78

موجودہ حکومت سائبان دینے کی بجائے چھیننے پر اتر آئی ہے۔ آفاق احمد

کراچی(پاکستان اپ ڈیٹس )مہاجر قومی موومنٹ (پاکستان) کے چیئرمین آفاق احمد نے مارٹن کوارٹر، جمشید روڈ،FCایریا اور پٹیل پاڑہ میں سرکاری ملازمین سے انکی رہائش گاہیں خالی کرانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت سائبان دینے کی بجائے چھیننے پر اتر آئی ہے ۔ ان علاقوں میں رہائش پذیر سرکاری ملازمین کو مالکانہ حقوق دیئے جاچکے تھے اسکے باوجود انہیں انکی چھتوں سے محروم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور اس سلسلے میں سپریم کورٹ اور ایپکس کورٹ کا نام استعمال کیا جارہا ہے حالانکہ عدالت عظمیٰ نے ابھی تک ان رہائشیوں کو غیر قانونی قرار نہیں دیا ، سپریم کورٹ اس معاملے کا نوٹس لے اور اس مسئلہ کو ترجیحی بنیادوںپر حل کیا جائے ۔ اپنی رہائش گاہ پر مارٹن کوارٹر سے آئے متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے آفاق احمدنے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے 50لاکھ بے گھر افراد کو گھر دینا تو درکنار پہلے سے آباد لوگوں کو انکے گھروں سے محروم کیا جارہا ہے ، کراچی جیسے شہر میں کہ جہاں 52فیصد کچی آبادیاں شہر کی پرائم لینڈ پر قائم اور ہر قسم کی شہری سہولیات استعمال کررہی ہوں اور جنہیں دھڑا دھڑ ریگولائز بھی کیا جارہا ہو وہاں پچاس سالوں سے رہائش پذیر سرکاری ملازمین سے زبردستی انکے گھر خالی کرانے کی کوششوں سے تعصب کی بو آرہی ہے ۔ بہتر یہی ہے کہ گھروں کو خالی کرانے کی بجائے ان متاثرین کو مالکانہ حقوق دیئے جائیں۔ آفاق احمد نے کہا کہ مارٹن کوارٹر، جمشید روڈ اور FCایریا سمیت دیگر علاقوں کے عوام کو مہاجر ہونے کی سزا دی جارہی ہے ، انکے تحفظ کیلئے سب کو ساتھ کھڑے ہونا چاہئے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہاں سے منتخب ہونے والوں اور تیس سال شہر کے وسائل پر قابض جماعتوں نے صرف سیاست ہی چمکائی اور آج بھی سیاست ہی چمکا رہے ہیں ۔ آفاق احمد نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے پچاس لاکھ مکانات بنانے کا دعویٰ اگر حکومت سچا ثابت کرنا چاہتی ہے تو اسے ان علاقوں میں رہائش پذیر سرکاری ملازمین کے مالکانہ حقوق بحال کرنے پڑیں گے ، اگر وفاقی حکومت نے اس جانب توجہ نہ دی تو پھرنقصان کراچی کی عوام سے زیادہ تحریک انصاف کا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم چیف جسٹس سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے کر مارٹن کوارٹر ، جمشید روڈ، ایف سی ایریا اور پٹیل پاڑہ کے علاقوں میں مکانات زبردستی خالی کرانے کی کوششوں کی روک تھام کیلئے احکامات صادر فرمائیں اسکے علاوہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے پوچھا جائے کہ وہ مالکانہ حقوق کے حامل رہائشیوں سے کس قانون کے تحت مکانات خالی کروا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں