44

روئے زمین کا بہترین مقام مسجد حرام کی تاریخ اور اہم ترین مقامات کا تعارف

مکہ مکرمہ (پاکستان اپ ڈیٹس ) روئے زمین کا بہترین مقام اور دنیا کا مقدّس اور معزّز ترین شہر ہے۔ اللہ تعالی نے اس کو وحی اُترنے کے مقام اور مسلمانوں کے قبلے کے طور پر چُنا اور یہاں پر اپنی عبادت کے واسطے کئی مناسک رکھ دیے۔مکہ مکرمہ کی تاسیس کی تاریخ ہمیں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش سے بھی پہلے ملتی ہے۔ بعد ازاں انہوں نے اپنے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ مل کر بیت اللہ کی بنیادیں اونچی کیں۔ ابتدا میں مکہ مکرمہ ایک چھوٹا سا قصبہ تھا جہاں بنی آدم آباد ہوئے۔ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں آنے والے طوفان نے اسے تباہ کر دیا۔ اس کے بعد علاقے نے ایک خشک وادی کی صورت اختیار کر لی جو ہر طرف سے پہاڑوں میں گِھری تھی۔

مکہ میں زمزم کا کنواں پُھوٹنے اور بیت اللہ کی بنیادیں بلند کیے جانے کے بعد لوگوں نے یہاں آ کر بسنا شروع کر دیا۔ اس دوران قبیلہ جرہم کی ایک جماعت نے اس کی نگرانی سنبھال لی۔

مکہ مکرمہ میں کئی مقدّس اسلامی مقامات ہیں جن میں نمایاں ترین مسجدِ حرام ہے۔ یہ روئے زمین پر مقدّس ترین مقام ہے۔ اس لیے کہ یہاں خانہ کعبہ واقع ہے جو مسلمانوں کے لیے نماز کا قبلہ ہے۔ علاوہ ازیں حج اور عمرے کے سیزن میں یہ مسلمانوں کی منزل مقصود ہے۔

مسجد حرام میں اہم ترین اور نمایاں ترین مقام خانہ کعبہ ہے۔ امّت مسلمہ اس کو اپنے لیے باعث فخر و اعزاز شمار کرتی ہے۔ اسلام نے آ کر اس کی تقدیس و تعظیم میں اضافہ کر دیا۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے اس پر غلاف چڑھایا۔

خانہ کعبہ کے اندر لکڑی کے تین سُتون ہیں جو بیت اللہ کی چھت کو تھامے ہوئے ہیں۔ یہ مضبوط ترین لکڑی کے بنے ہوئے ہیں جن کی نظیر نہیں ملتی۔ انہیں صحابی رسول حضرت عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہما نے لگایا تھا۔ اس طرح ان ستونوں کی عمر 1350 برس سے بھی زیادہ ہوئی۔ ہر سُتون کا محیط 150 سینٹی میٹر جب کہ قطر 44 سینٹی میٹر ہے۔ تینوں سُتونوں کے درمیان ایک سہار تختہ موجود ہے جس پر خانہ کعبہ کے بعض ہدیے ٹانگے گئے ہیں۔

خانہ کعبہ کا فرش سنگ مرمر کا ہے۔ اس میں زیادہ حصّہ سفید اور باقی رنگین ہے۔ خانہ کعبہ کی اندرونی دیوار رنگین سنگ مرمر سے بنی ہے جس پر نقوش موجود ہیں۔ بیت اللہ کو اندر سے گلابی مائل سُرخ رنگ کے ریشم کے پردے نے ڈھانپا ہوا ہے۔ ان پر سفید دھاگے سے کلمہ شہادت اور اللہ کے بعض نام تحریر ہیں۔

خادم حرمین شریفین اور سابق سعودی فرماں روا شادہ فہد بن عبدالعزیز مرحوم کے دور میں خانہ کعبہ کی غیر معمولی دیکھ بھال سامنے آئی۔ اس دوران خانہ کعبہ کی اندرونی اور بیرونی تجدید اور تزئین دیکھنے میں آئی جس کی مثال 1040هـ کے بعد نہیں ملتی۔
حطیم

خانہ کعبہ کی شمالی سمت واقع دیوار ہے۔ قریش نے خانہ کعبہ کی تعمیر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وضع کردہ بنیادوں میں سے بعض کو چھوڑ دیا تھا۔ حطیم کی دیوار واضح کرتی ہے کہ یہ بیت اللہ کا حصّہ ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : “تمہاری قوم نے کعبہ کی بنا کو چھوٹا کر دیا اور اگر تمہاری قوم نے نیا شرک نہ چھوڑا ہوتا تو میں جتنا انہوں نے چھوڑ دیا ہے اس کو بنا دیتا۔ سو اگر تمہاری قوم کا ارادہ ہو کہ ویسا بنا دیں جیسا میں چاہتا ہوں میرے بعد تو آؤ میں دکھا دوں جو انہوں نے چھوڑا ہے”۔

سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دکھا دیا کہ وہ قریب سات ہاتھ تھا۔

شاہ خالد بن عبدالعزیز آل سعود مرحوم کے دور میں 1397 ہجری میں حطیم کو انتہائی خوب صورت شکل میں مہارت سے تعمیر کیا گیا۔ اس کے اندر واقع فرش کو ٹھنڈے پتھر سے مزیّن کیا گیا۔ اس کی دیوار پر بجلی سے روشن ہونے والے تین انتہائی خوب صورت فانوس لگائے گئے۔ حطیم کے اندر داخل ہونے کا راستہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے اور صرف ضرورت کے وقت ہی اس کو بند کیا جاتا ہے۔
حجرِ اسود

خانہ کعبہ کے جنوب مشرقی بیرونی کونے میں نصب ہے۔ یہ طواف کے آغاز کا مقام بھی ہے۔ زمین سے اس کی اونچائی ڈیڑھ میٹر ہے۔ حجر اسود کو خالص چاندی سے بنے ہوئے ایک فریم نے اپنے احاطے میں لیا ہوا ہے۔ اصل پتھر کا مقام سفید رنگ کا نظر آتا ہے۔

خانہ کعبہ کا دروازہ مشرقی جانب واقع ہے۔ یہ شاذروان (بیت اللہ کی بیرونی نچلی دیوار) کے اوپر زمین سے 222 سینٹی میٹر بلند ہے۔ دروازے کی لمبائی 318 سینٹی میٹر اور چوڑائی 171 سینٹی میٹر ہے۔

مملکت سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود مرحوم کے خاندان کے دور میں بیت اللہ کے دو دروازوں کی تنصیب ہوئی۔ ان میں پہلا دروازہ 1363 ہجری میں لگایا گیا۔ یہ نیا دروازہ (2.5) سینٹی میٹر چوڑے المونیم کا تھا جس کی اونچائی (3.10) میٹر تھی۔ اس کو فولادی سلاخوں کی سپورٹ حاصل تھی۔ دروازے کو اللہ تعالی کے اسماء حسنی سے مزیّن کیا گیا تھا۔ دوسرا دروازہ وہ ہے جو اس وقت موجود ہے۔ خالص سونے سے بنائے جانے والے اس دروازے کی تیاری کا حکم شاہ خالد بن عبدالعزیز آل سعود مرحوم نے دیا تھا۔
میزاب

یہ خانہ کعبہ کی چھت پر شمالی سمت نصب ہے جس کو “میزابِ رحمت” بھی کہا جاتا ہے۔ یہ حطیم کی جانب باہر کو نکلی ہوئی ہے۔ اس کا مقصد بارش یا کسی دوسری وجہ سے خانہ کعبہ کی چھت پر جمع ہو جانے والے پانی کا حطیم کے اندر اخراج ہے۔ میزاب کی مجموعی لمبائی 2.58 میٹر ہے جس میں 58 سینٹی میٹر خانہ کعبہ کی دیوار کے اندر ہے۔ میزاب کی چوڑائی 26 سینٹی میٹر ہے۔ یہ خالص سونے سے تیار کی گئی ہے جس کو اندر سے خالص چاندی نے اپنے احاطے میں لیا ہوا ہے۔ شاہ فہد بن عبدالعزیز مرحوم کے دور میں پرانی میزاب کو نئی اور زیادہ مضبوط میزاب سے تبدیل کیا گیا۔
مُلتزم

یہ حجر اسود اور خانہ کعبہ کے دروازے کے بیچ واقع دیوار ہے۔ اس کو ملتزم کا نام اس لیے دیا گیا کہ لوگ اس سے چمٹ کر اللہ سے دعا کرتے ہیں۔
رُکنِ یمانی

یہ خانہ کعبہ کے جنوب مغرب میں بیرونی کونا ہے۔ طواف کے دوران یہ حجر اسود سے پہلے آتا ہے۔ اس کو رکنِ یمانی اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ یمن کی سمت ہے۔
شاذروان

یہ خانہ کعبہ کی نچلی دیوار کے گرد نصب سنگ مرمر ہے۔ یہ بیت اللہ کے دروازے کے سوا کعبے کی تمام سمتوں میں موجود ہے۔ شاذروان کی آخری مرتبہ تجدید شاہ فہد مرحوم کے دور میں ہوئی جب اس کے پرانے سنگ مرمر کو نئے رنگین سنگ مرمر سے بدل دیا گیا۔

مسجد حرام کی یادگاروں میں آب زمزم کا کنواں بھی ہے۔ ایک زندہ و جاوید معجزے کے طور پر دنیا کے سامنے موجود زمزم کا کنواں مسجد حرام کے اندر مطاف کے صحن میں بیت اللہ سے 21 میٹر کے فاصلے پر زیر زمین واقع ہے۔ اس کنوئیں کی عمر پانچ ہزار سال سے زاید ہوچکی ہے۔ جیسا کہ تاریخی روایات میں بیان کیا جاتا ہے کہ زم زم کا چشمہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑیاں رگڑنے کی جگہ سے پھوٹا۔ زم زم کے کنوئیں میں پانی تین مقامات سے آتا ہے۔ کنوئیں میں حجر اسود کے کونے اور جبل ابو قبیس اور صفا کے علاوہ المروہ کی سمتوں سے جمع ہوتا ہے۔

زمزم کے کنوئیں کو سعودی عرب کی قیادت کی خصوصی توجہ حاصل رہی ہے۔ ان میں آخری بڑی پیش رفت میں 2010ء میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز مرحوم نے زم زم کے پانی کو صاف اور محفوظ کرنے کے لیے 70 کروڑ ڈالر کے منصوبے کی منظوری دی۔ اس منصوبے کے تحت مکہ مکرمہ میں مسجد حرام سے ساڑھے چار کلو میٹر دور علاقے كُدَیّ میں زمزم کارخانہ قائم کیا گیا۔
مقامِ ابراہیم

یہ خانہ کعبہ میں وہ مقدس پتھر ہے جسے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر اپنے قد سے اونچی خانہ کعبہ کی دیواریں اٹھاتے وقت استعمال کیا۔ مقامِ ابراہیم خانہ کعبہ سے تقریبا 13.25 میٹر مشرق کی جانب واقع ہے۔ سنہ 1967ء سے قبل مقام ابراہیم میں نصب پتھر ایک حجرہ نما جگہ میں بند تھا مگر اب اس کے گرد ایک سنہرا فریم لگا دیا گیا ہے۔ اس مقام کو مصلّے کا درجہ حاصل ہے۔ طواف کعبہ کے بعد یہاں دو رکعت نماز نفل ادا کرنے کا حکم ہے۔ مقام ابراہیم میں نصب مربع شکل کے اس تاریخی پتھر کا سائز نصف میٹر ہے۔ اس کا پتھر کے رنگوں میں سفیدی، سیاہی اور زدری رنگ غالب ہیں۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے میں نے مقام ابراہیم میں نصب پتھر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی انگلیوں اور ایڑھیوں کے نشان دیکھے مگر بہت زیادہ چھونے کے نتیجے میں وہ نشان مٹ گئے ہیں۔ خادم حرمین شاہ فہد مرحوم کے دور میں مقامِ ابراہیم کی تجدید نو کی گئی۔ اس دوران یہاں نصب معدنی ڈھانچے کو اعلی معیار کے تانبے کے نئے فریم سے بدل دیا گیا۔ اس کے اندرونی جالی بھی لگئی گئی جس پر سونے کا پانی چڑھا ہوا تھا۔
صفا اور مروہ

مسجد حرام کی مشرقی سمت واقع یہ دو پہاڑیاں سعی کی ادائیگی کے حوالے سے مشہور علامتیں ہیں۔ سعی کے راستے کی جنوبی سمت صفا اور شمالی سمت مروہ واقع ہے۔ سعودی حکومت کی جانب سے کئی بار مَسعَی کے مقام کو بہتر بنانے کے منصوبوں پر عمل درامد ہوا۔ اس سلسلے میں آخری کاوش شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز مرحوم کے دور میں ہوئی۔ اس دوران مشرقی جانب کی توسیع کے بعد مسعی کی مجموعی چوڑائی چالیس میٹر ہو گئی اور یہ چار منزلوں پر مشتمل ہے۔
مطاف

یہ خانہ کعبہ کے اطراف واقع صحن ہے جس کا فرش سنگ مرمر سے مزین ہے۔ یہاں پر مسلمان بیت اللہ کے گرد طواف کرتے ہیں جو کہ دن رات جاری رہتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں خلفاء، فرماں رواؤں اور حکمرانوں کی جانب سے مطاف پر خصوصی توجہ دی جاتی رہی ہے۔ سعودی دور میں مطاف کی آخری توسیع شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دور میں ہوئی ہے۔ اب مطاف کی تمام منزلوں پر طواف کی مجموعی گنجائش ایک گھنٹے کے اندر 1 لاکھ 7 ہزار افراد ہو گئی ہے۔مسجد حرام کے اہم مقامات میں اس کے مینار بھی ہیں۔ اس سلسلے میں پہلا مینار عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور کے دور میں تعمیر کیا گیا۔ سعودی حکومت کی جانب سے 1375 ہجری میں پہلی توسیع کے دوران کئی مینار تعمیر کیے گئے۔ ان میناروں کی بلندی 89 میٹر ہے اور پر مینار پانچ حصوں میں تقسیم ہے۔ بعد ازاں باب ملک فہد پر دو میناروں کا اضافہ کیا گیا جس کے بعد مجموعی تعداد نو ہو گئی۔ اس وقت مزید چار میناروں پر کام جاری ہے جس کے بعد حرم مکی کے مرکزی دروزاوں پر تقسیم ان میناروں کی مجموعی تعداد 13 ہو جائے گی۔مملکت سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود سے لے کر موجود فرماں روا خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود تک تمام ادوار میں حرم مکی کی توسیع کے متعدد منصوبے دیکھنے میں آئے۔ حالیہ جاری توسیع کے بعد مسجد حرام میں 18.5 لاکھ افراد کی گنجائش ہو جائے گی۔ علاوہ ازیں حرم مکی سے متصل وضو خانوں اور بیت الخلا کی تعداد 16300 تک پہنچ جائے گی۔ ان کے علاوہ مسجد حرام کے اندر اور باہر مختلف مقامات پر ٹھنڈے پانی کے کولر بھی موجود ہیں۔ عمارت کے مختلف حصوں میں برقی زینے بھی کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ روشنی اور ایئرکنڈیشنگ کا بھرپور نظام ، اعلی ترین آڈیو اور وڈیو سسٹم اور آگ بجھانے کے انتظامات بھی شامل ہیں۔حرم مکی کی عمارت کی توسیع کے ساتھ ساتھ اطراف میں پلوں، بیرونی صحنوں، سرنگوں، ہسپتالوں اور پہلی رنگ روڈ کی تعمیر کے لیے بھی کام جاری ہے۔شاہ سلمان کے دور کی حالیہ توسیع حرم مکی کی تاریخ کی سب سے بڑی توسیع ہے جس میں جدید ترین تعمیراتی ٹکنالوجیز اور جدید ترین سسٹم کو استعمال میں لایا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں