170

سیاست، بیوروکریسی ہو یا نظام تعلیم ہر جگہ اصلاح کی ضرورت ہے: فیاض الحسن چوہان سمیت نامور ماہرین تعلیم کا سیمینار سے خطاب

لاہور(پاکستان اپ ڈیٹس )صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان سمیت نامور ماہرین تعلیم نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاست، بیوروکریسی ہو یا نظام تعلیم ہر جگہ اصلاح کی ضرورت ہے۔خیبر پی کے میں ناظرہ قرآن اور ترجمہ لازمی قرار دیا گیا‘ یہی پالیسیاں پنجاب میں لائیں گے ۔ تعلیمی اداروں میں طلباءکی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنا ہو گا۔استاد صرف تعلیم کی بجائے تربیت کرنے کا بھی مجاز ہے۔قومی زبان اردو میں جب تک تعلیمی نظام نہیں آئے گا ترقی نہیں کر سکتے۔ ناموس رسالت کا تحفظ سب سے مقدس مشن ہے لیکن گالیاں دینے والا نامناسب رویہ اختیار کرنا درست نہیں ہے۔ عمران خان اور پی ٹی آئی حکومت نے وہ کام کیا جو پہلی حکومتیں نہیں کر سکیں۔ان خیالات کا اظہارانہوںنے فاﺅنڈیشن آف ایفیکٹیوایجوکیشن اینڈ لرننگ(فےل) کے تحت پنجاب یونیورسٹی کے شیخ زید اسلامک سنٹر میں تیسرے سالانہ قومی تعلیمی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار سے ڈائریکٹر فیل انجینئر نوید قمر، ممتاز دانشور اوریا مقبول جان، ڈائریکٹر ٹیچرز ڈیویلپمنٹ سنٹر عباس حسین،جامعہ کراچی فلسفہ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر عبدالوہاب سوری، ماہر تعلیم ذاکر خان، عصمت زہرا، منیر احمد راشد، محمد شعیب مرزا، میڈم دلشاد نسیم،حافظ شفیق الرحمن،عکاشہ مجاہد، فاروق حارث العباسی، عادل اسحاق،معظم ادریس، طارق حبیب و دیگر نے خطاب کیا۔ سیمینار میں سکولزاورکالجز کے اساتذہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ماہرین تعلیم نے وطن عزیزمیں درپیش تعلیمی مسائل اور ان کا حل پیش کیا۔سیمینار میںملک کے نامورماہرین تعلیم نے اپنی گفتگو کے ذریعے نظام تعلیم کے مختلف پہلوﺅں پر روشنی ڈالی اور سوالات وجوابات کی نشست کے ساتھ ساتھ اصلاحی خاکوں کے ذریعے سامعین کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلایا ۔صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے اپنے خطاب میں کہاکہ پہلی وحی تعلیم اور علم کے حوالہ سے تھی۔ اس لئے تعلیم، علم اور تعلیمی ادارہ کسی بھی معاشرہ کیلئے بہت اہم ہیں۔ماحول اور تربیت ایک ایسی چیز ہے جو منفی چیزوں کو تبدیل کر سکتی ہے۔ یہ دونوں چیزیں تعلیمی اداروں سے متعلق ہیں۔ ثابت یہ ہوا کہ انسانی زندگی تعلیم کے ذریعہ سے اور تعلیمی ماحول ، اداروں اور اساتذہ کے ذریعہ سے بنائی بھی جاسکتی ہے اور بگاڑی بھی جاسکتی ہے۔ میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں فاﺅنڈیشن آف ایفیکٹیوایجوکیشن اینڈ لرننگ کے نام سے کام کرنے والے اس ادارہ کوجس کے ذمہ داران تعلیمی اداروں کے ماحول کو بہتر بنانے کے حوالہ سے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہمارے ملک میںہر شعبہ چاہے سیاست، بیوروکریسی ہو یا تعلیمی ادارے ہوں‘ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ ناموس رسالت ، سب سے مقدس مشن ہے تاہم ایک عالم دین کا لہجہ میٹھا ہونا چاہیے۔ جسے اللہ دین کی سمجھ دے دیتا ہے اسے سب سے زیادہ نرم ہونا چاہیے۔صرف اپنی سوچ کو ہی سو فیصد درست سمجھ کر دوسروں پر زبردستی مسلط کر نا درست نہیں ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے خیبر پی کے میں تعلیمی اداروں کوبہتر بنایا ہے۔ کروڑوں روپے کی فنڈنگ پچیس لاکھ طلباءکیلئے کی گئی جو مدارس میں پڑھتے ہیں جنہیں دہشت گرد ، اچھوت اورتیسرے درجے کا سمجھا جاتا ہے۔ عمران خان اور پی ٹی آئی جن پر الزام لگائے جاتے ہیں۔ لیکن انہوںنے وہ کام کیا ہے جوسابقہ حکومتیں نہیں کر سکیں۔ہم پانچ سال پورے کریں گے تو بہت تبدیلی نظر آئے گی۔ عمران خان بھی ہماری طرح کے انسان ہیں لیکن نیت نیک ہو تو اللہ تعالیٰ راستے کھول دیتا ہے۔ فاﺅنڈیشن آف ایفیکٹیوایجوکیشن اینڈ لرننگ(فےل)کے ڈائریکٹرانجینئر نوید قمر نے کہاکہ زندگی کی دوڑ نے ہمیں ہمارے بچوں سے دور کر دیا ہے ۔ والدین کی محبت سے محروم بچے علم سے دور ہو رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ اسلام اللہ کا دین ہے،تعلیم بھی اس دین کا بہت بڑا حصہ ہے،دنیا کی اصلاح ،تعلیم و تربیت کے لئے اللہ نے نظام بنایا ہے،ماہرین تعلیم کو اس بات کو تسلیم کرنا چاہئے کہ اللہ کے بنائے ہوئے نظام سب سے اعلیٰ ہیں، ہمیںآسمانوں سے نازل ہونے والے علم کو اہمیت دینی چاہئے۔ممتاز دانشور اوریا مقبول جان نے کہاکہ پاکستان میں سکول تربیت کے لئے نہیں بلکہ کاروبار کے لئے بنائے گئے ہیں ۔ہمارے ہاں جگہ جگہ سکول کھل گئے ہیں لیکن معاشرے میں تبدیلی کیوں نہیں آئی ۔دنیا کی پانچ ہزار سالوں میں ایسا تعلیمی نظام پیش نہیں کیا گیا جو آج ہمارے ہاں چل رہا ہے ۔ڈائریکٹر ٹیچرز ڈیویلپمنٹ سنٹر عباس حسین، ڈاکٹر عبدالوہاب سوری، ماہر تعلیم ذاکر خان، عصمت زہرا، منیر احمد راشد، محمد شعیب مرزا، میڈم دلشاد نسیم،حافظ شفیق الرحمن،عکاشہ مجاہد، فاروق حارث العباسی، عادل اسحاق،معظم ادریس، طارق حبیب و دیگر نے کہا کہ وہ قوم ترقی نہیں کر سکتی جواپنی زبان کو ترجیح دینے کی بجائے کسی اور کی زبان کو ترجیح دیتا ہے۔انگریزی کی بجائے قومی زبان اردو میں نظام تعلیم لانا
ہو گا تبھی قوم ترقی کر سکے گی۔

    

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں