56

اب ججز کا بھی احتساب شروع ہوچکا ہے:چیف جسٹس میاں ثاقب نثار

لاہور(پاکستان اپ ڈیٹس )چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ کفر کا معاشرہ تو قائم رہ سکتا ہے لیکن جہاں بے انصافی کا عروج وہاں معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا،ایک جج کو ہر کیس کا فیصلہ پوری ذمہ داری سے کرنا چاہیے، کیا آج ہم اپنی ذمہ داری پوری کررہے ہیں؟ہمارے قوانین اور سسٹم میں ترامیم کی ضرورت ہے کیونکہ وہ دور گیا جب لوگ انصاف ملنے کے منتظر رہتے تھے اور صبر سے کام لیتے تھے لیکن اب ایسا نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق لاہور میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ کیا ایک فلاحی ریاست کا حق نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کو بنیادی حقوق اور سہولیات فراہم کرے،بابا رحمتے کا کردار ایک منصف کا ہے لیکن جس نظام کاڈھانچا جھوٹ اور بددیانتی پرمبنی ہوگا تو وہاں کیا کارکردگی دیکھائی جا سکتی ہے؟ججز جتنی تنخواہیں لے رہے ہیں اتنا کام بھی کریںلیکن افسوس کہ کئی کئی دن مقدمات کی شنوائی نہیں کی جاتی کیا یہ بے انصافی نہیں ہے؟ججز کو اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا ہو کہ وہ آنے والی نسل کو کیا دے رہے ہیں؟مقدمات کے فیصلوں کو وقت پر ہونا چاہیے کیونکہ یہ عدالت کی ذمہ داری ہے،جس کا حق مارا جاتا ہے وہ انصاف کا منتظر رہتا ہے،مقدمات کو نمٹانے میں تاخیر ایک ناسور بن چکا ہے،قوانین کا ازسرنوجائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک جیسی نعمت ہر کسی کو نہیں ملتی جن کے پاس یہ نعمت نہیں ان سے پوچھو، یہ ملک بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا،آج ہم جو کچھ بھی ہیں صرف پاکستان کی وجہ سے ہیں لیکن ہمارے ملک کا ڈھانچہ درست نہیں۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ بار اور عدالت کی عزت لازم ہے اور اس کے بنا کوئی معاشرہ نہیں چل سکتا اور اسی طرح استاد کی عزت بھی لازم ہے،عوام کی ترقی کے لیے ہمیں پوری ذمہ داری سے کام کرنا ہوگا جبکہ ایک جج کو ہر کیس کا فیصلہ پوری ذمہ داری سے کرنا چاہیے،61 برس بعد خاتون کو 15 دن میں انصاف دیا گیا جب جج ذمہ داری پوری نہیں کریں گے تو انصاف فراہم نہیں کیا جا سکتا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں