76

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کا دورہ کٹاس راج ،پولیس کی طرف سے پروٹوکول کے لیے ٹریفک روکنے پر ڈی پی او چکوال کی سرزنش کی،،، چکوال کی مزید خبریں

چکوال(بیو رو رپورٹ)چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کا دورہ کٹاس راج ،پولیس کی طرف سے پروٹوکول کے لیے ٹریفک روکنے پر ڈی پی او چکوال کی سرزنش کی ،چیف جسٹس ثاقب نثار جب کٹاس راج پہنچے تو پولیس نے کٹاس راج آنے والی ٹریفک کو روک رکھا تھا جبکہ میڈیا کے نمائندوں سے بھی بدتمیزی کر رہی تھی۔ میڈیا نمائندوں نے چیف جسٹس کی توجہ اس جانب دلائی تو چیف جسٹس نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عادل میمن سے پوچھا کہ ٹریفک روک کر عوام کو کیوں سزا دے رکھی ہے۔ کس نے تمہیں اختیار دیا ہے فوراً راستہ کھول دو جس پر پولیس اہلکاروں میں کھلبلی مچ گئی اور انہوں نے فوری طور پر راستہ کھول دیا۔چیف جسٹس عوام میں گھل مل گئے ،قبل ازیں چیف جسٹس نے بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری اور کٹاس راج جھیل کا بھی معائنہ کیا اورعوام کے مسائل سنے۔جسٹس ثاقب نثار نے ڈپٹی کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ڈی سی صاحب آپ سو رہے ہیں چکوال کو تباہ کر دیا گیا ہے۔قبل ازیں چیف جسٹس کو بتایاگیا کہ کٹاس ہندوﺅں کا سب سے مقدس مقام ہے۔ سیمنٹ فیکٹریوں کے قیام کے بعد نہ صرف کٹاس راج کا پانی خشک ہو گیا بلکہ زیر زمین پانی کم ہو جانے کی وجہ سے پورے علاقے میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی۔ پانی کی پوزیشن اس وقت سونے جیسی ہو گئی ہے۔ ہندو اس ملک کے شہری ہیں ۔ چکوال(بیو رو رپورٹ)صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد نے کہا ہے کہ پنجاب میں تین ماہ کے اندر محکمہ صحت میں نمایاں بہتری لائیں گے۔ عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی وزیراعظم عمران خان کا خواب ہے۔وہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال کے اچانک دورے کے دوران اخبار نویسوں سے گفتگو کر رہی تھیں۔صوبائی وزیر کاکہنا تھا کہ پنجاب میں صحت کی سہولیات مفت فراہم کرنا ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ہسپتالوںمیں صحت کے ساتھ ساتھ صفائی کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ صوبائی وزیر نے ایمرجنسی وراڈ اور گائنی وارڈ کا بھی دورہ کیا ،ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ڈاکٹر اسد اسلم اور سینئر ڈاکٹر توقیر منہاس نے صوبائی وزیر کو مختلف امور پر بریفنگ دی۔ یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں شکایات کی نگرانی میں خود کروں گی۔ کسی ہسپتال میںمریض سے بدسلوکی کی شکایت پر کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔چکوال(بیو رو رپورٹ)الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے ایم این اے سردار ذوالفقار علی کی جانب سے ڈپٹی کمشنر پر بھرتیوں کیلئے دباﺅ ڈالنے کا معاملہ سپیکر قومی اسمبلی کو بھجوانے کا فیصلہ کرلیا ہے ،ڈی سی چکوال نے ایم این اے کی جانب سے بھرتیوں کیلئے دباﺅ ڈالنے کے معاملے پر الیکشن کمیشن سمیت متعلقہ حکام کو خطوط لکھے تھے ،کمیشن کی جانب سے ایم این اے کے خلاف کاروائی کی سفارش کی جائے گی۔الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق کمیشن نے ڈپٹی کمشنر چکوال غلام صغیر کی جانب سے تحریک انصاف کے ایم این اے سردار ذولفقار علی کی جانب سے تبادلوں کیلئے سیاسی دباﺅ ڈالنے کے معاملے پر لکھے جانے والے خط کو سفارشات کے ساتھ سپیکر قومی اسمبلی کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے سپیکر قومی اسمبلی کو معاملے کی انکوائری اور مذکورہ ایم این اے کے خلاف کاروائی کی سفارش کی جائے گی واضح رہے کہ ڈپٹی کمشنر چکوال غلام صغیر شاہد نے الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی ایم این کے خلاف خط لکھا تھاجس میں ڈی سی چکوال نے پی ٹی آئی ایم این اے پر سیاسی مداخلت کا الزام لگایا تھا۔

چکوال(بیو رو رپورٹ)ممبر بورڈ آف ریوینوسہیل شہزاد نے ڈپٹی کمشنر آفس چکوال میں ریوینو افسران کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے ہمیں اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے دن رات کوشش کرنی چاہیئے۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر چکوال غلام صغیر شاہد،اے ڈی سی جی ،اے ڈی سی آر اسسٹنٹ کمشنرز،ڈسٹرکٹ انچارج لینڈ ریکارڈ کمپےوٹرائزیزیشن،انچارج سروسسز سنٹرز اور ریوینو افسران نے اجلاس میں شرکت کی ۔ڈپٹی کمشنر نے اجلاس کو زرعی ٹیکس ،آبےانہ،سٹیمپ ڈےوٹی،انتقالات ،لینڈ ریکارڈ کمپوٹرائزیشن کے حو الے سے تفصیل ً بریفنگ دی۔انہوں نے کہا کہ لینڈ ریکارڈ کمپوٹرائزیشن کا 93 کام فیصد مکمل ہو چکا ہے ۔سٹاف کی کمی کے باعث ریکارڈ بنانے کا عمل تاخیر کا باعث بنا جسے جلد از جلد مکمل کر لیا جائے گا ۔کھیوٹ،مےوٹیشن کے معاملات پر کام جاری ہے اس پر کام رواں ماہ مکمل کر لیا جائے گا ۔ممبر بورڈ آف ریوینو نے تحصیلداروں کو ہداےت کی کہ زمین کی تقسیم و نشاندہی کے تمام کیسسز جو عرصہ سے زیر التوا ہیں انہیں ترجیحی بنےادوں پر نمٹاےا جائے ۔ریوینو افسران ہر پندرہ دن بعد اپنا اجلاس کریں اور اپنی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے اہداف کو پورا کر یں۔ مذید براں انہوں نے ڈپٹی کمشنر کو ہداےت کی کہ محکمانہ پروموشن کے عمل کو تیز کرکے سٹاف کی جلد ترقےاں کی جائیں تاکہ ملازمین کا مورال بلند ہو اور محکمانہ امور کی انجام دہی میں حائل روکاوٹوں کو دور کیا جا سکے ۔انہوں نے مجموعی طور پر ڈپٹی کمشنر اور انکی ٹیم کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں