111

بھارت و امریکہ کا اصل ہدف سی پیک اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہے:میاں سہیل

ملتان(احمد اجمل )جماعۃ الدعوۃ ملتان کے مسؤل میاں سہیل احمد نے کہاکہ جماعۃالدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کیخلاف اقدامات پر پوری پاکستانی قوم میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔ ان حالات میں ملک کو اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے ، حکمران خارجہ پالیسی کے میدان میں ناکام نظر آرہے ہیں ، بھارت کے خلاف ثبوت ہونے کے باوجود عالمی سطح پر اس مقدمے کو بہتر انداز میں پیش نہیں کیا گیا ، ذاتی مفادات کو ریاستی مفادات پرترجیح دی جارہی ہے ، بھارت و امریکہ کا اصل ہدف سی پیک اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہے۔ وہ بیرونی سازشوں کیخلاف اٹھنے والی ہر آوا ز کو خاموش کرنا چاہتے ہیں۔ مظلوم کشمیریوں کے حق میں اور پاکستان کیخلاف سازشوں سے متعلق بھرپور آواز بلند کرنے پر جماعۃالدعوۃ کیخلاف کاروائیاں کی جارہی ہیں۔ ایف آئی ایف کے رفاہی و فلاحی منصوبہ جات میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے ملک بھر میں لاکھوں افراد متاثر ہوں گے۔ مختلف وفو د سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پہلے امریکہ ڈومور کہتا تھا اب حکومت بھارتی دباؤ پر بھی محب وطن تنظیموں کیخلاف کاروائی میں مصروف ہے۔ شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بننے سے بھی بیرونی قوتیں خوش نہیں ہوں گی۔ نائن الیون کے بعد بھی ایسے اقدامات نہیں کئے گئے جو اس وقت اٹھائے جارہے ہیں۔ہم وکلاء سے مشاورت کر رہے ہیں۔ ہم نے پہلے بھی قا نونی جنگ لڑی اب بھی قانون سے اپنا حق لیں گے۔ انہوں نے کہاکہ انڈیا نے کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو ہمیشہ جوتے کی نوک پر رکھا اور کبھی ان پر عمل درآمد نہیں کیا لیکن پاکستانی حکمران جماعۃالدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کیخلاف اقدامات کیلئے عجلت میں صدارتی آرڈیننس پاس کر رہے ہیں اور اپنے ہی ملک کی محب وطن جماعتوں اور اداروں کیخلاف کاروائی کی جارہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نیا صدارتی آرڈیننس صرف جماعۃالدعوۃ ہی نہیں پورے ملک کیخلاف سازش ہے۔ میاں سہیل احمدنے کہاکہ بھارت و امریکہ کی خوشنودی کیلئے حکومت نے جماعۃا لدعو ۃ اور ایف آئی ایف کے تمام تعلیمی اداروں، ایمبولینسوں، ڈسپنسریوں اور دیگر اثاثہ جات کوقبضہ میں لیا۔ اس سے بلوچستان، سندھ، پنجاب،شمالی علاقہ جات اور کشمیر میں جاری ریلیف سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں اور تعلیم و صحت سمیت دیگر رفاہی و فلاحی منصوبہ جات جاری رکھنامشکل ہوگیا ہے۔حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ بیرونی قوتوں کے دباؤ کا شکار ہونے کی بجائے ملکی سلامتی و استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں ترتیب دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں