179

خواتین اساتذہ مردانہ سکولوں میں،پریم کہانیاں سامنے آنے لگیں

تلہ گنگ(پاکستان اپ ڈیٹس )پنجاب کے سرکاری سکولوں میں حال ہی میں خواتین کی بڑی تعداد کو مردانہ سکولوں میں بھرتی کیا گیا تھا جسے روشن خیالی اور بہترین مستقبل کا غماز کہا جا رہا تھا لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ خواتین و مرد اساتذہ کا اختلاط سکولوں میں بہت سی پیچیدگیاں اور مسائل مسائل پیدا کرنے لگا ہے۔جہاں ایک طرف تو کئی خواتین اساتذہ کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے کئی کیس سامنے آ چکے ہیں وہاں بعض اساتذہ اور استانیوں کی پریم کہانیاں بھی زبان زد عام ہو چکی ہیں۔اسی طرح خواتین کی وجہ سے سکولوں میں اساتذہ کے درمیان گروہ بندیاں بھی دیکھنے میں آئی ہیں جو کہ سکول کے ماحول اورتعلیمی سرگرمی کیلئے سمِّ قاتل کی حیثیت رکھتی ہیں۔حال ہی میں جب سکولوں کا سروے کیا گیا جن میں دور دراز دیہاتوں کے سکول بھی شامل تھے تو دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ جن مردانہ سکولوں میں صرف مرد اساتذہ رکھے گئے ہیں وہاں کا تعلیمی اور سماجی ماحول ان سکولوں سے بہت بہتر تھا جہاں مرد و خواتین اساتذہ کا اختلاط پایا جاتا ہے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے کئی خواتین اساتذہ نے بتایا کہ ہمیں مرد آفیسرز کی طرف سے بلیک میل کیا جاتا ہے اور وہ سرکاری کاموں کے عوض ناجائز مطالبات پورا کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ لہذا پنجاب حکومت اور وزیر تعلیم پنجاب مراد راس صاحب سے اساتذہ کا مطالبہ ہے کہ خواتین اساتذہ کو زنانہ سکولوں میں بھیج کر مردانہ اسکولوں میں صرف مرد اساتذہ رکھے جائیں۔ تا کہ مسائل کا خاتمہ ہو اور تعلیمی سرگرمیاں موثر طریقے سے چل سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں