56

پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کیلئے سودی معیشت پر مبنی نظام ختم کرنا ہوں گے:پروفیسر حافظ محمد سعید

لاہور(پاکستان اپ ڈیٹس )امیر جماعةالدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ بعض قوتیں منظم منصوبہ بندی کے تحت پاکستان کو معاشی بحران سے دوچار کر رہی ہیں۔ قوم کو بتایا جائے کہ پاکستان کو مفلوج کرنے کی سازشوں کے پیچھے کون ہے؟۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے سودی قرضے لیکر ملکی مسائل کا حل ممکن نہیں ۔ سوئٹزر لینڈ کے بینکوں میں پڑی لوٹ مار کی دولت واپس لائی جائے۔حکمران بیرونی قوتوںکے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی بجائے قوم کو اعتماد میں لیں اور مسلم ممالک اور چین سے معاہدے کئے جائیں۔ پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کیلئے سودی معیشت پر مبنی نظام ختم کرنا ہوں گے۔ پاکستانی قوم مشکل وقت میں ہر طرح کی قربانی پیش کرنے کیلئے تیار ہے۔ جامع مسجد القادسیہ میں خطبہ جمعہ کے دوران ہزاروں افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سب سے بڑا حربہ معاشی ہتھیار ہے جسے آج مسلمان ملکوں کیخلاف استعمال کیا جارہا ہے۔ہم اللہ کے فضل و کرم سے تمام مسائل پر قابو پا سکتے ہیں لیکن اس کیلئے عقیدے کی پختگی اور عمل چاہیے۔ وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کی بات کی ہے تو وہ اپنے اس عہد کو نبھائیں۔وہ سیرت رسول ﷺ سے رہنمائی لیں کہ جب مدینہ کے محاصرے کئے گئے، مہاجرین کی آبادی بڑھی او ر معاشی حالات تنگ ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے کیا لائحہ عمل اختیار کیا اور اندرونی وبیرونی مسائل کیسے حل کئے؟۔ آج قرآن پاک کی ان سورتوں کو پڑھ کر رہنمائی لینے اور پالیسیاں مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔سود کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے کھلی جنگ قرار دیا گیا ہے۔یہ سوچ درست نہیں کہ آئی ایم ایف سے قرض لئے بغیر ملک نہیں چلایا جاسکتا۔ مشکل وقت میں قربانی دینا پڑتی ہے۔ حکمران سب سے پہلے خود قربانی دیں اور لوگوں کیلئے مثال بن کر قوم میں قربانی والے جذبے پیدا کریں۔ پاکستانی عوام ملکی سلامتی واستحکام کیلئے بھوک برداشت کرنے کیلئے تیار ہو جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ بڑے بڑے سرمایہ داروں سے کرپشن اور لوٹ مار کی دولت واپس لی جائے تو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یہ کہنا کہ ہم گلوبل سسٹم سے الگ نہیں ہو سکتے سراسر دھوکہ ہے۔ سودی معیشت کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس کے ذریعہ معاشی ناہمواریاں اور لوٹ کھسوٹ کے سلسلے ختم ہو سکتے ہیں۔ اسلام صرف نماز ، روزہ اور چند عبادات کا نام نہیں ہے۔ مدینہ میں بھی یہودی سود پر قرض دیتے اور یہی کاروبار کرتے تھے لیکن جب اللہ نے قرآن میں سود ختم کرنے کی آیات نازل کردیں تو نبی اکرم ﷺ نے واضح حکم دیا کہ مسلمان آج کے بعد نہ تو قرضوں پر سود لیں گے اور نہ ہی سود ادا کیا جائے گا۔سود سے متعلق اللہ رب العزت کا جو حکم مدینہ کے مسلمانوں کیلئے تھا وہی وزیر اعظم عمران خان کیلئے ہے۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ سنبھل جائیں اور ریاست مدینہ والا نظام اس ملک میں نافذ کریں۔حافظ محمد سعید نے کہاکہ نبی اکرم ﷺ کے دور میں جس طرح مدینہ کیخلاف سازشیں کی گئیں اسی طرح پاکستان کو سازشوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بیرونی قوتیں وطن عزیز پاکستان کو کسی صورت مضبوط و مستحکم نہیں دیکھنا چاہتیں۔ نبی اکرم ﷺ نے مدینہ کے دفاع کیلئے مشرکین اور آس پاس کے قبائل سے معاہدے کئے۔ حکمرانوںکو بھی چاہیے کہ وہ صلیبیوں و یہودیوںاور آئی ایم ایف جیسے اداروں سے امداد طلب نہ کریں بلکہ سعودی عرب اور دیگر مسلمان ملکوں سے معاشی تعلقات بڑھائیں۔ سود پر قرضے لیں تو آسمانوں سے مدد کے دروازے نہیں کھلیں گے۔ انہوںنے کہاکہ نومنتخب حکمرانوں کی طرف سے پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کے اعلان سے پاکستانی قوم نے ان سے امیدیں وابستہ کیں اور خوشی کا اظہار کیا۔ہر شخص جس کے دل میں دین کی محبت ہے وہ سمجھ رہا تھا کہ شاید کوئی تبدیلی آئے گی۔اس لئے حکمرانوں کو کسی طور ایسے اقدامات نہیں اٹھانے چاہئیں جس سے لوگوں میں مایوسیاں پھیلیں۔ ریاست مدینہ کا ماڈل اللہ نے قرآن میں پیش کیا ہے اور یہ ہماری اسلامی تاریخ کا حصہ ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں قرآن و سنت کا نظام نافذ کیا جائے۔ اسی سے آسمانوں سے رحمتیں و برکتیں نازل ہوں گی اور مسلمانوں کے مسائل حل ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں