عمر رشید نے پولیس وین پر حملہ کردیا‘ جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس حکام کے مطابق تھانہ لیسر کے ایس ایچ او نے کوٹھے سٹاپ کے قریب ایک نوجوان کو ناجائزاسلحہ(کلاشنکوف)سمیت گرفتار کیا تھا، جسے چھڑانے کے لئے پی ٹی آئی امیدوار میاں رشید کے بیٹے عمر رشید نے اپنے درجنوں ساتھیوں سمیت ناصرف پولیس وین پر حملہ کیا۔عمررشید، فہیم اشتیاق اورعمران نامی شخص سمیت 12 افراد کے خلاف ایچ ایس او طارق کی مدعیت میں زیرِ دفعہ 324،353 ،506B اور188 سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔این اے 63 میں تھانہ واہ کینٹ صدر کے علاقے میں ٹیکسلا اڈا کے قریب واقع پولنگ سٹیشن کے باہر تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں میں اس وقت تصادم ہوگیا جب پولنگ کیمپ سے نکلنے والے مسلم لیگ(ن) کے موٹرسائیکل سوار کارکن ایک خاتون سے ٹکرائے جو گر گئی۔ننکانہ صاحب میں قومی اسمبلی کی دو نشستوں این اے 117 اور 118 پر تحریک انصاف کو برتری حاصل ہے۔ صوبائی اسمبلی کی 4 نشستوں پی پی 131، 132، 133 اور 134 میں دونوں جماعتوں نے 2، 2 نشستوں پر سبقت لی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں