30

سی پیک منصوبہ پاکستان پر چین کے اعتماد کا مظہر ہے، چینی سفیر

اسلام آباد(پاکستان اپ ڈیٹس)چین کے سفیر ژاؤ جنگ کا کہنا ہے کہ کچھ قوتوں کو پاکستان اور چین کے درمیان تعاون، تعلقات اور دوستی کھٹکتی ہے۔اسلام آباد میں پاک، چین اقتصادی راہداری اور وزیراعظم کے دورہ چین پر بریفنگ دیتے ہوئے چین کے سفیر ژاؤ جنگ کا کہنا تھا کہ سی پیک اقتصادی و صنعتی تعاون کا کلیدی حصہ ہے، پاکستان کی نئی حکومت معاشی، سماجی اور خارجہ پالیسی کی ترقی چاہتی ہے، معاشی طور پر مضبوط پاکستان، عوام اور خطے کے لیے اہم ہے، پاکستان کی حکومت علاقائی امن و استحکام کے لیے مثبت اور متحرک ہے۔چینی سفیر نے کہا کہ پاکستان نے افغان امن کے لیے کلیدی تجاویز دیں، چین خطے میں امن اور بہترین ہمسائیگی کے وژن میں پاکستان کے ساتھ ہے، پاک اور چین تعلقات کا دائرہ کار انتہائی وسیع ہے، دونوں ممالک سماجی، اقتصادی، تجارتی، دفاعی و ثقافتی ترقی کے لیے یکجا ہیں، پاکستان اور چینی قیادت کا وژن اور سوچ یکساں ہے، دونوں ممالک پالیسی سطح پر باہمی اشتراک اور تعاون سے آگے بڑھیں گے۔چینی سفیر ژاؤجنگ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان شنگھائی کانفرنس میں مہمان خصوصی ہوں گے، ابھرتا ہوا پاکستان، چین اور بین الاقوامی دنیا کے لیے اہم ہے، پاکستان کے اقتصادی مسائل سے آگاہ ہیں، پاکستان کی تکنیکی، معاشی اور صنعتی استعداد کار میں اضافے کے لیے تعاون کریں گے، چین کی بڑی معاشی و تجارتی منڈی پاکستان کے لیے کلیدی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔چینی سفیر کا کہنا تھا کہ سی پیک منصوبہ پاکستان پر چین کے اعتماد کا مظہر ہے، پاکستان کی ترقی کے لیے پرعزم ہیں، سی پیک سے متعلق تحفظات دور کرنے کے لیے تیار ہیں، واضح کرتا ہوں کہ سی پیک ’ون روڈ اینڈ ون بیلٹ‘ منصوبے کا حصہ ہے، سی پیک صرف چین کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ صرف چینی کمپنیاں سی پیک سے فائدہ اٹھا رہی ہیں، سی پیک پر معلومات کی فراہمی کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں، سی پیک پر پاکستان اور پاکستانیوں کے تمام خدشات کا ازالہ کریں گے۔چینی سفیر نے بریفنگ میں بتایا کہ سی پیک کے 22 منصوبوں پر 19 ارب ڈالر خرچ کر رہے ہیں، پاکستان کی تیار کنندہ صنعت اور برآمدات کو بہترین بنانا اور بڑھانا چاہتے ہیں، دنیا کی کچھ طاقتیں چین کو ابھرتا ہوا خوشحال ملک نہیں دیکھنا چاہتیں جب کہ کچھ قوتوں کو پاکستان اور چین کے درمیان تعاون، تعلقات اور دوستی کھٹکتی ہے اور دونوں ممالک علاقائی تعاون و ترقی کے لیے یکساں طور پر آگے بڑھ رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں