39

خادم حسین رضوی کو ‘حفاظتی تحویل’ میں لیا گیا ہے: وفاقی وزیر اطلاعات

لاہور(پاکستان اپ ڈیٹس )پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے مرکزی قائد خادم حسین رضوی کو سرکاری تحویل میں لے کر سرکاری مہمان خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ پولیس نے خادم حسین رضوی سمیت تحریک لبیک پاکستان کے کئی راہنماؤں اور سرگرم کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے اور ملک کے مختلف شہروں اور قصبوں میں تحریک سے وابستہ افراد کی گرفتاریاں جاری ہیں تحریک کے کارکنوں نے کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے کرنے کی کوشش کی جیسے پولیس نے ناکام بنا دیا۔ فواد چوہدری نے گرفتاری کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ خادم رضوی نے اتوار کی احتجاجی کال واپس لینے سے انکار کر دیا تھا اور لوگوں کو تشدد پر اکسانا شروع کر دیا تھا۔ جس کے بعد امن و امان برقرار رکھنے کے لیے یہ کارروائی کرنی پڑی۔ سپریم کورٹ کی جانب سے توہین مذہب کے الزام میں گرفتار آسیہ بی بی کی بریت کے بعد تحریک لبیک نے فیض آباد سمیت ملک بھر میں احتجاجی دھرنے دیے اور اس دوران سرکاری اور نجی املاک کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ احتجاج کے دنوں میں روزمرہ کے معمولات زندگی معطل رہے۔ اگرچہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں امن و امان کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت اقدام کا عندیہ دیا تھا لیکن حکومت کو دھرنا ختم کرانے کے لیے تحریک لبیک کے ساتھ ان کی شرائط پر ایک معاہدہ کرنا پڑا۔ جس میں آسیہ بی بی کا نام اس فہرست میں ڈالنا بھی شامل تھا جنہیں ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ فواد چوہدری نے ایک اور ٹویٹ میں کہا ہے کہ تحریک لبیک عوام کی جان و مال کے لیے مسلسل ایک خطرہ بن گئی ہے اور مذہب کی آڑ لے کر سیاست کر رہی ہے۔ موجودہ کاروائ کا آسیہ بی بی کے مقدمے سے کوئ تعلق نہیں ، صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے عوام پر امن رہیں اور حکام سے مکملُ تعاون کریں. تحریک لبیک کا دھرنا ختم کرانے کے لیے حکومت کے معاہدے کے بعد کئی حلقوں سے یہ سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ حکومت توڑ پھوڑ کرنے والوں اور اعلیٰ عدلیہ، شخصیات اور اداروں کے خلاف قابل اعتراض زبان استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی سے کیوں گریز کر رہی ہے؟ پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے بھی، جو ان دنوں ڈیم کے لیے فنڈز اکھٹے کرنے کی ایک مہم پر لندن میں ہیں، اسی سلسلے میں تحریک لبیک سے متعلق ایک سوال کیا گیا تھا۔ حکومتی عہدے داروں نے کہا ہے کہ وہ ملک میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں