72

پاکستان مدینے والی ریاست اُس وقت بنے گا جب یہاں قرآن و سنت کا نفاذ ہوگا: مولانا امیر حمزہ

لاہور( پاکستان اپ ڈیٹس )تحریک حرمت رسولﷺ پاکستان کے چیئرمین مولانا امیر حمزہ نے کہا ہے کہ تمام انبیا کی شان میں گستاخیوں کے سدباب کے لیے عالمی سطح پر سنجیدگی سے اقدامات اُٹھانے کی ضروت ہے۔ مسلمان تمام انبیا علیھم السلام کی حرمت کا تحفظ واجب سمجھتے ہیں۔پاکستان مدینے والی ریاست اُس وقت بنے گا جب یہاں قرآن و سنت کا نفاذ ہوگا۔پیغمبر اسلام محمد ﷺ پوری انسانیت کے رسول تھے۔مسلمان تحفظ حرمت رسول ﷺ کیلئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر سکتے ہیں۔ ہر سال محرم کا آغاز ہمیں ہجرت اورقربانی کا درس دیتا ہے۔ وہ جامع مسجد خالد بن ولیدؓ عامر ٹاﺅن ہربنس پورہ میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔اس موقع پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مرو و خواتین نے بڑی تعداد نے ان کی امامت میں نماز جمعہ ادا کی۔ مولانا امیر حمزہ نے کہا کہ گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ رکوانے پر وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کردار قابل تحسین ہے مگر اس حوالہ سے ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔ حکومت بین الاقوامی سطح پر حرمت انبیا علیھم السلام کی قانون سازی میں اپنا بھر پور کردار ادا کرے۔ بین الاقوامی ماہر قانون دانوں سے سفارشات اکٹھی کر کے مضبوط حکمت عملی ترتیب دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران ملک کو مدینے والی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ یہ اسی صورت ممکن ہے جب یہاں پر مدینے والے کا حکم نافذ ہوگا۔ جب کمزور کو انصاف کے ساتھ اس کا حق ملے گا، اس دن مدینے والی ریاست خود بخود قائم ہوجائے گی۔ مولانا امیر حمزہ نے کہا کہ یورپ کے کئی ممالک میں خلیفة المسلمین حضرت عمر ؓ کے نام سے موسوم عمر لاءکا نفاذ آج بھی موجود ہے۔ مگر افسوس ہم مسلمانوں نے ان قوانین کو اپنے دستور میں شامل نہیں کیا ۔انہوںنے کہا کہ عالمی سطح پرعصمت انبیاءکے تحفظ کاقانون پاس کروانے کے لیے حکومت پاکستان کو بھرپور کردارا دا کرنا چاہیے۔تمام آسمانی مذاہب کی توہین کو عالمی سطح پر فوجداری جرم قرار دیا جائے تاکہ گستاخوں کو لگام ڈالی جاسکے۔ مغرب کے لا دین طبقے کو انبیا علیھم السلام کی حرمت کا پابند بنانا بے حد ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں