254

پولیس کی ناقص تفتیش انصاف کاخون کرنے کے مترادف ہے:میاں مقصوداحمد

لاہور( پاکستان اپ ڈیٹس )امیرجماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمدنے کہاہے کہ ملک میں18لاکھ سے زائد مقدمات زیر التواء ہونا تشویش ناک امر ہے جبکہ صرف سپریم کورٹ آف پاکستان میں 38ہزارمقدمات التواکاشکار ہیں۔وقت کاتقاضا ہے کہ سستا اور بروقت انصاف بلاتفریق ہرکسی کو میسر ہو۔ملک وقوم کاسب سے بڑاالمیہ یہ ہے کہ پاکستان میں اشرافیہ کے لیے الگ اور غریب متوسط طبقہ کے لیے الگ قانون رائج ہے۔حالیہ مقدمات کے فیصلوں سے عوام کا اعتمادعدالتی نظام پر بحال ہورہاہے لہٰذاضرورت اس امر کی ہے کہ زیرالتواء مقدمات جلدازجلد نمٹانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں عوامی وفود سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ ملک میں لاقانونیت کی انتہاہوچکی ہے۔تھانہ کلچراور عدالتی نظام میں موجود سقم کے باعث ملزمان دندناتے پھررہے ہیں۔اربوں کھربوں لوٹنے والے شاہانہ طرززندگی گزاررہے ہیں جبکہ معمولی جرائم کاارتکاب کرنے والے افراد اپنی سزاکی مدت مکمل ہوجانے کے باوجود پابند سلاسل نظرآتے ہیں۔عوام کی زندگی عملاً اجیرن ہوچکی ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کے عوام معززعدالتوں کونجات دہندہ سمجھتے ہیں مگربدقسمتی یہ ہے کہ ہمیں ملکی تاریخ میں ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں جن میں لوگوں نے جھوٹے مقدمات میں اپنی زندگی کے کئی کئی برس جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزاردیئے۔پولیس کی ناقص تفتیش انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔پولیس کے ادارے کی اصلاح کی بھی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ جب تک ملک میں قانون کااطلاق یکساں بنیادوں پر نہیں کردیاجاتامعاشرے میں انصاف کابول بالانہیں ہوسکتا۔جس کی لاٹھی اس کی بھینس کاقانون اب ختم ہونا چاہئے۔عوام کوریلیف فراہم کرنے کی غرض سے عدالتیں بھی زیر التوا مقدمات کی سماعت کوجلدنمٹانے کابندوبست کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں