33

سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف جمعہ کو ملک بھر میں یوم احتجاج، 3 نومبر کو مرکز القادسیہ میں آل پارٹیز کانفرنس ہوگی:ملی یکجہتی کونسل

لاہور (پاکستان اپ ڈیٹس)سپریم کورٹ کی طرف سے توہین رسالت کی مجرم آسیہ کی رہائی کے فیصلے پر دینی جماعتوں کی طرف سے مشترکہ ردعمل کے لیے ملی یکجہتی کونسل کے منصورہ میں ہونے والے ہنگامی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف جمعہ کو ملک بھر میں یوم احتجاج منایا جائے گا اور 3 نومبر کو مرکز القادسیہ میں آل پارٹیز کانفرنس ہوگی جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا ۔ اجلاس میں 15 دینی جماعتوں کے 35 نمائندوں نے شرکت کی ۔ اس موقع پر پروفیسر عبدالرحمن مکی ، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ، مولانا عبدالمالک ، امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب امیر العظیم ، امیر حمزہ ، سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی قیصر شریف اور مختلف دینی جماعتوں کے مرکزی رہنما بھی موجود تھے ۔ اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ملی یکجہتی کونسل صاحبزادہ ابوالخیر ڈاکٹر محمد زبیر اور سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہاکہ ملک بھر میں ہونے والے شدید احتجاج کے بعد حکمرانوں کو سمجھ جاناچاہیے کہ قوم تحفظ ناموس رسالت کے مسئلہ پر متحد ہے اور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ عمران خان نے گھمنڈ میں مبتلا ہوکر جو دھمکیاں دیں اور عاشقان مصطفی کے متعلق جو توہین آمیز رویہ اختیار کیا ہے اگر اس کے نتیجہ میں کوئی بھی اشتعال پھیلا تو اس کی ذمہ داری وزیراعظم پر ہوگی ۔ وزیراعظم دین اور عشق مصطفی سے نہ ٹکرائیں اور ہوش کے ناخن لیں ، پاکستان عاشقان مصطفی کا ملک ہے یہاں کسی لبرل اور سیکولر حکمران کی کوئی گنجائش نہیں ۔ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہاکہ آئین کی رو سے چیف جسٹس اور توہین رسالت کی مرتکب آسیہ کو رہا کرنے والے بنچ میں شامل دیگر ججز اپنے منصب کے اہل نہیں رہے ۔ ہمار ا مطالبہ ہے کہ ایک جوڈیشل کمیشن بنا کر ان کی اہلیت کے بارے میں فیصلہ کیا جائے ۔ انہوں نے وزارت مذہبی امور سے تحفظ ناموس رسالت سیل کو ختم کرنے کی بھی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ تحفظ ناموس رسالت سیل کو دوبارہ بحال کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ آج تک توہین رسالت کے کسی مجرم کو سزا نہیں دی گئی جس سے ثابت ہوتاہے کہ ہماری عدالتیں بھی مغربی سامراج ، امریکہ اور برطانیہ کے دباﺅ میں فیصلے کرتی ہیں اور کسی آئین اور قانون کی پابند نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ جن مجرموں کی اپیلیں خارج ہوچکی ہیں ان کی سزاﺅں پر عمل درآمد میں کون سا امر مانع ہے ؟
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہاکہ سپریم کورٹ کے ٹیکنیکل وجوہات پر سنائے گئے فیصلے کی کوئی اہمیت نہیں ،یہ فیصلہ ٹرائل اور ہائی کورٹ کے فیصلے کے برعکس ہے اور دستور پاکستان کی کھلم کھلا مخالفت ہے ۔ اس فیصلے سے کروڑوں عاشقان مصطفی کی دل آزاری ہوئی اور وزیراعظم نے اپنے خطاب میں ان کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے ملک بھر میں اضطراب ہے، اسلامی نظریاتی مملکت میں رہنے اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے عوام صدمہ کی کیفیت میں ہیں ،یہی وجہ ہے کہ لوگ لاکھوں کی تعداد میں متحد ہو کر ملک بھر میں سڑکوں پر نکلے ہیں ، ہم ان کے جذبہ کی تحسین کرتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ متحدہ مجلس عمل ملک کی تمام دینی جماعتوں کا نمائندہ پلیٹ فارم ہے ۔ تمام دینی جماعتیں ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کے حوالے سے یکساں موقف رکھتی ہیں ۔ اجلاس میں مشترکہ اعلامیہ منظور کیا گیا جس میں کہا گیاہے کہ ملی یکجہتی کونسل کا یہ اجلاس توہین رسالت کی مجرمہ آسیہ ملعونہ کے سلسلہ میں ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کے بالکل برعکس سپریم کورٹ کے بریت کے فیصلہ کو انتہائی مایوس کن قرار دیتاہے۔ یہ فیصلہ آئین پاکستان کی اسلامی دفعات اور قرارداد مقاصد کی کھلم کھلا نفی اور قرآن وسنت کی تعلیمات کی واضح مخالفت ہے ۔ یہ فیصلہ اس پس منظر میں آیا ہے کہ پہلے یورپین یونین ، پوپ پال اور ملکی وغیرملکی سیکولر ولبرل این جی اوز کی طرف سے ناموس رسالت کے قوانین کے خاتمے کی ناپاک مہم چلائی گئی اور اسی طرح آسیہ ملعونہ کی رہائی کے لیے دباﺅ مسلسل جاری تھا۔ عاشقان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی دل آزاری اور ان کے زخموں پر نمک پاشی کی یہ بدترین مثال ہے کہ 31اکتوبر 1929ءکو عاشق رسول غازی علم الدین شہید کو سزائے موت دی گئی تھی۔ جبکہ آسیہ ملعونہ کی رہائی کے لیے دانستہ 31اکتوبر کی ہی تاریخ منتخب کی گئی۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ میں ناموس رسالت کے قوانین کو یکسر نظر انداز کرکے ٹیکینکل وجوہات کو اہمیت دی گئی ہے۔ گویا کہ عالمی دباﺅ پر اور مغربی قوتوں کو خوش کرنے کے لیے ٹیکینکل وجوہات تلاش کی گئی ہیں۔ جبکہ چند روز قبل یورپی یونین کی ایک عدالت کی طرف سے نبی کریم ﷺکی توہین کے معاملات کو انسانی حقوق کے نام پر تحفظ نہیں دیاجاسکتا ۔ اجلاس عاشقان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فوری ردعمل کے طور پر سڑکوں پر نکل آنے کی تحسین کرتاہے۔ عوام کی طرف سے یہ ردعمل عشق رسالت کے جذبے کی ایک قابل قدر مثال ہے ۔ اجلاس وزیراعظم پاکستان کی طرف سے سے عاشقان مصطفی ﷺ کو ایک مختصر ٹولہ کہہ کر تضحیک اڑانے کی مذمت کرتاہے۔ اور وزیراعظم پر واضح کرتاہے پاکستان کابچہ بچہ عشق رسالت پر کٹ مرنے کے لیے تیار ہے۔ اور وہ ریاستی طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر دھمکیاں دینے کا سلسلہ بند کردیں ۔ ان کی یہ تقریر جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے ۔ اجلاس کی طرف سے دو نومبر2018ءجمعة المبارک کویوم تحفظ ناموس رسالت قرار دیا گیاہے اور ملک گیر احتجاج اور ہڑتال کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ علمائے کرام آئمہ حضرات اپنے خطبات جمعہ میں ناموس رسالت کی اہمیت بیان کریں گے ۔ عاشقان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اوراسلامیان پاکستان نماز جمعہ کے بعد مساجد کے باہر اور پبلک مقامات پر احتجاج کریں ۔ملی یکجہتی کونسل نے عاشقان مصطفی ﷺ سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنا احتجاج پر امن اور قانون کے دائرہ میں رہ کر کریں اور عوام بالخصوص مسافروں کی مشکلات کو مدنظر رکھیں۔اجلاس میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ بھی کیاگیا ہے۔اس سلسلے میں تمام جماعتوں اور قائدین سے رابطے کیے جارہے ہیں /قومی جماعتوں کے قائدین سے بھی رابطہ کیاجائے گا۔ اجلاس نے اپیل کی ہے کہ دینی جماعتیں /قومی یکجہتی ، ملی اتحاد برقرار رکھیں /ہر وہ سازش جو اتحاد اُمت کو پارہ پارہ کرے اسے ناکام بنادیاجائے۔ اجلاس کے مطابق چیف جسٹس اور بنچ کے دیگر جج اب آئین کے مطابق اپنے منصب کے اہل نہیں رہے از خود مستعفی ہوجائیں ۔ اگروہ خود مستعفی نہ ہوں توا ن کے بارے میں جوڈیشل کونسل فیصلہ کرے۔ آسیہ ملعونہ کانام ای سی ایل میں ڈالاجائے۔ اجلاس میں طے کیاگیاہے کہ نامور وکلاءاور ماہرین قانون کا اجلاس بلایا جائے گا۔ جس میں آئین پاکستان اور قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا تجزیہ کیاجائے گا۔ اسی طرح تمام مکاتب فکرکے نامور مفتیان کرام کاجلاس بھی بلایاجائے گا۔ مشائخ عظام و پیران کرام کے کنونشن کاانعقاد بھی ہوگا۔اجلاس وزارت مذہبی امور میں قائم شدہ تحفظ ناموس رسالت ﷺسیل کے خاتمے کی بھی مذمت کرتاہے۔ اس سیل میں ریسرچ اسکالرز کام کررہے ہیں اور اس سیل نے 55ایسی ویب سائٹس بند کی تھیں۔ حکومت غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل اور لبرل و سیکولر طبقے پر خوش کرنے کے لیے ہر حد کو عبور کررہی ہے۔ حکومت پاکستان واضح کرے کہ توہین رسالت کیسز میں جن مجرمان کی تمام اپیلیں خارج ہوچکی ہیں ان کی سزا پرعمل درآمد کیوں نہیںکیاگیا۔کیا یہ ریاست پاکستان کے آئین و قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی نہیں ہے۔ ان مجرمان کی سزاﺅں پر عمل درآمد کیاجائے۔اجلاس متنبہ کرتاہے کہ ماضی میں بھی جس حکومت نے دینی اقدار اور عشق رسالت کے جذبات سے ٹکرانے کی جسارت کی ہے۔ اسے منہ کی کھانی پڑی ہے۔ ان کا اقتدار اللہ کی گرفت میں آیاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں