49

دہشت گردبھارتی فورسز اہلکار منظم منصوبہ بندی کے تحت حریت رہنماﺅں کی ٹارگٹ کلنگ کر رہے ہیں: پروفیسر حافظ محمد سعید

لاہور(پاکستان اپ ڈیٹس )امیر جماعةالدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے حریت کانفرنس مقبوضہ کشمیر کے مرکزی رہنما میر حفیظ اللہ کے بھارتی فوج کے ہاتھوں بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردبھارتی فورسز اہلکار منظم منصوبہ بندی کے تحت حریت رہنماﺅں کی ٹارگٹ کلنگ کر رہے ہیں۔ مودی سرکار کی شہ پر سرگرم کشمیری رہنماﺅں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔نہتے کشمیریوں کی نسل کشی کے ذریعہ بھارت جدوجہد آزادی کچلنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ حکومت پاکستان حریت رہنماﺅں کی ٹارگٹ کلنگ کا مسئلہ بین الاقوامی دنیا کے سامنے اٹھائے اور بھارتی دہشت گردی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ بھارت ایک طرف تحقیقاتی ادارے این آئی اے کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور حریت رہنماﺅں پر جھوٹے مقدمات بنا کر نئی دہلی کی جیلوں میں ڈالا جارہا ہے۔ حال ہی میں دختران ملت جموں کشمیر کی سربراہ سید ہ آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی پر بے بنیاد فرد جرم عائد کی گئی ہے تو دوسری جانب سرگرم کشمیری رہنماﺅں کی ٹارگٹ کلنگ بھی شروع کر دی گئی ہے۔ بھارتی حکومت اور عسکری ماہرین مقبوضہ کشمیر میں بھرپور انداز میں جاری تحریک آزادی سے سخت بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حریت قائدین کی نظربندیوں، جیلوں میں ڈالنے اور انہیں شہید کرنے کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔ حافظ محمد سعید نے کہاکہ بھارت سرکار آٹھ لاکھ فوج کے ذریعہ کشمیر میں دہشت گردی اور ظلم و بربریت کی نئی تاریخ رقم کر رہی ہے۔نہتے کشمیریوں کیخلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کئے جارہے ہیں اور پیلٹ گن جیسے ممنوعہ ہتھیاروں کے ذریعہ معصوم کشمیری بچوں اور نوجوانوں کی بینائی چھینی جارہی ہے۔ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان اپنا فریضہ اداکرتے ہوئے بھرپور سفارتی مہم چلائے اور انڈیا کی دہشت گردی کو اقوام متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی فورمز پر بے نقاب کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری مسلمان پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے شہادتیں پیش کر رہے ہیں۔ پاکستانی قوم بھی کسی طور انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔ ہر پاکستانی دل و جان سے اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کی لازوال قربانیوں کے نتیجہ میں جلد غاصب بھارت کو جنت ارضی کشمیر سے غاصبانہ قبضہ ختم کر کے نکلنا پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں