23

مولانا سمیع الحق قاتلانہ حملے میں شہید؛صدر ، وزیر اعظم اور دیگر کا اظہار افسوس

راولپنڈی(پاکستان اپ ڈیٹس)جمعیت علمائے اسلام (س)کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو نامعلوم افراد نے تھانہ ایئرپورٹ کی حدود میں واقع ان کے نجی ہاﺅسنگ سکیم میں واقع گھر میں گھس کر چاقوکے پے درپے وار کر کے شہید کردیا ،مولانا کی میت کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کردیا گیا ، مولانا کے بیٹے حامد الحق نے ان کی شہادت کی تصدیق کردی ۔ تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (س)کے امیر مولانا سمیع الحق راولپنڈی میں گلریز کے علاقے میں ایک نجی ہاﺅسنگ سوسائٹی سفاری ولاز میں قیام پذیر تھے ۔اس دوران نامعلوم چاقو بردار افراد نے گھر میں گھس کر ان پر حملہ کردیا ، چاقوﺅں کے پے در پے واروں سے وہ شدید زخمی ہوگئے ، ان کے سینے ، چہرے اور کندھوں پر چاقوﺅں کے متعدد نشانات تھے۔ان کو شدید زخمی حالت میں سفار ی ہسپتال لایا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ جبکہ ان کے گھر کے ایک ملازم نے بتایا کہ وہ سودا سلف لانے بازار گیا ہوا تھا تاہم جب واپس آیا تو مولانا سمیع الحق کو شدید زخمی حالت میں پایا۔ ان کے جسم پر چاقوﺅں کے متعدد نشانات تھے۔مولانا سمیع الحق کے قریبی ساتھی اور واقعے کے وقت ان کے ساتھ موجود مولانا احمد شاہ نے امیر جمعیت علمائے اسلام (س ) کی موت کی تصدیق کردی ۔مولانا احمد شاہ نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مولانا سمیع الحق جمعہ کو ہی نوشہرہ سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے علاقے کے سنگم پر واقع نجی ہاﺅسنگ سوسائٹی کے فیز سفاری ون آئے تھے اور حملے کے وقت سوسائٹی کے اندر ہی موجود تھے کہ چند نامعلوم افراد نے مولانا پر چاقوﺅں سے حملہ کردیا ، انہیں فوری طور پر قریبی نجی ہسپتال پہنچایا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔جے یوآئی (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے مولانا حامد الحق نے کہا کہ مولانا سمیع الحق پر گھر کے اندر حملہ کیا گیا۔ عصر کے بعد وہ گھر پر آرام کررہے تھے۔ ان پر چھری سے وار کیے گئے۔ ڈرائیور اور گن مین باہر گئے تھے اور جب واپس آئے تو مولانا سمیع الحق خون میں لت پت پڑے تھے۔واضح رہے کہ مولانا سمیع الحق مذہبی اسکالر، عالم اور سیاست دان تھے۔ وہ دار العلوم حقانیہ کے مہتمم اور سربراہ اور دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین تھے۔ وہ متحدہ مجلس عمل کے بانی رکن اور پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ)کے رکن بھی رہے۔

مولاناسمیع الحق کی حالات زندگی پر طائرانہ نظر

مولانا سمیع الحق 18 دسمبر 1937 میں اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے، ایک پاکستانی مذہبی اسکالر اور سیاست دان تھے، وہ دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم اور سربراہ تھے، مولانا صاحب دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین اور جمعیت علما اسلام (س)کے امیر تھے۔مولانا سمیع الحق سینیٹر بھی رہے اور متحدہ دینی محاذ کے بانی تھے جو پاکستان کے چھوٹے مذہبی جماعتوں کا اتحاد ہے جو انہوں نے 2013 کے انتخابات میں شرکت کرنے کے لیے بنائی تھی۔ مولانا سمیع الحق کے والد کا نام مولانا عبدالحق تھا، انہوں نے 1946 میں دارالعلوم حقانیہ میں تعلیم شروع کی جس کی بنیاد ان کے والد نے رکھی تھی وہاں انہوں نے فقہ اصول فقہ، عربی ادب اور حدیث کا علم سیکھا ان کو عربی زبان پر عبور حاصل تھا لیکن ساتھ ساتھ قومی زبان اردو اور علاقائی زبان پشتو میں بھی کلام کرتے تھے۔افغانستان کے حالات پر کردار کے بارے میں دیکھاجائے تو پتہ چلتاہے ،مولانا سمیع الحق افغانستان میں طالبان کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کی کھلے طور پر حمایت کرتے تھے، انہوں نے ایک موقع پر کہا تھا کہ صرف ایک سال میں سارے افغانستان کو خوشحال بناسکتے ہیں، یہ آزادی کے لیے ایک جنگ ہے اور یہ تب تک ختم نہیں ہوگی جب تک بیرونی لوگ چلے نہ جائیں۔چند ماہ قبل بھی افغان حکومت کی جانب سے مولانا سمیع الحق کو طالبان سے مذاکرات کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کی ہدایت کی گئی تھی تاہم انہوں نے افغان حکام سے معذرت کرلی تھی۔ انہوں نے ایک مشہور فتویٰ بھی دیا ،تحریک طالبان پاکستان کے پولیو کے حفاظتی قطرے پلانے کو غیر اسلامی قرار دینے پر لوگوں کو اسے اپنے بچوں کو پلانے سے روکنے پر مولانا سمیع الحق نے 9 دسمبر 2013 کو پولیو کے حفاظتی قطروں کی حمایت میں ایک فتوی ٰجاری کیا تھا۔ماضی میں ایک بار مولانا سمیع الحق نے ملا عمر کو اپنے بہترین طالب علموں میں سے ایک قرار دیا تھا اور انہیں ایک فرشتہ نما انسان کہا تھا۔

صدر اور وزیراعظم کی مذمت, واقعے کی رپورٹ طلب کرلی

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے مولانا سمیع الحق پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے ۔صدر مملکت نے مولانا سمیع الحق کی شہادت پر گہرے دکھ کا ا ظہار کیا اور کہا کہ وزیراعظم کو چین میں واقعے کی اطلاع دے دی گئی ہے۔عمران خان نے مولانا سمیع الحق کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ایک جید عالم دین اور اہم سیاسی رہنما سے محروم ہوگیا ہے۔وزیراعظم نے مولانا سمیع الحق پر حملے کے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی اور ہدایت کی کہ واقعے کی فوری تحقیقات کی جائے اور ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔
ضرور پڑھیں: غربت اور بدعنوانی سے نمٹنے میں چین کے تجربات سے سیکھنا چاہتے ہیں، عمران; چین اور پاکستان کے تعلقات کومزید تقویت ملی ہی، چینی صدر

وزیر اعلیٰ پنجاب کی مولانا سمیع الحق پر حملے کی شدید مذمت ، آئی جی پنجاب سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی
وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سربراہ جے یو آئی (س) مولانا سمیع الحق پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آئی جی پنجاب سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے مولانا سمیع الحق پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آئی جی پنجاب سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ذمہ داران جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے۔

مولانا فضل الرحمان کی سمیع الحق پر حملے کی شدید مذمت
جمعیت علماءاسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے جے یو آئی (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق پرقاتلانہ حملے کی شدید مذمت کی اور اظہار افسوس کیا۔ مولانا فضل الرحمان نے مولانا سمیع الحق پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا سمیع الحق کے انتقال پر دکھ ہوا۔

مولانا سمیع الحق کی شہادت، حکومت قاتلوں کو فی الفور گرفتار کرے، پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی بین الاقوامی سازش ہے: حافظ سعید

مولانا سمیع الحق کی شہادت پر پروفیسر حافظ سعید، نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے وطن عزیز پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی بین الاقوامی سازش کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ مولانا سمیع الحق نے پوری زندگی اسلام اور پاکستان کے دفاع کیلئے بھرپور کردارادا کیا اور جب بھی کبھی مشکل وقت پیش آیا انہوں نے ملک بھر کی سیاسی و مذہبی قیادت کو جمع کیا اور تحریک چلاتے ہوئے قوم کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیا۔ ان کا دل ہمیشہ پاکستان کیلئے دھڑکتا تھا ۔ ان کی شہادت سے صرف پاکستانی قوم ہی نہیں پوری امت مسلمہ کو شدید صدمہ پہنچا ہے۔ حافظ محمد سعید نے کہاکہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کرے اور وطن عزیز پاکستان کیخلاف گہری سازش کا پردہ چاک کیا جائے۔ انہوں نے مولانا سمیع الحق کیلئے دعائے مغفرت کی اور کہاکہ پوری پاکستانی قوم ان کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے مولانا سمیع الحق کے لواحقین اور کارکنان کیلئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔

خون ناحق پاکستان کے استحکام اور سالمیت پر گھناؤنا وارہے:خواجہ سعد رفیق
مسلم لیگ (ن)کے سینئر رہنما و رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے مولانا سمیع الحق کی قاتلانہ حملے میں شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا سمیع الحق کا خون ناحق پاکستان کے استحکام اور سالمیت پر گھناونا وارہے،مولانا سمیع الحق جید عالم دین جمہور کے داعی اور اتحاد بین المسلمین کے علمبردار تھے،ان کی شہادت سے پاک افغان اقوام کو جوڑنے والا ایک مضبوط پل ٹوٹ گیا،ان کے قاتل اللہ کے عذاب سے نہیں بچیں گے۔جمعہ کو جمعیت علماءاسلام (س)کے سربراہ مولانا سمیع الحق پر قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہونے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹر پیغام میںسابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مولانا سمیع الحق دارلعلوم حقانیہ کی عظیم تاریخی دینی و سیاسی رویات کے آمین تھے،ان کی شہادت سے پیدا ہونیوالا خلا مدتوں پر نہیں ہو سکے گا،مولانا نے فروغ دین اسلام ، جمہور و آئین پاکستان کی سربلندی اور ملی اتحاد کےلئے تاریخی خدمات سرانجام دیں،مولانا سمیع الحق کا خون ناحق پاکستان کے استحکام اور سالمیت پر گھناو¿نا وار ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا سمیع الحق جید عالم دین جمہور کے داعی اور اتحاد بین المسلمین کے علمبردار تھے،مولانا سمیع الحق نے ہمیشہ امن اور مکالمے کی حمایت کی۔انہوں نے کہا کہ مولانا سمیع الحق کے قتل پرہر شخص سوگوار اور صدمے کی حالت میں ہے،ان کے قاتل اللہ کے عذاب سے نہیں بچیں گے،ہم سب برادرم حامد الحق اور ان کے اھل خانہ و احباب کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں،ان کی شہادت سے پاک افغان اقوام کو جوڑنے والا ایک مضبوط پل ٹوٹ گیا ،ان پر حملے کےلئے ایسا وقت چنا گیا جب ملک میں مذہبی کشیدگی عروج پر ہے،اللہ کریم ان کی مغفرت فرمائیں اور درجات کو بلند تر کریں، آمین۔

مولانا سمیع الحق شہید ایک عظیم علمی محقق ومدبر انسان تھے: صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان

مولانا سمیع الحق شہید ایک عظیم علمی محقق ومدبر انسان تھے،پاکستان کے مدارس دینیہ کے حوالہ سے ھمہ وقت ایک فکر رکھنے والے انتہائی دوراندیش عالم دین تھے،مولانا مرحوم نے سالوں حکومتی ایوانوں میں ھمیشہ مدارس و دینی افکار کی ترجمانی کاحق ادا کیا،وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نے واقعہ کی اطلاع ملتے ھی مولانا مرحوم کے بھائی اور وفاق المدارس کے نائب صدر مولانا انوار الحق حقانی سے اس اندوھناک سانحہ کی تفصیلات معلوم کیں،صدر وفاق المدارس نے مولانا کی المناک شہادت کو افسوس ناک سانحہ قرار دیتے ھوے کہا کہ ان کی شخصیت اور ان کی دینی خدمات کو ھمیشہ تاریخ میں یاد رکھا جاے گا۔ صدر وفاق نے کہا کہ موجودہ حالات کے تناظر میں مولانا کو شہید کیا جانا دین و واسلام کے خلاف گہری سازش کا ساخسانہ معلوم ھورھا ھے،پاکستان کے ھزاروں مدارس مولانا کی درجات کی بلندی کے لے خصوصی دعاؤں کا اھتمام کریں،صدر وفاق المدارس نے حکومت اور ریاستی اداروں سے فوری طور پہ قاتلوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ مولانا سمیع الحق کی شہادت کو بدترین سازش قرار دیتے ھوئے حکومت سے فی الفور قاتلوں کو گرفتار کر کے سازش کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ مولانا سمیع الحق کی شہادت قومی سانحہ ہے,مولانا کی دینی و ملی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی,مولاناسمیع الحق کی شہادت کا سانحہ پوری ملت کے لیے افسوس ناک ہے,مولانا کی شہادت کی غیر غیرجانبدارانہ اورمنصفانہ تحقیقات کروائی جائیں,مولانا کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے,اگر اس سے قبل شہید کیے گئے علما کرام کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا تو آج ایک اور قومی لیڈر کی شہادت کا سانحہ پیش نہ آتا ان خیالات کا اظہار وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے قائدین مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر,مولانا انوار الحق, مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی اور مولانا محمد حنیف جالندھری نے مولانا سمیع الحق کی المناک شہادت کی اطلاعات پر اپنے ایک بیان میں کیا- وفاق المدارس کے قائدین نے مولانا سمیع الحق کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے قومی سانحہ قرار دیا-انہوں نے کہا مولانا کی دینی,تعلیمی اور ملی خدمات مدتوں یاد رکھی جائیں گی-وفاق المدارس کے قائدین نے مولانا کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شہادت کے سانحہ کی آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات کروا کر حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں-وفاق المدارس کے قائدین نے کہا کہ اگر اس سے قبل شہید کیے گئے علما کرام کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا تو آج ایک اور سانحہ کی نوبت نہ آتی-

سراج الحق کا مولانا کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے مولانا سمیع الحق کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا سمیع الحق کی شہادت نے سیکیورٹی صورتحال کی قلعی کھول دی ہے سانحہ کے پیش نظر سینیٹر سرا ج الحق نےکل 3نومبر کو منصورہ میں ہونے والا جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ملتوی کردیاہے ۔مولانا سمیع الحق کی شہادت سے ملک و قوم ایک مدبر سیاستدان اور جید عالم دین سے محروم ہوگئے ہیں۔مولانا سمیع الحق نے پوری زندگی غلبہ دین کیلئے جدوجہد کی۔مولانا سمیع الحق کی دینی و سیاسی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔سینیٹر سراج الحق نے عوام سے پر امن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جاسکے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت مولانا سمیع الحق کو شہید کرنے والے دہشت گردوں کو فوری گرفتار کرے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ مولانا سمیع الحق کی شہادت کسی گہری سازش کا شاخسانہ ہے ۔ سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے بھی مولانا سمیع الحق کے بہیمانہ قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہا ران کی دینی و سیاسی خدمات کو سراہا ہے ۔دریں اثنا امیر جماعت اسلامی سینیٹر سرا ج الحق نے آج 3نومبر کو منصورہ میں ہونے والا جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ملتوی کردیاہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں