193

ہمارا دشمن پاکستان کو ایک ناکام ریاست بنانا اور ترقی سے محروم رکھنا چاہتاہے: سینیٹر سراج الحق

ٹیکسلا (پاکستان اپ ڈیٹس)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ حکومت بڑے بڑے دعوے کرنے اور نان ایشوز کو ایشو بنا کر شہرت حاصل کرنے کی بجائے ملک میں امن و امان قائم کرنے کی طرف توجہ دے ۔ حکومت ایسے معاملات میں الجھ گئی ہے جس کا ملک و قوم کو کوئی فائدہ نہیں ۔چند دنوں کے اندر دہشتگردی کے واقعات کے تسلسل نے قوم کو تشویش میں مبتلا کردیاہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے ٹیکسلا میں جامع مسجد فیض الاسلام کے افتتاح کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی راولپنڈی شمس الرحمن سواتی بھی موجود تھے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ہمارا دشمن پاکستان کو ایک ناکام ریاست بنانا اور ترقی سے محروم رکھنا چاہتاہے ۔ کراچی میں چینی قونصلیٹ پر دہشتگردوں کے حملے اور ہنگو بم دھماکے سے ثابت ہوتاہے کہ تما م تر دعوﺅں کے باوجود سیکورٹی کی صورتحال اطمینان بخش نہیں اور سیکورٹی میں بڑی بڑی دراڑیں موجود ہیں ۔طاہر داوڑ کا اغوا کے بعد قتل ، ہنگو بم دھماکہ ، مولانا سمیع الحق کی شہادت جو وفاقی حکومت کی ناک کے نیچے ہوئی ، اور چائینہ قونصلیٹ پر حملہ ایسے واقعات ہیں جن پر خاموش تماشائی بن کر نہیں رہا جاسکتا ۔ یہ واقعات تمام سیکورٹی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں ۔ سیکورٹی تھریٹ کا مقابلہ پوری قوم کو کرنا ہوگا ۔ انہوںنے کہاکہ کراچی میں دہشتگردی کا ایک بڑا مقصد سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کر کے ملک سے بھگانا ہے ۔ اس واقعہ سے ایک غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں اداروں کی بالادستی اور قانون کا احترام ہو اور عوام کے وسائل کو عوام پر خرچ کیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ حکومت وی آئی پی کلچر کے خاتمہ کے اپنے اعلان پر بھی عمل نہیں کر سکی جس طرح سابقہ حکمران بڑی بڑی گاڑیوں کے سکواڈ میں پھرتے تھے اسی طرح موجودہ حکومت کے وزیر مشیر پھر رہے ہیں ۔ موجودہ اور سابقہ حکمرانوں کے پروٹوکو ل میں رتی بھر کا فرق نہیں ۔ حکومت نے آتے ہی مہنگائی کا ایک طوفان کھڑا کیا جس نے طالبعلم سے لے کر پرنسپل تک اور مزدور سے کارخانہ دار تک سب کو متاثر کیا ۔ اوورسیز پاکستانیوں کے گھروں کا گزارہ بھی مشکل ہوچکاہے انہوںنے کہاکہ حکومت عام آدمی کی مشکلات میں کمی کی بجائے اضافہ کر رہی ہے
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے سے قبل قوم سے بڑے بڑے وعدے کیے تھے ۔ وزیراعظم نے ملک بھر کے سینئر صحافیوں سے کہاتھاکہ قوم مجھے صرف سو دن دے دے ، اگر ہماری پرفارمنس تسلی بخش نہ ہوئی تو بے شک تنقید کریں ، اب سو دن تقریباً پورے ہوچکے ہیں لیکن وہ اپنے اعلانات اور وعدوں کی طرف ابھی کوئی قدم نہیں اٹھاسکے ۔ حکومت نے پاکستا ن کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ میرٹ کی بالادستی اور پاکستان کو ویلیفئر ریاست بنانے کے اعلان بھی ابھی محض اعلانات ہیں ان پر عملدرآمد کی طرف حکومت کی کوئی توجہ نہیں ۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ حکومت کے پاس اپنے دعوﺅں پر عملدرآمد کے لیے نہ کوئی ہوم ورک ہے اور نہ پروگرام اور وژن ہے ۔ پتہ نہیں چل رہاکہ اختیارات کس کے پاس ہیں اور فیصلے کہاں اور کیسے ہوتے ہیں ۔ قوم چاہتی ہے کہ حکومت ڈلیور کرے اور ملک ترقی کرے ملک امن کا گہوارہ بنے ، پاکستان میں ایسی فضا ہو جس میں تھریٹ ، دھمکیوں اور گالیوں کی بجائے دلیل کی بنیاد پر بات ہو ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت نے احتساب کانعرہ لگایا تھا لیکن وہ احتساب بھی نظر نہیں آرہا۔ پانامہ لیکس میں شامل 436 افراد کے خلاف اب تک کوئی کاروائی نہیں ہوئی ۔ سپریم کورٹ اور نیب میں قرضے لینے والوں کی لسٹیں موجود ہیں مگر ان کے خلاف بھی کاروائی نہیں ہوئی ۔ انہوں نے کہاکہ نیب پر خرچ زیادہ ہورہاہے اور ریکوری کم ہے ۔ 150 میگا سکینڈل جوں کے توں پڑے ہیں ان کی طرف کسی کی توجہ نہیں
دریں اثنا سینیٹر سراج الحق اور سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کراچی میں چینی قونصلیٹ پر دہشتگردوں کے حملہ اور ہنگو بم دھماکہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ دشمن سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لیے دہشتگردی کر رہاہے اور معصوم شہریوں کی جانوں سے کھیل رہا ہے ۔ سینیٹر سراج الحق نے ہنگو بم دھماکہ میں جان بحق ہونے والوں کے لیے مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں