182

جماعت اسلامی ملک میں عوام کی تائید سے غلبہ دین کی جدوجہد کر رہی ہے ہم بیلٹ بکس کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں:سینیٹر سراج الحق

لاہور (پاکستان اپ ڈیٹس )امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے الیکشن 2018 ءمیں کامیابی کی حکمت عملی کی تیاری کے لیے ملک بھر کے ضلعی ذمہ داران کو منصورہ طلب کرلیا ۔ ملک کے 105 اضلاع کے امیر ، نائب امیر اور سیکرٹری جنرل دو روزہ لیڈر شپ ٹریننگ ورکشاپ میں شریک ہیں ۔ ورکشاپ کا اہم ترین ایجنڈا 2018 ءکے انتخابات ہیں جبکہ کرپشن فری پاکستان تحریک اوراحتساب کی رفتار کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ کرپشن کے خلاف تحریک کا اعلان سینیٹر سراج الحق نے 4 فروری 2016 ءکو منصورہ میں پریس کانفرنس میں کیا تھا ۔ اس تحریک کو دو سال مکمل ہوگئے ہیں۔سینیٹر سراج الحق نے ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی ملک میں عوام کی تائید سے غلبہ دین کی جدوجہد کر رہی ہے ہم بیلٹ بکس کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں ۔ ڈنڈے کے زور پر آنے والی تبدیلی کبھی پائیدار نہیں ہوسکتی اور جس طرح یہ تبدیلی آتی ہے اسی طرح رخصت ہو جاتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ جب تک کرپشن کے ناسور کا خاتمہ نہیں ہوتا ، ملک میں حقیقی تبدیلی کا تصور نہیں کیا جاسکتا ۔ ملک پر مسلط ظلم و جبر کے نظام سے نجات کے لیے عوامی انقلاب کی ضرورت ہے ۔ انہوںنے کہاکہ عوام ستر سال سے ظالم جاگیرداروں اور بے رحم سرمایہ داروں کے نرغے میں ہیں اور عام آدمی معاشی و سیاسی استحصال کا شکار ہے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت فرد واحد کو بچانے کے لیے عدلیہ کے سامنے کھڑی ہوگئی ہے اور احتساب کے اداروں کو ڈرایا اور دھمکایاجارہاہے جو انتہائی شرمناک ہے اور جو پارٹی چار دہائیوں سے حکومت میں ہے ، اس سے اس غیر آئینی رویے کی قطعاً توقع نہیں کی جاسکتی ۔ انہوںنے کہاکہ پنجاب حکومت کرپشن کے خاتمہ کے بجائے کرپٹ افسروں کی سرپرستی کر رہی ہے ۔ صوبائی حکومت کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کرپشن میں ملوث افسروں کو بچانے کے لیے کابینہ کے اجلاس کرے ۔ حکومت کو عوام نے یہ مینڈیٹ نہیں دیا کہ مجرموں کی پشت پناہی کرے ۔ حکومت کا فرض ہوتاہے کہ وہ اداروں کو کرپشن سے پاک کرے مگر بدقسمتی سے ہمارے حکمران کرپشن پر قابو پانے کی بجائے اسے پروموٹ کر رہے ہیں ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ دہشتگردی خواہ کسی شکل میں ہو ، جماعت اسلامی اس کے خلا ف ہے ۔ یہ دہشت گردی کوئی فرد کرے یا ادارہ ، لیکن بھارت کے کہنے پر یا امریکی دباﺅ پر محب وطن قوتوں کو دہشتگرد قرار دینا اور رفاہی اداروں اور فلاحی تنظیموں کے خلاف کاروائی یہ کسی صورت بھی ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں