33

جمعیت علمائے اسلام (س) کے امیر مولانا سمیع الحق قاتلانہ حملے میں شہید

راولپنڈی(پاکستان اپ ڈیٹس) مولانا سمیع الحق کی موت سینے پر لگنے والے چاقو سے ہوئی، حملے کی اطلاع گھر پر کام کرنے والے ملازم نے دی۔جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق قاتلانہ حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔مولانا سمیع الحق پر چاقو سے حملے کی اطلاع ان کے گھریلو ملازم نے دی اور پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں بتایا کہ میں گھر سے باہر سامان لینے گیا ہوا تھا واپس آیا تو مولانا سمیع الحق کے سینے پر چاقو لگایا ہوا تھا، مولانا سمیع الحق کو زخمی حالت میں ہسپتال لے جایا جا رہا تھا کہ وہ دم توڑ گئے۔ ذرائع کے مطابق مولانا سمیع الحق کے گارڈ گھر کے باہر موجود تھے لیکن وہ لاعلم ہیں کے کون اندر آیا اور کس نے حملہ کیا؟ پولیس نے ملازمین کو تفتیش کیلئے حراست میں لے لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وقوعہ کے وقت مولانا سمیع الحق گھر پر ڈرائیور اور ایک ملازم کے ساتھ رہ رہے تھے، ان کا ملازم پانی لینے گھر سے باہر گیا تھا ملازم گھر واپس آیا تو مولانا سمیع الحق خون میں لت پت باتھ روم میں گرے ہوئے تھے، مولانا سمیع الحق کے ملازم نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کی ایمبولنس سروس کو اطلاع دی۔ مولانا سمیع الحق 18 دسمبر 1937ء کو اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے، انہوں نے دارالعلوم حقانیہ سے دینی تعلیم حاصل کی، وہ 1985ء سے 1997ء تک سینیٹر بھی رہے۔ گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الحمان نے کہا کہ یہ ایک انتہائی سفاکانہ اقدام ہے، اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، اللہ ان سفاکوں کو اپنی قوت سے سزا دے۔ انہوں نے حکومت سے بھی اپیل کی کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں