35

پاکستان بے شمار مسائل کا شکارہے لیکن سندھ کے حالات انتہائی پریشان کن ہیں: سینیٹر سراج الحق

سکھر(پاکستان اپ ڈیٹس )امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ پاکستان بے شمار مسائل کا شکارہے لیکن سندھ کے حالات انتہائی پریشان کن ہیں، پاکستان کیلئے سندھ کی بڑی اہمیت ہے۔ صوبہ سندھ پاکستان کیلئے ایک نظریاتی شہ رگ ہے،سندھ کو باب الاسلام ہونے کا شرف حاصل ہے جس کاپاکستان اور برصغیر کی تاریخ میں بڑامقام ہے، لیکن اس اہمیت کے باجود بھی سندھ کے باشندے گوناگو مسائل کا شکار ہیں، ان کے چہروں پر خوشی و اطمیان نہیں، زندگی بنیادی ضرورت پانی ہے مگرسندھ کے باشندوں کوصاف پانی بھی میسر نہیں۔ اندرون سندھ ایک وقفہ کے بعد دوبارہ امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکھر میں اجتماع ارکان اور بعد ازاں پریس کلب سکھر میں میٹ دی پریس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرامیرصوبہ ڈاکٹر معراج الہدی صدیقی، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل اظہر اقبال،صوبائی جنرل سیکریٹری ممتاز حسین سہتو، عظیم بلوچ، عبدالحفیظ بجارانی، حافظ نصراللہ اورمولانا حزب اللہ جکھروبھی موجود تھے۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ تھرپارکر میں بچے مرتے ہیں اور خشک سالی کے باعث لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوتے ہیںہرسال یہاں انسانی المیہ جنم لیتاہے ۔ تھرپارکر پر بات کرنے سے صوبہ سندھ کی حکومت پریشان ہوتی ہے، بچوں کی اموات بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہیں لیکن سندھ کے حکمران کہتے ہیں کہ غریب تو مرتے رہتے ہےں، صحافیوں نے بلاوجہ چھوٹے مسئلے کو بڑا مسئلہ بنادیا ہے ، غریب کے بچے مرتے ہیں تو معمول کا واقعہ سمجھا جاتا ہے،انہوں نے کہا کہ ہر انسان کی جان قیمتی ہے، حکومت کا فرض ہے کہ ہر شہری کو وہی سہولیات مہیا کرے جو اپنے بچوں کو حکمراں مہیا کرتے ہیں، پاکستان کے وی آئی پی کلاس کے بنک بیلنس بنگلوں اور سات پشتوں کے لئے دولت موجود ہے، لیکن یہاں اندرون سندھ تیس فیصد لوگ صاف پانی سے محروم ، 43 فیصد اسکول بجلی نہیں ہے،30 فیصد اسکولوں میں بچوں کیلئے صاف پانی میسر نہیں،31فیصد اسکول میں واش روم اور 44 فیصد اسکولوں میں باونڈری وال نہیں، اس طرح پیپلز پارٹی بڑے دعوے کرتی ہے لیکن اب بھی اندرون سندھ 30 فیصد لوگ بیروزگار ہیں، مایوس پریشان ہیں ، تعلیمی سہولیات نہیں ،کیسے ترقی ہوگی۔واٹر اکارڈ میں سندھ کی زراعت کیلئے جو حصہ مقررکیا گیا تھا وہ نہیں دیا جا رہا ہے، سندھ کے کسانوں کو تاخیر سے پانی ملتا ہے اوروہ بھی پورا نہیںدیا جاتا ہے ،سندھ کاعام کسان محنتی ہے اس کوسلام پیش کرتا ہوںان کی فصلوںکو مارکیٹ میں وہ مقام نہیںملتا ہے جس کے وہ حقدار ہیں۔ حکومت سندھ کے کسانوں کی سرپرستی نہیں کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ کسان اپنے فصل کو جلانے پر مجبور ہو جاتا ہے،انہوں نے کہا کہ جب تک سرکاری سطح پر زراعت اور کسانوں کی سرپرستی نہیں ہوگی ، پاکستان جو زرعی ملک ہے ترقی نہیںکر سکتا،ہم چاہتے تھے کہ پیپلز پارٹی کی طویل حکمرانی میں سندھ ترقی کریگا ، 70 سے آج تک سندھ کے لوگوںنے پی پی کو ووٹ او رسپورٹ دی او رمحبتوں سے نوازا ، عوام نے انہیں کندھوں پر بیٹھاکر کراچی کے ایوانوں اور اسلام آباد تک پہنچایا ، مگرحکمرانوں کی زندگی میںتو انقلابات آتے رہے لیکن غریب سندھی کی زندگی نہیں بدلی، انہوں نے کہا کہ عام آدمی مایوس ہوکر اب اس کو تقدیر کی لکیر سمجھ بیٹھا ہے،انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی عدل انصاف کی حکمرانی چاہتا ہے ریاست

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں