40

تعلیمی ادارے طلباءکو نوکر بنا رہے ہیں اور ڈگریاں بیچ رہے ہیں،موجودہ نظام تعلیم میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے:نامور ماہرین تعلیم

اسلام آباد(پاکستان اپ ڈیٹس )نامور ماہرین تعلیم نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلباءکی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنا ہو گا،استاد صرف تعلیم کی بجائے تربیت کرنے کا بھی مجاز ہے۔قومی زبان اردو میں جب تک تعلیمی نظام نہیں آئے گا ترقی نہیں کر سکتے،تعلیمی ادارے طلباءکو نوکر بنا رہے ہیں اور ڈگریاں بیچ رہے ہیں ۔موجودہ نظام تعلیم میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔ ٹیکنالوجی کی وجہ سے تبدیلی آئی،اس کے نقصانات سے بچنے کی ضرورت ہے۔اساتذہ اپنے سکولوں میں تھنکر اور ریڈرزکلب بنائیں۔مہذب معاشرے کی تشکیل کے لئے اخلاقیات ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار فاﺅنڈیشن آف ایفیکٹیوایجوکیشن اینڈ لرننگ کے تحت سلام آڈیٹوریم میں ایک روزہ سیمینارسے ڈائریکٹر Feelانجینئر نویدقمر، نامور ماہرین تعلیم محمود احمد، عامر شہزاد، ہمایوں مجا،ہد احمد حاطب صدیق، ڈاکٹر عرفان حیدر ،ڈاکٹر محمد انور جمال، انجینئر ذیشان وارث و دیگرنے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیمینار میں سکولز،کالجز کے اساتذہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ماہرین تعلیم نے وطن عزیزمیں درپیش تعلیمی مسائل اور ان کا حل پیش کیا۔سیمینار میںملک کے نامورماہرین تعلیم نے اپنی گفتگو کے ذریعے نظام تعلیم کے مختلف پہلوﺅں پر روشنی ڈالی اور سوالات وجوابات کی نشست کے ساتھ ساتھ اصلاحی خاکوں کے ذریعے سامعین کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلایا ۔انجینئر نوید قمر نے کہا کہ والدین کو گھروں میں میں تعلیم اور تربیت کا موثر نظام فراہم کرنا ہوگا۔ بچوں کو مطالعہ کرنے کے لیے مناسب مواقع فراہم کئے جائیں۔ بچوں کو انٹرنیٹ کے مثبت استعمال سے آگاہ کرنا چاہیے تاکہ ان کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو ۔تعلیمی مہارتوں کے ساتھ مغربی نظریات کی بجائے اسلام کے نظریئے کو اپنانا ہو گا۔ہم جب تک انگریز کے دیئے ہوئے نصاب کی اصلاح نہیں کرتے ہم کچھ نہیں کر سکتے،علم حاصل کرنے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ہمیںآسمانوں سے نازل ہونے والے علم کو اہمیت دینی چاہئے۔انہوں نے کہ کہ فیل کے تحت سکولز ،کالجز کے اساتذہ و والدین کے لئے مختلف تربیتی کورسز کروائے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مستقبل ان کے ہاتھو ں میں آ رہا ہے جو آئیڈیاز پر کام کر رہے ہیں۔آئیڈیاز تب آتے ہیں جب انسان ذاتی ذندگی سے مطمئن اور خوش ہو اور اسے اپنا کام بوجھ محسوس نہ ہو۔ایک چھوٹا سا آئیڈیا سوسائٹی کو تبدیل کر دیتا ہے۔ڈاکٹر عرفا ن حیدر ڈین سی بی ایم نے کہا کہ بچوں کو قدرتی ماحول سے نکال کر مصنوعی میں منتقل کیا جارہا ہے۔ ہمیں طلبا کو محض نمبروں اور ڈگری کی دوڑ سے باہر نکالنا ہوگا۔ ہمارے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں تعلیمی نظام ناکام رہا ہے۔ والدین کو بچوں پر خصوصی توجہ اور شفقت کی ضرورت ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام میں بچوں کو سراب کے پیچھے لگایا جارہا ہے۔ ڈائریکٹر ریڈرز فاﺅنڈیشن محمود احمد نے کہا کہ تربیتی اداروں کا ملکی بنیاد پہ کوئی تصور نہیں ہے۔ تعلیم پہلا مرحلہ اور تربیت اس کا اگلا مرحلہ ہے،استاد پر لازم ہے کہ وہ بچوں سے سختی سے پیش نہ آئے،طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ اخلاق سے تربیت کی جاتی ہے۔معلم کی ذمہ داری ہے کہ سوسائٹی سے آنے والے بچوں کی تربیت کرے۔ڈاکٹر محمد انور جمال نے کہا کہ اچھے استاد کے پاس بہت سے سوالات کے جوابات نہیں ہوتے لیکن سوالات ہوتے ہیں۔ہمارا نظام اس بنیاد پر ہے کہ اساتذہ طلبا کو ان کے سوالات کے جوابات تک پہنچائیں۔استاد کا بنیادی کام جوابات تک پہنچانا نہیں بلکہ سوالات تک پہنچانا ہے۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اساتذہ کی تربیت کے لئے بہت مواد موجود ہے۔استاد کی پہچان پڑھانا نہیں ۔سلیبس بنیادی کام ہے ۔دنیا میں کہیں بھی استاد کی بات ہو تو اس کے علم کے مرتبے کی بات ہوتی ہے۔اساتذہ کو ہفتہ وار ،ماہانہ کتابیں پڑھنی چاہئے۔پینل ڈسکشن میں محمود احمد، عامر شہزاد، ہمایوں مجاہد، احمد حاطب صدیق، نے کہا کہ مستقبل کے کامیاب تعلیمی نظام کا خاکہ وضع کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس کے لیے تعلیمی نظام میں اصلاحات کا عمل ناگزیر ہے۔ تعلیمی نظام اس وقت بے یقینی اور بے مقصدیت پر مبنی ہے۔ بچوں کو قدرتی ماحول میں واپس لانے کی ضرورت ہے۔ آٹھ پیریڈز کا نظام ختم کر کے بچوںمیں تخلیقی صلاحیتیں اجاگر کرنے والا نظام متعارف کرواناہوگا۔ بچوں کو گھروں میں تعلیم اور تربیت کا موثر نظام مہیا کرنا ہوگا۔ہمارے ہاں جگہ جگہ سکول کھل گئے ہیں لیکن معاشرے میں تبدیلی کیوں نہیں آئی ۔دنیا کی پانچ ہزار سالوں میں ایسا تعلیمی نظام پیش نہیں کیا گیا جو آج ہمارے ہاں چل رہا ہے آج کا تعلیمی نظام دنیا کا سب سے بدترین نظام تعلیم ہے ۔انسانی تاریخ میں پہلا نظام تعلیم ہے جس نے انسان کی ڈگری کو مارکیٹ میں لا کر کھڑا کردیا ہے۔ہمارے نوجوان ڈگریاں لےکر پاکستان کے اندر جگہ جگہ نوکریوں کے لئے ذلیل خوار ہورہے ہیں ۔یہ واحد تعلیمی نظام ہے جو ہمارے بچے کو نوکر بنارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ قوم ترقی نہیں کر سکتی جواپنی ذبان کو ترجیح دینے کی بجائے کسی اور کی زبان کو ترجیح دیتا ہے۔انگریزی کی بجائے قومی زبان اردو میں نظام تعلیم لانا ہو گا تبھی قوم ترقی کر سکے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں