50

کشمیر کی تحریک دہشت گردی نہیں‘ مظلوم کشمیریوں کی ہر ممکن مددوحمایت کی جائے: پروفیسر حافظ محمد سعید

لاہور(پاکستان اپ ڈیٹس )امیر جماعةالدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف سے قرضوں کیلئے بیرونی دباﺅ قبول نہ کرے۔عالمی مالیاتی ادارے قرضوں کے ساتھ اپنی پسند کی شرطیں بھی لگاتے ہیں۔ مدینہ جیسی ریاست قائم کرنے کیلئے قوم کی اسلامی بنیادوں پر تربیت کی جائے۔ ملک و ملت کے دفاع کیلئے پاکستانی قوم نے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ جراتمند قیادت ہی ملک کو درپیش مسائل حل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ ڈیموں کی تعمیر کی مخالفت کرنے والے ملک و ملت کے خیرخواہ نہیں ہیں۔ کشمیر کی تحریک دہشت گردی نہیں‘ مظلوم کشمیریوں کی ہر ممکن مددوحمایت کی جائے۔ جامع مسجد القادسیہ میں خطبہ جمعہ کے دوران انہوں نے کہاکہ ہمارے تعلیمی نظام، سیاسی و معاشی ڈھانچے اسلامی اصولوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔حکمران جرات و استقامت کا راستہ اختیار کریں اور ملک میں ریاست مدینہ والا ماحول پیدا کریں۔ بیرونی قوتیں امداد کیلئے شرطیں لگاتی ہیں کہ پہلے ملک میں سودی نظام پروان چڑھاﺅ ۔ کشمیر کی تحریک دہشت گردی ہے اس لئے مظلوم کشمیریوں کی حمایت بند کی جائے اور جو تنظیمیں و جماعتیں کشمیریوں کیلئے آوازبلند کرتی ہیں ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں تاکہ وہ اپنی دعوتی، سیاسی اور رفاہی سرگرمیاں بھی جاری نہ رکھ سکیں۔دشمن قوتیں اپنے ایجنڈوںکو پاکستان پر مسلط کرنا چاہتی ہیں۔ یہ وقت فیصلہ کرنے کا ہے کہ اس ملک کو مدینہ کی ریاست بناناہے یا بیرونی دباﺅ کا شکار ہو کر سابقہ پالیسیوں کو جاری رکھنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بیرونی قوتیں حکم نامے جاری کرتی ہیں کہ تعلیمی نصاب سے سورة توبہ، سورة انفال اور سیرت رسول ﷺ کے دیگر اسباق ختم کئے جائیں۔ ماضی میں تعلیمی نصاب سے قرآن پاک کی یہ سورتیں اور اسلامی تاریخ کے واقعات نکال دیے گئے۔ مسلم حکمران سمجھتے ہیں کہ مغربی ملک خوش ہوں گے تو آئی ایم ایف سے قرضے ملیں گے اس لئے ان کی شرطیں تسلیم کی جاتی ر ہیں۔ نومنتخب حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ ماضی کی پالیسیاں ترک کریں اور ڈٹ جائیں کوئی ان کا ان شاءاللہ کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ خزانے خالی ہوں تو اللہ تعالیٰ پھر سے بھر دیتا ہے لیکن مسلمانوں کے دل ایمان سے خالی نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ اس سے نفاق آتا ہے اور ملکو ں و معاشروں میں بربادیاں پیدا ہوتی ہیں۔حافظ محمد سعید نے کہاکہ دنیا کی کسی قوم میں ایسا جذبہ نہیں جو اللہ تعالیٰ نے پاکستانیوں کو عطا کیا ہے۔ اللہ نے اس ملک کو بہت نعمتوں سے نوازا ہے یہاں صرف ایسی جراتمند قیادت کی ضرورت ہے جوقوم کی تربیت صحیح اسلامی بنیادوں پر کرے اورملک میں اسلامی شریعت کونافذ کیا جائے۔ مدینہ کی ریاست بنانے کیلئے یہ کام بہت ضروری ہے کہ یہاں تعلیمی نصاب کی اصلاح ہو اور وہی ریاست مدینہ والی سوچ و فکر اس ماحول و معاشرے میں پیدا کی جائے۔جب قرآن و سنت کو اہمیت دی جائے گی تو پھر بڑے بڑے چیلنجز کا مقابلہ اور اسلام دشمن قوتوں کی سازشوں کا توڑ کرنا مشکل نہیں رہے گا۔انہوں نے کہاکہ سب مسلمان ایک امت ہیں۔ ان میں علاقوں اور قبیلوںکی بنیاد پر کوئی فرق نہیں ہے۔ پاکستان میں بھی صوبائیت کی بنیاد پر تحریکیں کھڑی کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں ۔ بعض سیاستدانوں کی طرف سے ملک میں ڈیموں کی تعمیر کی مخالفت سے دشمن قوتوں کے ایجنڈے کو تقویت ملتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں عوام کی تربیت اس طرح ہو کہ ایسے لیڈر قوم کو دھوکہ نہ دے سکیں۔انہوںنے کہاکہ قرآن و سنت پر عمل پیرا ہونے میں ہی دنیا و آخرت میں کامیابیوں کا حصول ممکن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں